fbpx

پاکستانیوں کیجانب سے سجل اور احد رضا میر کی ویب سیریز پر پابندی کا پُرزورمطالبہ

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور وہاں 2019 میں ہونے والے پلوامہ حملے کے تناظر میں بنائی جانے والی ویب سیریز ‘دھوپ کی دیوار’ کا ٹریلربھارتی اسٹریمنگ چینل زی فائیو کے یوٹیوب چینل پر 15 جون کو ریلیز کیا گیا تھا۔

باغی ٹی وی : تاہم یہ ویب سیریز 25 جون کو بھارتی اسٹریمنگ پلیٹ فارم زی فائیو پر ریلیز ہورہی ہے معروف ڈراما اور ناول نگار عمیرہ احمد کی تحریر کردہ کہانی پر بنی ویب سیریز ‘دھوپ کی دیوار’ کی ہدایات حسیب حسن نے دی ہیں۔

جبکہ اس میں پاکستان کی مقبول ترین شوبز جوڑی احد رضا میر اور سجل علی مرکزی کردار ادا کررہے ہیں لوگوں کو احد رضا میر اور سجل علی کے اس پراجیکٹ کا شدت سے انتظار تھا کیونکہ دونوں بہت عرصے بعد کسی پروجیکٹ میں ایک ساتھ نظر آرہے ہیں۔

تاہم ٹریلر ریلیز ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر اس ویب سیریز کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ یہاں تک کہ ٹوئٹر پر سوشل میڈیا صافین کی جانب سے ’دھوپ کی دیوار‘ پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔

حقیقی واقعات سے متاثر ہوکر بنائی گئی ویب سیریز کی کہانی پاکستان اور بھارت کے 2 خاندانوں کے گرد گھومتی ہے ویب سیریز میں دراصل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی خلاف ورزیوں پر شہید ہونے والے اہلکاروں کے خاندان کے درد کو سامنے لانے کی ایک کوشش ہے۔

ویب سیریز میں احد رضامیر ایک ہندو لڑکے کا اور سجل علی ایک مسلمان لڑکی کا کردار ادا کررہی ہیں۔ دونوں کے والد سرحد پر ہونے والی کشیدگی کے نتیجے میں مارے جاتے ہیں۔ جس کے بعد دونوں میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کرتے نظرآتے ہیں۔ تاہم آہستہ آہستہ ان دونوں کرداروں کی دشمنی کو دوستی اور پسندیدگی میں تبدیل ہوتے دکھایا گیا ہے اور وہ یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی ان ممالک میں رہنے والے لوگوں کی باہمی لڑائی نہیں ہے۔

"عمیرہ احمد، دھوپ کی دیوار، ISPR” ایشو کیا ہے؟؟ محمد عبداللہ

ٹریلر میں مزید دکھایا گیا ہے کہ دونوں گھنٹوں ایک دوسرے سے انٹرنیٹ اور فون پر بات کرتے ہیں اور اپنے اپنے گھروالوں سے ایک دوسرے کا دفاع بھی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن دونوں کو ہی گھروالوں کی کڑواہٹ کا نشانہ بننا پڑتا ہے تاہم سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس ویب سیریز پر کئی اعتراض اٹھائے ہیں۔


لوگوں کا کہنا ہے کہ ویب سیریز میں لڑکا ہندو اور لڑکی کو مسلمان کیوں دکھایا گیا ہےعمیرہ احمد نے اس ویب سیریز میں مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کو فراموش کردیا ہے صارفین کا کہنا ہے کہ اس ویب سیریز میں انہوں نے دو قومی نظریے کو نظر انداز کیا ہے جو کہ دراصل پاکستان کے قیام کی وجہ بنا کچھ سوشل میڈیا صارفین نے’دھوپ کی دیوار’ کو پاکستانی قوم، ملک، مذہب کے خلاف اور اسے لکھنے کو غداری قرار دیا-


سوشل مٰیڈیا پر صارفین کی تنقید اور اعتراضات کے بعد عمیرہ احمد نے ایک طویل وضاحتی بیان میں تمام اعتراضات کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔

