ورلڈ ہیڈر ایڈ

مقبوضہ وادی میں کرفیو کے انتالیس دن پاکستانی خواتین کیا کریں؟؟؟ تحریر خنیس الرحمن

آج وادی کشمیر میں کرفیو کو ایک ماہ سے زائد دن بیت چکے ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دیکھا عوامی سطح پر لوگوں میں کشمیریوں کے لئے تڑپ پیدا ہوئی۔کیوں نا ہوتی کشمیرتو ہماری شہ رگ ہے۔کشمیرکے بغیرتو پاکستان ہی نامکمل ہے۔کشمیر سے تو ہمیں دینی محبت ہے۔وہ اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتے ہیں اورہیں بھی تو پھر ہم کیوں نا ان کے لیے تڑپیں۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کشمیر آور منانے کا اعلان کیا اسلام آباد سے لیکر کراچی تک پورا پاکستان وزیر اعظم کی کال پر باہر نکلا۔میں نے بذات خود اس چیز کو محسوس کیاکہ سب پاکستانی مسلکی و جماعتی تعصبات سے نکل کر سڑکوں پر نکلے۔اب بھی ہمیں خاموش رہنے کی ضرورت نہیں کشمیر میں ابھی تک ایک ماہ گزرنے کے باوجود کرفیو نہیں ہٹایا گیا۔ہمیں مزید تحریک کو تیز کرنا ہوگا۔
آپ جانتے ہیں کہ ہر تحریک میں خواتین کا کلیدی کردار رہا ہے۔اگر آپ آج سے چودہ سو سال پیچھے چلے جائیں تو اسلام کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین کی آپ کو کثیر تعداد نظر آئے گی۔سمیہ بنت خباط ؓ سے لے کر اندلس کی اس بیٹی تک جس کے بارے اقبال رحمہ اللہ علیہ کچھ یوں منظر کشی فرماتے ہیں
یہ سعادت،حور صحرائی!تری قسمت میں تھی
غازیان ِدیں کی سقائی تری قسمت میں تھی
جب پاکستان بنا تو اس وقت بھی خواتین نے انگریزوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے آزادی کی بھرپورتحریک چلائی۔خواتین کے اس کارواں میں موجود مادر ملت فاطمہ جناح،بیگم محمد علی جوہر،بیگم رعنا لیاقت علی،بیگم سلمی تصدق حسین ودیگر خواتین کو آج بھی تاریخ کے اوراق میں یاد رکھا جاتا ہے۔قوم ان کی خدمات پر فخر کرتی ہے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔جیسا کہ میں پہلے بھی ذکر کرچکا ہوں پاکستان ابھی نامکمل ہے کیونکہ اس کی شہ رگ بدن سے جدا ہے۔آج کشمیر کے اندر بھی آزادی کے لیے خواتین کا کردار کسی سے مخفی نہیں۔سیدہ آسیہ اندرابی آج مردوں کے شانہ بشانہ کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کررہی ہیں۔آسیہ اندرابی صاحبہ ایک ایسے مرد مجاہد کی رفیقہ حیات ہیں جس نے اپنی آدھی زندگی سلاخوں کے پیچھے گزار دی۔آسیہ اندرابی صاحبہ نے بھی اپنی زندگی کشمیر خواتین کی اصلاح اورتحریک آزادی کے لئے وقف کر رکھی ہے۔وہ کشمیر کی سب سے متحرک تنظیم دختران ملت کو چلا رہی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ کشمیر کی تاریخ میں کئی سیاسی و دینی جماعتوں نے کروٹیں بدلیں اپنے نظریات بدلے لیکن آسیہ اندرابی صاحبہ پہلی خاتون لیڈر ہیں جو آج بھی اپنے مؤقف پر ڈٹ کر کھڑی ہیں۔وہ 6ستمبر،یوم آزادی و یوم تجدید عہد اور ہر قومی دن پر دختران ملت کے مرکزی سیکرٹریٹ میں تقریب کا اہتمام کرتی ہیں. جہاں پاکستان کا قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے. پاکستان کا پرچم لہرایا جاتا ہے. بھارت سے یہ کہاں ہضم ہوتا ہے وہ آپا آسیہ اندرابی اور ان کی قیادت کو زندانوں می ڈال دیتا ہے. لیکن وہ باہمت خاتون پیچھے ہٹنے والی نہیں, جھکنے والی نہیں ڈٹ کر کھڑی ہے. آج انہوں نے خواتین کی ایسی کھیپ تیار کرلی ہے جو ہاتھوں میں پتھر تھامے بھارتی افواج کے سامنے سینہ سپر ہے. کشمیر کی ناجانے کتنی مائیں, بہنیں اور بیٹیاں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرچکی ہیں.میں سلام پیش کرتا ہوں کشمیر کاز کے سب سے بڑے حمایتی جنرل حمید گل رح کی صاحبزادی کو جنہوں نے یہ بیڑہ اپنے سر اٹھایا ہے کہ پاکستانی خواتین کو یہ پیغام دیا ہے اگر کشمیر کی بیٹی کرفیو میں نکل سکتی ہے, اگر کشمیری ماں بھارتی فوج کے خوف کے باوجود باہر نکل سکتی تو پاکستان کی ماں, بہن اور بیٹی کیوں نہیں نکل سکتی. جنرل حمید گل رح کی صاحبزادی عظمٰی گل صاحبہ نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ میری سب مائیں اور بہنیں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے 13 ستمبر کو 4 بجے ڈی چوک پہنچیں. میں سمجھتا ہوں پاکستان کی ہر بہن, بیٹی اور ماں کو ان کی خاطر نکلنا ہوگا جن کو پاکستان کی آواز اٹھانے پر پابند سلاسل کردیا جاتا ہے .ہم نکل کر دنیا کو یہ پیغام دیں کہ ہماری مائیں اور بہنیں کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور دنیا واقعی دیکھے کہ جاگ اٹھا ہے پاکستان…!

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.