راج کوی کاخطاب پانے والے پنڈت میلہ رام

0
47
Pandat Mela Ram Wafa

اک بار اس نے مجھ کو دیکھا تھا مسکراکر
اتنی تو حقیقت ہے باقی سب کہانیاں ہیں

میلا رام وفا

پنڈت بھگت رام کے بیٹے اور پنڈت جے داس کے پوتے،ناول نویس ،شاعر،صحافی اورحکومت پنجاب سے راج کوی کاخطاب پانے والے پنڈت میلہ رام،میلہ رام وفا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ 26 جنوری1895کوگاؤں ديپوکےضلع سیالکوٹ میں پیداہوئے۔ بچپن میں گاؤں میں مویشی چرانےجایا کرتے تھے۔ کئی اخباروں کےمدیرہوئے، نیشنل کالج لاہور میں اردو فارسی کےدرس و تدریس کافریضہ انجام دیا۔

ان کو باغیانہ نظم ”اے فرنگی“ لکھنے کے جرم میں دوسال کی قید بھی ہوئی شعری مجموعے”سوزوطن“ اور”سنگ میل“ کے علاوہ ”چاندسفرکا“ (ناول)ان کی اہم کتابیں ہیں بڑے بھائی سنت رام بھی شاعرتھےاورشوق تخلص کرتے تھے ٹی آر رینا کی کتاب پنڈت میلہ رام وفا حیات وخدمات، انجمن ترقی اردو(ہند) سے2011 میں چھپ چکی ہے فلم پگلی(1943)اورراگنی(1945)کے نغمے انہی کے لکھے ہوئے ہیں۔

بارہ سال کی عمرمیں شادی ہوئی 17سال کی عمرمیں شعر کہنا شروع کیا پنڈت راج نارائن ارمان دہلوی کے شاگرد ہوئےارمان داغ دہلوی کے شاگرد تھے۔اردوکےمشہورومعروف رسالہ ”مخزن“ کے مدیررہے اور لالہ لاجپت رائے کے اردو اخبار ”وندے ماترم“ کی ادارت بھی کی۔ مدن موہن مالویہ کے اخبارات میں بھی کام کیا ویر بھارت میں جنگ کا رنگ کے عنوان سے کالم لکھتے تھے ان کاانتقال جالندھر پنجاب میں 19 ستمبر 1980 کو ہوا۔

اشعار
۔۔۔۔۔
اک بار اس نے مجھ کو دیکھا تھا مسکرا کر
اتنی تو ہے حقیقت باقی کہانیاں ہیں

گو قیامت سے پیشتر نہ ہوئی
تم نہ آئے تو کیا سحر نہ ہوئی

کہنا ہی مرا کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
یہ بھی تمہیں دھوکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

اتنی توہین نہ کر میری بلا نوشی کی
ساقیا مجھ کو نہ دے ماپ کے پیمانے سے

عالم ہے ترے پرتو رخ سے یہ ہمارا
حیرت سے ہمیں شمس و قمر دیکھ رہے ہیں

تم بھی کرو گے جبر شب و روز اس قدر
ہم بھی کریں گے صبر مگر اختیار تک

راتیں عیش و عشرت کی دن دکھ درد مصیبت کے
آتی آتی آتی ہیں جاتے جاتے جاتے ہیں

دن جدائی کا دیا وصل کی شب کے بدلے
لینے تھے اے فلک پیر یہ کب کے بدلے

Leave a reply