عمیرہ احمد نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ویب سیریز ‘دھوپ کی دیوار’ سے متعلق بیان جاری کیا اور اپنی پوسٹس کے کیپشن میں لکھا کہ ٹریلر ریلیز کیے جانے کے بعد سے ‘دھوپ کی دیوار’ کے بارے میں عام طور پر اور بالخصوص عمیرہ احمد کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے۔

پوسٹ میں کہا گیا کہ ‘عمیرہ احمد نے اس حوالے سے اٹھائے گئے تمام اعتراضات کا جواب دے دیا ہے، امید ہے کہ اس سے بہت سی چیزیں واضح ہوجائیں گی طویل وضاحتی بیان میں عمیرہ احمد نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسی بھارتی چینل کے لیے نہیں لکھا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ‘دھوپ کی دیوار’، ‘الف’، ‘ایک جھوٹی لو اسٹوری’ ایک ساتھ 2018 میں گروپ ایم کے ساتھ سائن کیے تھے جو ایک پاکستانی کانٹینٹ کمپنی ہے اور اسی کمپنی کے ساتھ انہوں نے پاک بحریہ کے لیے بنائی جانے والی ٹیلی فلم ‘لعل’ بھی سائن کی تھی۔

احد رضا اور سجل علی کی ویب سیریز”دھوپ کی دیوار” کا ٹریلر ریلیز

عمیرہ احمد نے بتایا کہ گروپ ایم نے 2 پراجیکٹس ‘الف’ اور ‘لعل’ نجی ٹی وی چینل جیو جبکہ دیگر 2 پراجیکٹس ‘ایک جھوٹی لو اسٹوری’ اور ‘دھوپ کی دیوار ‘ کو زی فائیو، نیٹ فلیکس سمیت بین الاقوامی پلیٹ فارمز کو بیچنے کی کوشش کی اور زی فائیو کی دلچسپی کی وجہ سے انہیں بیچ دیئے گئے رائٹر کی لکھی ہوئی چیز کہاں نشر ہوگی اس کا فیصلہ پروڈیوسر یا چینل کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر سمجھتی ہوں اس موضوع کے لیے زی کا پلیٹ فارم بالکل صحیح ہے، کیونکہ اگر بھارتی شائقین سے بات کرنی ہے تو بھارتی پلیٹ فارم کے ذریعے ہی کرسکتی ہوں کیونکہ اگر پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر بات کی جارہی ہے تو مقامی چینل پر بات کرکے اس کی آڈینس محدود ہوجاتی۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ‘دھوپ کی دیوار’ کی کہانی اس وقت لکھی گئی جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات اتنے خراب نہیں تھے اور نہ ہی کشمیر میں جو آئینی طور پر حالیہ تبدیلیاں کی گئی ہیں، وہ ہوئی تھیں۔

عمیرہ احمد نے وضاحت کی ہے کہ یہ کوئی پیار محبت کی کہانی نہیں ہے۔ اس ویب سیریز میں موجود دونوں کرداروں کو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوئے نہیں دکھایا گیا اور میرے خیال میں انڈیا اور پاکستان کے باہمی مسائل کے بارے میں بات کرنے کے لیے ہمیں لو اسٹوری کی ضرورت نہیں ہے۔

عمیرہ احمد نے کہا ہے کہ ’دھوپ کی دیوار‘ مسئلہ کشمیر کے بارے میں نہیں ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے میرا موقف وہی ہے جو باقی دوسرے پاکستانیوں کا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے دو قومی نظریے کا تعلق آزادی سے ہے اور کوئی بھی باشعور اور ہوش مند انسان دو قومی نظریے کو جھٹلا نہیں سکتا۔ ورنہ اسے اپنی آزادی کھونی پڑے گی تو میں کیسے دو قومی نظریہ کو جھٹلاسکتی ہوں؟-

