fbpx

تحریر: محمد مدنی پاکستان میں بچوں عورتوں کے ساتھ زیادتی جیسے واقعات میں تیزی

پاکستان میں جب سے سوشل میڈیا زیادہ آیا ہے ہر دوسرے دن کہیں نا کہیں ریپ جنسی تشدد کے واقعات سننے کو ملتے ہیں اور یہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں سوشل میڈیا سے پہلے بھی یہ کام ہوتا تھا اب بھی ہو رہا ہوگا مگر فرق یہ ہے کہ جلد ہی سوشل میڈیا پر خبر آجاتی ہے آج بھی دیہات گاؤں جیسی جگہوں پر یہ واقعات ہوتے ہیں اس کا علم نہیں ہوتا وہ اس لئے کہ وہاں ہر کسی کے پاس موبائل انٹرنیٹ نہیں اور سادہ آدمی اسے استعمال بھی نہیں کر سکتا
پاکستان میں اس وحشیانہ اور گھناؤنے جرم میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ اس میں ملوث بڑے بڑے لوگ جن کا بزنس بھی ہوتا ہے شامل ہوتے ہیں اور انھی کی سرپرستی میں یہ سب دھندے ہوتے ہیں کسی کی اتنی ہمت کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ اتنے کانفیڈینس کے ساتھ کام کرے اس میں ضرور کہیں نا کہیں پولیس بھی شامل ہوتی ہے بہت سننے میں آتا ہے ہمارے مذہب میں کیوں کہا گیا ہے کہ نکاح کو آسان اور جلدی اپناؤ تاکہ بے راہ روی نا پھیلے

اب ایک اور چیز نکل آئی ہے اور وہ ہے ڈارک ڈیپ ویب یہ سلسلہ ڈیجیٹل اور کمپیوٹر کی دنیا کا ہے جہاں پر ہر غلط کام ہوتا ہے جنسی تشدد کے دوران ویڈیوز بھی بنائی جاتی ہیں اور پھر کسی پر جنسی تشدد یا ریپ کر کے اس کو مزید بلیک میل بھی کیا جاتا ہے یہ کہہ کر کہ اگر تم نے فلاں کو بتایا تو میں ویڈیو وائرل کر دوں گا ڈارک ڈیپ ویب ایک ایسی جگہ ہے جہاں تشدد یا ریپ کے دوران بنائی جانے والی ویڈیو کو وہاں اپلوڈ کر دیا جاتا ہے اور کرپٹو ڈیجیٹل کرنسی میں بزنس بھی کیا جاتا ہے جب پاکستان میں ڈارک ڈیپ ویب کا نام آیا تو بہت سے میڈیا چینلز نے اس کے متعلق بتایا ان ویڈیوز کو وہاں باقاعدہ بیچا جاتا ہے اور ڈالر حاصل کیے جاتے ہیں مطلب باقاعدہ ایک بزنس پاکستان میں ایسے تشدد بڑھنے کی وجہ یہ ویب سائٹ بھی ہے کئیوں کے تو اس آمدنی سے گھر کے خرچے بھی چلتے ہیں ابھی کچھ دنوں پہلے اسلام آباد میں عثمان مرزا نامی شخص نے وحشیانہ درندگی کی اس واقعے سے سب ہی واقف ہو چکے ہوں گے
زینب بیٹی کا جب واقعہ ہؤا تو میڈیا پر ڈارک ڈیپ ویب سے متعلق انکشافات ہوئے اس وقت زیادہ تر لوگوں نے اس سے انکار کیا لیکن یہ حقیقت نہیں اس دھندے کو ٹریس کرنا ہمارے ہاں زرا مشکل کام ہے لیکن باہر کے ممالک سے تلاش کرنا اور یہ کام کرنے والے کو پکڑنا آسان ہے
ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ سسٹم کا خراب ہونا بھی ہے رشوت ہمارے ہاں عام ہے اور جب انصاف کے کٹہرے میں ملزم جاتا ہے تو اس کے ہاتھ اتنے لمبے اور تعلقات ہوتے ہیں کہ وہ ثبوت بھی مٹوادیتا ہے اور پھر عدالت کے سامنے مجرم نہیں گردانہ جاتا

اپنی اولاد کو ایک خاص وقت میں اپنی حفاظت کے لیے تدابیر اور معلومات ضرور دیں
جب تک پاکستان میں ریپ جنسی تشدد کےخلاف سخت سزا اور اس پر عمل نہیں ہوگا اس وقت تک یہ جرم بڑھتا رہے گا اور نہیں رکے گا
ایک بار سیریا میں ایک ریپ کا کیس ہؤا وہاں اس وقت جنگ کی حالت تھی جس نے ریپ کیا اس کامیڈیکل ہؤا میچ کیا گیا اور پندرہ منٹ کے اندر اندر اس شخص کو سرے عام پھانسی دے دی گئی وہ دن اور آج کا دن اس کے بعد ایسے واقعات نہیں سننے میں آئے جبکہ ہمارے ہاں جب بھی ایسا کچھ سوچا جاتا ہے تو فوراً انسانی حقوق کی تنظیمیں جاگ اٹھتی ہیں اور پریشانیاں لاحق ہونے لگتی ہیں جبکہ انھیں کشمیر اور فلسطین نظر نہیں آتا

پھر کہتا ہوں جب تک سخت سے سخت سزا نا ہوگی کچھ نہیں ہوگا

کئی افراد لوگ اپنی شرمندگی کی وجہ سے پولیس کو نہیں بتاتے یا پھر وہ بااثر شخصیات کی دھمکی کی وجہ سے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں خاموشی اختیار کرنا ریپ یا جنسی تشدد کرنے والے سے کہیں زیادہ جرم ہے

ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کا سوچنا ہے آئیے اس گند کے خلاف متحد ہوں

@M1Pak