fbpx

پاکستان میں تعلیم کی صورتحال، تحریر: از سحر عارف

آج میں پاکستان میں موجود جس مسئلے پر بات کرنے جارہی ہوں وہ ہے پاکستان میں تعلیمی صورتحال جو دن بہ دن خراب ہوتی جارہی ہے۔ میں، آپ، بلکہ ہم سب اس بات سے باخوبی واقف ہیں کے آج پاکستان میں تعلیمی نظام کی کیا صورتحال ہے۔ پہلے تو ہمارے تعلیمی اداروں میں طالب علموں کو مکمل سہولیات ہی فراہم نہیں کی جاتی۔ یہاں تک کہ اگر گورنمنٹ سکولوں کی بات کی جائے تو وہاں طالب علموں کے لیے بہت کم فرنیچر مہیاء کیا جاتا ہے۔ دوسرا ہمارا تعلیمی نظام اس لیے بھی خراب ہوتا جارہا ہے کیونکہ ہمارے زیادہ تر تعلیمی اداروں میں نقل کا رجحان عام ہوتا جارہا ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سے طالب علم نقل کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں اور دوسرا ہمارے تعلیمی اداروں میں موجود کچھ اساتذہ جو چند پیسوں کے عوض اپنا ضمیر بیچ کر طلبہ کو نقل کرواتے ہیں۔ پھر ایک نقص ہمارے تعلیمی نظام میں یہ بھی ہے کہ یہاں بچوں کی ذہنی تربیت ہی نہیں کی جاتی بلکہ ان سے رٹہ لگوایا جاتا ہے۔ ان سے دماغ سے سوچنے، سمجھنے اور لکھنے کی وہ صلاحیت ہی چھین لی جاتی ہے جو قدرتی طور پر اللّٰہ کی طرف سے ہر انسان کو پیدا ہوتے ہی انعام کے طور پر دے دی جاتی ہے جس کی بنا پہ انھیں اشرف المخلوقات کا درجہ مل جاتا ہے۔ جب اساتذہ بچوں کو خود سے کچھ لکھنا ہی نہیں سیکھائیں گے بلکہ انھیں رٹہ مارنے والا طوطا اور طوطی بنا دیں گے تو پھر ملک ترقی کیسے کرے گا؟ آخر کو یہی طالب علم پڑھ لکھ کر اس ملک کا مستقبل روشن بنا سکتے ہیں۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔۔۔
پر جب ان سے سوچنے سمجھنے اور خود سے کچھ لکھنے کی صلاحیت ہی چھین لی جائے گی تو پھر ملک اور معاشرہ کیسے ترقی کرے گا؟ اور پھر اس تعلیمی نظام کی وجہ سے بہت سے بچے نویں دسویں جماعت میں چلے جانے کے باوجود ٹھیک سے کسی موضوع پر خود سے کوئی مضمون تک نہیں لکھ سکتے۔ یہاں تک کے وہ ٹھیک سے انگریزی کے دو چار جملے بھی نہیں بول سکتے کیونکہ انھیں شروع سے ہی رٹہ مارنا سیکھایا جاتا یے۔ بے شک یہ انسانیت پہ بہت بڑا ظلم ہے۔ ایک ماہرِ تعلیم پروفیسر اے ایچ نیز کا کہنا ہے کہ ” ملک میں تعلیمی نظام کی تنزلی کی وجہ سے اس شعبے میں بہتری لانے کے لیے حکومتوں کی عدم دلچسپی ہے”۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ” اپریل 2021 سے ملک بھر کے سرکاری و نجی سکولوں اور دینی مدارس میں یکساں تعلیمی نصاب کے نفاذ کے عمل کو شروع کیا جائے گا”۔ اور الحمدللہ ایسا ہوگیا ہے اس لیے اب کچھ امید کی جاسکتی ہے کہ ملک میں تعلیمی نظام قدر بہتر ہوجائے گا۔ اس کے علاؤہ پاکستان کی تعلیمی صورتحال میں موجود ایک مسئلہ آن لائن کلاسسز کا بھی ہے جو بدقسمتی سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے پچھلے ایک سال سے طلبہ کو اس کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ آن لائن کلاسسز کی وجہ سے وہ کثیر تعداد میں موجود طالب علم جو دیہاتوں میں رہتے ہیں وہ ٹھیک سے کلاسسز نہیں لے سکتے اور اس کی بڑی وجہ انٹرنیٹ ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ابھی انٹرنیٹ کے وہ بہترین وسائل موجود نہیں ہیں جو دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں ہیں اور اس چیز کا سب سے زیادہ نقصان پچھلے ایک سال سے طلبہ کو ہورہا ہے۔ ا س لیے حکومت کو چاہیے کے سب سے زیادہ توجہ ملک کے تعلیمی نظام پر دیں اور زیادہ سے زیادہ ا سکی صورتحال کو بہتر کرنے کی کوشش کریں جس کی وجہ سے طالب علموں کو فائدہ ہو اور زیادہ سے زیادہ بچے تعلیم حاصل کر سکیں تاکہ ملک کا مستقبل روشن ہو۔