عمیرہ احمد نے بتایا کہ جب انہوں نے اس موضوع پر کام کرنا شروع کیا تو جنوری 2019 میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کو اس کی پوری کہانی بھیجی تھی اور اس وقت کی آئی ایس پی آر کی ٹیم کو کہانی کی جانچ کرنے کا کہا تھا آئی ایس پی آر نے نہ صرف موضوع کو ٹھیک کہا تھا بلکہ انہوں نے راولپنڈی میں ایک ملاقات کی تھی۔

عمیرہ احمد کے مطابق کے مطابق آئی ایس پی آر نے ان سے کہا تھا کہ ‘ہمارا پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے حوالے سے یہی مؤقف ہے کہ دونوں ممالک آپس میں بات چیت کریں اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کے نتیجے میں فوجیوں کے ساتھ ساتھ شہری آبادی کے نشانہ بننے کی صورتحال ختم ہوجائے۔

عمیرہ احمد نے کہا کہ اگر موضوع غیر مناسب ہوتا تو اس پر لکھنے سے منع کردیا جاتا جبکہ کہانی کے لیے آئی ایس پی آر نے بہت زیادہ سپورٹ کیا اگر آئی ایس پی آر کو دھوپ کی دیوار کے موضوع یا مواد پر اعتراض ہوتا تو وہ خواتین کیڈٹس کے حوالے سے سیریل پر کام کے لیے ان کا انتخاب نہ کرتے۔

پیسے کے لیے ملک سے غداری اور بھارت کی جانب سے ‘دھوپ کی دیوار’ کی کہانی لکھوانے کے الزامات سے متعلق عمیرہ احمد نے دھوپ کی دیوار بھارت نے نہیں لکھوایا بلکہ انہوں نے ایک بنی ہوئی چیز خریدی ہے۔

امن کی آشا ‘ کی حامی یا اسے فروغ دینے سے متعلق تبصروں پر عمیرہ احمد نے کہا کہ امن کی بات کرنا غلط نہیں، ہمارا تو دین ہی امن و سلامتی کا دین ہے اور جنگ کی بات کرنا بھی غلط نہیں اگر اس جنگ کا نتیجہ نکلتا ہو۔

انہوں نے کہا کہ میں سیالکوٹ سے تعلق رکھتی ہوں جہاں 73 سال سے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ ہورہی ہے، فوجی، بچے اور خواتین مارے جارہے ہیں، جنگیں ایک یا 2 دن ہوتی ہیں، 73 سال نہیں نہ پاکستان اس کا متحمل ہوسکتا ہے اور نہ ہی بھارت۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹی سی بات پر کسی کو کافر یا غدار کہنے کا رواج اب ختم ہوجانا چاہیے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ بغیر کسی ثبوت کے ان پر سنگین الزامات لگائیں، اگر رائٹر کسی متنازع موضوع پر لکھ رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غدار ہے جولائی میں نجی چینل ہم ٹی وی پر ان کے ناول ‘ہم کہاں کے سچے تھے’ کو ڈرامائی شکل میں پیش کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں ستمبر میں نجی چینل اے آر وائے سے آئی ایس پی آر کے لیے لکھا جانے والا سیریل نشر ہوگا جبکہ جیو ٹی وی کے لیے لکھا گیا ایک سیریل رواں برس کے اواخر یا آئندہ سال کے اوائل میں نشر ہوگا۔

اس کے ساتھ ہی عمیرہ احمد نے واضح کیا کہ وہ اب جس قسم کے مواد پر لکھنا چاہتی ہیں اس کا اسکوپ صرف ویب پلیٹ فارم ہے لیکن اس وقت بین الاقوامی معیار کا حامل کوئی پاکستانی پلیٹ فارم نہیں جہاں ایسے پراجیکٹس کیے جاسکیں۔

ٹریلر میں تو واضح طور پر احد رضامیر اور سجل علی کی ایک دوسرے کے لیے پسندیدگی دکھائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پوسٹر میں بھی جو تصویر موجود ہے وہ ایک لواسٹوری کو بیان کرتی ہے یہ ٹریلر کی بات ہے کہانی آگے کیا موڑ لے گی یہ تو ویب سیریز دیکھ کر ہی پتہ چلے گا –