fbpx

رات کے اندھیرے میں جنکے پاؤں پکڑتا دن کے اجالے میں انکے گریبان پکڑتا ہے،مریم نواز

گوجرانوالہ والے اپنی گھڑیوں کی حفاظت کریں گھڑی چور پھر رہا ہے: مریم نواز

اتنے لوگ لانگ مارچ میں نہیں ہوتے جتنے سکیورٹی اہلکار ہوتے ہیں، مریم نواز
عمران خان کے بیٹے لانگ مارچ میں شریک کیوں نہیں، مریم نواز کی پریس کانفرنس
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ چاہتی تھی لانگ مارچ کی حقیقت قوم کے سامنے آ جائے،

مریم نواز کا کہنا تھا کہ صدف نعیم کی شہادت کا بہت افسوس ہے، صدف نعیم کی تصاویر دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی، لانگ مارچ کے مقاصد کیا ہیں؟ کوئی ایسا شعبہ نہیں جہاں اس نے تباہی نہ مچائی ہو، کروڑوں روپے اس مارچ کی حفاظت کیلئے خرچ ہو رہے ہیں جس کا کوئی مقصد نہیں،عمران خان بے دردی سے قوم کا پیسہ خرچ کر رہا ہے،عوام کو اس کا اصلی چہرہ نظر آگیا ہے،عمران خان سوچ رہے تھے جھوٹا بیانیہ گھڑ کر دباؤ بڑھائیں گے، اپنے ہر حربے میں ناکام ہونے کے بعد عمران خان نے لانگ مارچ کا حربہ آزمایا، یہ اپنی 22 سالہ جددوجہد کا ذکر کرتا ہے جو مشرف کی غلامی سے شروع ہوتی ہے عمران خان کا یہ پلان بھی فیل ہو گا، عمران خان کو عوام نے ریجیکٹ کردیا ، کیونکہ اس نے عوام کیساتھ جھوٹ بولے ہیں ، انہوں نے اسکا آصل سچ دیکھ لیا ہے عمران خان کے لانگ مارچ میں اتنے لوگ نہیں جتنے پنجاب پولیس کے اہلکار ہیں عمران خان کے اپنے بچے لندن کے محفوظ ترین جگہ پر بیٹھے ہیں اور عوام کو لانگ مارچ کے لیے نکال رہے ہیں۔

ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔ صدف کی ماں کی گفتگو

 صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد 

کامونکی،لانگ مارچ کی کوریج کرنیوالے صحافیوں پر پولیس کا تشدد

پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

عمران خان کا لانگ مارچ، مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو پیغام دے دیا

مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کا لانگ مارچ پارٹ ٹائم لانگ مارچ ہے، یہ دوپہر کا کھانا کھا کر مارچ کیلئے نکلتے ہیں،کل سن رہے تھے لانگ مارچ 10 نومبرکو بھی اسلام آباد نہیں پہنچے گا،جس رفتار سے لانگ مارچ چل رہا ہے یہ ایک ماہ میں بھی نہیں پہنچے گا، عمران خان کا آخری کارڈ لانگ مارچ بھی فیل ہوگیا ہے اس کے اتنے بڑے جھوٹ تھے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کو میدان میں آنا پڑا،ایک پروفیشنل شخص کو قوم کے سامنے حقائق لانا پڑے، یہ رات کے اندھیرے میں جن کے پاؤں پکڑتا ہے دن کے اجالے میں ان کے گریبان پکڑتا ہے ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات کے بارے میں اس نے عوام کو نہیں بتایا، قوم سچ کا انتظار کر رہی ہے، عمران خان کو پاکستان میں انتشار کے لیئے لانچ کیا گیا اور اس کے لیئے پیسے دیئے گئے ہیں چیف الیکشن کمشنر کوعمران خان نے خود تعینات کیا تھا، چیف الیکشن کمشنر نے اس کا بھانڈا پھوڑا تو وہ برا ہو گیا عمران خان ایک فارن فنڈڈ فتنہ ہے،عمران خان جب جمہوریت کی بات کرتا ہے تو سر شرم سے جھک جاتا ہے،مرحوم ارشد ملک بھی حقائق سامنے لے کر آئے تھے یہ چور چور کہتا رہا لیکن نیب کبھی ثبوت پیش نہ کر سکا، عمران خان کو پتہ تھا کہ وہ بہتان بازی کر رہا ہے،بشیر میمن کو مخالفین کی گرفتاری کا اسٹیبلشمنٹ نے نہیں کہا تھا، شوکت عزیز صدیقی اور ارشد ملک نے اس کے سامنے انکشافات کئے عمران خان نے کبھی اتنی اخلاقی جرات نہیں کی کہ حقائق معلوم کرے،

