ہے کوئی ہماری فریاد سننے والا، ہم بے بس،لاچار، بےیارومددگار، چین میں پھنسے پاکستانی طلبا کا مبشرلقمان سے ہاٹ لائن رابطہ

بیجنگ :ہے کوئی ہماری فریاد سننے والا ، ہم بے بس ، لاچار، بے یارومددگار،چین میں پھنسے پاکستانی طلبا کا مبشرلقمان سے ہاٹ لائن رابطہ ،اطلاعات کےمطابق چین سے بڑی تعداد میں پاکستانی طالب علموں کا مبشرلقمان سے رابطہ ہوا ہے جس میں ان بے بس ، لاچاراوربے یارومددگارطالب علمون ںےچین میں بگڑتی ہوئی صورت حال پرتشویش کا اظہاراوران محصور پاکستانی طلباء کی آواز حکمرانوں تک پہنچانے کی درخواست کی ہے

 

مبشرلقمان نے بڑی پریشانی سے وہان سے آنے والی تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے خبرداربھی کیا اوریہ انکشاف بھی کیا کہ پاکستانیوں کا خیال تھا کہ شاید چند چار طالب علم وہان صوبے میں رہ گئے ہیں‌ لیکن یہ اطلاعات غلط ثابت ہوئیں‌

مبشرلقمان نے اصلی صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ چار نہیں بلکہ 1300 سے زائد پاکستانی طالب علم اس وقت وہان صوبے میں‌پھنسے ہوئے ہیں، انہوں نے وہان صوبے میں پھنسے ہوئے دیگر ملکوں کے طالب علموں کے حوالے سے بھی ایک حیران کردینے والی خبر دی کہ تمام ممالک اپنے اپنے طالب علموں کو نکال رہے ہیں‌

معروف صحافی کو وہان صوبے سے غیرملکی طالب علموں نے وہاں سے نکلتے ہوئے اپنے جوجزبات کا اظہار کیا اورجوخوشی ان کے چہروں پرتھی بھیجے ہیں ، مبشرلقمان نے ان میں نیپال، بنگلہ دیش سمیت کے کئی ممالک کے طالب علموں کو ان کی حکومتوں کی طرف سے واپس اپنے اپنے ممالک میں لے کر جانے کے اقدامات کی تعریف بھی کی اور حکومت پاکستان کو تاکید کی بھی کی کہ وہ بھی اپنے بچوں کو وہان صوبے سے نکال کر وطن واپس پہنچائے

باغی ٹی وی کے مطابق مبشرلقمان نے اس موقع پر حکام سے بہت خوبصورت بات کرتے ہوئے اورجائز موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان طالب علموں کو تو وہاں سے نکالے جن کے میڈیکل ٹیسٹ نیگٹو آئے ہیں اورجن کے میڈیکل ٹیسٹ پازیٹو ہیں ان کووہاں رکھ کر ان کے علاج معالجے کا بندوبست کرے

مبشرلقمان نے اس حوالے سے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہےکہ وہ بیچارے بے بس طالب علم پاکستان میں‌ وزیروں ، مشیروں، سیاستدانوں ، صحافیوں اوردیگر اہل لوگوں تک اپنی تکلیف سے آگاہ کرچکے ہیں ،انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پاکستانی سفارتخانہ بھی بھی "ڈنگ ٹپاو” کی پالیسی پرکاربند ہے اوراپنے پاکستانی بچوں کی حالت زار پربے پرواہ ہوا بیٹھا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.