عمران خان کا ایک اور سیکنڈل آنے والا ہے،مریم نواز کا دعویٰ

مریم نواز نے عمران خان کی جانب سے نواز شریف کو الیکشن لڑنے کے چیلنج پر کہا کہ آر ٹی ایس بند کروا کے 2018 میں بھی تم نواز شریف کو نہیں ہرا سکے، عمران خان نے نواز شریف کی بیٹی کو جیل میں ڈالا، تمہیں اسٹیبلشمنٹ نے کہا تھا کہ توشہ خانہ سے تحائف چوری کرو؟ ایک اور بڑا اسکینڈل آنے والا ہے انہیں ہیروں کا سیٹ توشہ خانہ سے ملا تھا، عمران خان نے 2 کروڑ روپے میں ہیروں کا سیٹ خرید کر 22 کروڑ کا دبئی میں بیچ دیا،یہ کہتا کہ اسٹیبلشمنٹ نے اسےنواز شریف اور زرداری کی کرپشن کا بتایا جسے بند کمرے میں توسیع کی پیشکش کی اسے ہی غدار کہنا شروع کر دیا، عوام کے سامنے یہ انہیں میر صادق اور میر جعفر کہتا رہا، کیا تمہیں اسٹیبلشمنٹ نے کہا تھا کہ پنکی پیرنی کو اپنا فرنٹ وومین بناؤ؟ کیا یہ اسٹیبلشمنٹ سے الیکشن کی تاریخ مانگ رہے ہیں، کیا یہ اسٹیبلشمنٹ کا کام ہے کہ الیکشن کرائے، یہ اسٹیبلشمنٹ سے کہتا ہے اللہ کے واسطے میرے سر پر دست شفقت رکھ دو،یہ اسٹیبلشمنٹ کو دھمکاتا ہے کہ اگر میری بات نہ مانی تو میں میر جعفر اور میر صادق کہوں گا، کل اس نے کہا یہ چوکیدار ہیں انہیں تم چوکیداری کی تنخواہ دیتے ہو؟ جس لہجے میں اس نے یہ بات کی اسے شرم آنی چاہیے، قربانیوں کا احترام کرنا چاہئے،واضح کر دوں وہ ملک کے محافظ ہیں بنی گالہ یا آپ کی چوری اور ڈکیتیوں کے نہیں،

مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ عمران نے سپریم کورٹ میں جھوٹ بولا کہ مجھے 25 مئی کو احکامات کا علم نہیں تھا،اس نے تو خود کنٹینر سے اعلان کیا تھا کہ لوگو آجاؤ ہمیں سپریم کورٹ سے اجازت مل گئی ہے، عمران خان کے جھوٹ پر کوئی افسوس یا حیرانگی نہیں ہے،افسوس اس بات کا ہے کہ اس کی کوئی پکڑ نہیں ، عدالت نے بھی کہہ دیا تھا ہو سکتا ہے عمران خان کو خبر نہ ملی ہو، جب عدالت نے یہ کہہ دیا تو اس نے یہ جھوٹ بولنا ہی تھا،نواز شریف نے کہا لوگ جتنے بھی ہوں ان کی بات نہیں سنی جائے گی جمہوری شخص کا خونی انقلاب سے کیا تعلق ہے،جو شخص نہ سیاسی ہے نہ جمہوری، اس کی کوئی بات کیوں سنی جائے،عمران خان اب پاکستان کی سیاست میں اسٹیک ہولڈر نہیں ہے، آج نواز شریف کے بیانیے کو کامیابی ملی ہے، نواز شریف بہت جلد اپنے لوگوں کے درمیاں ہوں گے، اپنے وطن سے دور رہنا نواز شریف کیلئے بہت تکلیف دہ ہے،

جس نے اتنی بڑی سازش کی ہو کیا وہ بچ کر نکل جائے گا،عمران خان اب پاکستان کی سیاست میں اسٹیک ہولڈر نہیں ہے،مریم نواز
مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ ایسے جتھوں کو روکنا پولیس سمیت ہر ادارے کا فرض ہے،رانا ثنا اللہ نے ان کا پورا بندوبست کیا ہوا ہے اس وقت سب سے بڑی ذمہ داری عدلیہ کی ہے، کیس ان کے پاس ہے، میری اپیل پر آنے والے فیصلے میں میں اور نواز شریف بھی بے گناہ ثابت ہوئے، نواز شریف کے نااہل ہوتے ہی پاکستان میں معاشی تباہی آنا شروع ہو گئی،پاکستان اور نواز شریف اکٹھے نیچے گئے، پانامابینچ نے صرف نواز شریف کو نہیں بلکہ پورے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی،جس نے اتنی بڑی سازش کی ہو کیا وہ بچ کر نکل جائے گا،عمران خان نے پہلے بھی ایک لاک ڈاؤن کی کال دی تھی،اسحاق ڈار کے آتے ہی ڈالر نیچے آنا شروع ہو گیا، مسلسل بہتری آ رہی ہے،عوام کیلئے ہر چیز میں بہتری آتی جائے گی، نواز شریف کی کوشش ہے 300 یونٹ سے کم یونٹ کے صارفین کو مفت بجلی دی جائے

مریم نواز کا ایک سوال کے جواب میں مزید کہنا تھا کہ ارشد شریف کا انجام یہ نہیں ہونا چاہئے تھا، کمیشن بن چکا ہے، حقائق سامنے آنے پر بات کروں گی ارشد شریف کے قتل کا سیاسی فائدہ اٹھایا گیا، سلمان اقبال سے سوال پوچھے گئے تو انہوں نے ایک خط کے ذریعے جواب دیا، سلمان اقبال پاکستان آ کر تحقیقات میں شامل نہیں ہونا چاہتے، اگر آپ پاکستان نہیں آئیں گے تو سوالات تو اٹھیں گے، میری والدہ بیمار تھیں، پھر بھی پاکستان آئیں ،جب سے اسحاق ڈار آئے ہیں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہو رہا، نواز شریف کی مفتاح اسماعیل سے کوئی رنجش نہیں تھی، نواز شریف کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ پیٹرول کی قیمتیں نہ بڑھائی جائیں،مذاکرات نہیں ہوں گے اور نہ ہونے چاہئیں،