fbpx

پردیس اور اپنوں کی بے رخی تحریر: چوہدری عطا محمد

آپ میں سے کچھ لوگ جانتے ہوں گے کہ پردیس کیا بلا ہے اور اکثریت ان لوگوں کی ہے جن کو یہ نہیں پتہ کہہ پردیس کسی اذیت کا نام ہے پردیس کا درد کیا ہے یہ صرف وہی جان سکتا ہے جو یہ سزا بھگت رہا ہوتا ہے، یقین مانیں ایسی عجیب سی تنہائی کا عالم کے بیشمار لوگوں کےاپنے آس پاس ہوتے ہوئے بھی اکیلاپن محسوس ہوتا ہے،
ہے ناں عجیب سزا ،عام لوگ بیرون ملک دولت کمانے کو میٹھی جیل کا نام بھی دیتے ہیں ایسی جیل جس کی دیواریں تو نہیں لیکن انسان کو ہر وقت تنہائی اور دم گھٹنے کا احساس رئیتا ہے ، مگر کیا کرے حالات اور انسانی ضروریات کی وجہ سے اور اپنی فیملی جس میں اس کے بہن بھائی بوڑھے والدین اور کچھ کے بیوی و بچے ان سب کو بہتر حالات اور بہتر سہولیات دینے کے لئے اس میٹھی جیل میں اندر سے روتے ہوۓ اور سامنے سے ہنستے ہوۓ وقت گزارتا ہے ایک پردیسی
عید الاضحی کا تیسرا اور چھٹیوں کا آخری دن تھا جمعتہ المبارک کا دن تھا جمعہ کی نماز کے بعد میرا ایک انجنئیر دوست مجھ سے عید ملنے آیا یہ بھی بتاتا چلوں میرا یہ دوست اپنی فیملی یعنی بیگم اور دو بچوں سمیت رئیتا ہے جیسے ہی وہ میرے پاس پہنچا مجھے بھی یکدم لگا کہہ عید ہوگئ ہے کیونکہ اس کو گلے مل کر بہت ہی چائیت کا احساس ہوا می ملنے کے بعد اس کو بیٹھایا اور خود جاکر اس کے لئے کچھ کھانے پینے کا بندوبست کرنے لگا ہم بہت بے تکلف دوست ہیں اس نے آواز دی سادہ پانی کی بوتل لاؤ اور صرف دودھ والی چاۓ بناؤ اور کچھ بھی نہیں کھاؤں پیو گا مجھے پہلے ہی پتہ تھا سو می اسے پانی کی بوتل دی اور چاۓ کا سامان چولہے پر رکھ کر اس کے پاس بیٹھ گیا ہم ادھر ادھر کی باتین کرنے لگے پانچ سات منٹ ایسے ہی باتوں میں گزر گے اتنے میں چاۓ بن گئ میں نے چاۓ دوکپ میں ڈالی اور ساتھ الماری سے نمکو کا پیکٹ نکالا اور چاۓ نمکو لے کر دوست کے پاس بیٹھ گیا ہم چاۓ پیتے رہے اور پاکستان کے سیاسی معملات پر گپ شپ لگانے لگے کچھ دیر میں ہی میں محسوس کیا کہ وہ کچھ پریشان ہے میں اس سے پوچھا کہہ چہرے سے پریشان لگ رہے آپ بھائی تو کہتا کہہ کہہ کچھ نہیں میں دو تین بار اصرار کیا تو وہ بتانے لگا اس کی زبانی میں چاند رات فیملی کے ساتھ شاپنگ کر کے گھر کو واپس لوٹا اور تھکاوٹ سے جلدی سوگیا صبح زرا جلدی جاگنا ہوتا کیونکہ ادھر نماز فجر کے لئے جاتے تو عید کی تیاری کر کے جاتے یعنی فجر کی نماز سے ایک گنٹھہ اور کچھ منٹ بعد عید کی نماز ہوجاتی ہے می نماز عید پڑھی اور جلدی سے گھر کی طرف آیا آتے ہی موبائل کا نیٹ آن کیا کیونکہ سارے راستہ سوچتا رہا پاکستان سے پتہ نہیں عید مبارک کے لئے پوری فیملی بہن بھائی کتنی دفع کال کر چکے ہوں گے لیکن وہ شاید میری بھول تھی موبائل آن کر کے پاس رکھا ناشتہ کیا لیکن دھیان موبائل کی طرف ہی تھا کہ ابھی کال آۓ گی لیکن ناشتہ سے لنچ اور لنچ سے ڈنر تک گزر گیا می رات سونے کے لیے بیڈ پر پہنچا تو اپنے اوپر بہت رونا آیا دل میں خیال ہے کہہ کیا می اکیلا ہی ہوں میرا کوئی بہن بھائی ماں باپ رشتہ دار نہیں ہیں کیا کسی ایک فرد نہ بہن نے نہ چھوٹے یا بڑے کسی بھائی نے نہ ہی نہ والد صاحب نے کسی نے بھی عید مبارک تک کی کال تو دور کی بات ہے واٹس پر میسج تک نہیں کیا مجھے والدہ کی بہت یاد آئی کیونکہ جب وہ حیات تھی تو سب کو بول بول کے کسی نہ کسی سے کال کر وا ہی دیتی تھیں
آپ سوچیں دوسرے دن پاکستان میں عید تھی میں نے سب کو باری باری کال کر کے مبارک باد دی لیکن کسی ایک نے بھی مجھے یہ نہیں کہا کہ سوری ہم بھول گے تھے کل آپ کی بھی عید تھی بڑی بہن کو جب کال کی تو ہلکا سا گلہ کیا تو وہ فورا بولی بھائی آپ کو پتہ ادھر کتنی مصیبتیں مجھے یاد ہی نہیں تھا کہہ آپ کی عید تھی کل آپ لو بتاتا چلوں یہ سب میرے وہی بہن بھائی ہیں جن میں سے ہر ماہ کوئی نہ کوئی اپنی مشکل بتاتا اور مجھے کہتا اتنے پیسے بھیجو می آج تک ان میں کسی کو نہ نہیں کہی ہر خوشی اور غمی میں اگر خود حاضر نہ ہوا لیکن ہر طرح کی ہر قسم کے حالات میں ان لی ضرور مدد کی جس نے جتنے پیسے کہا بیگم سے چوری یا اس کے سامنے ہر حال میں اپنے بہن بھائیوں کو بھیجے لیکن میرا خیال ہے ہم پردیسیوں کو ہمارے فیملی والے ایک اے ٹی ایم مشین ہی سمجھتے ہیں نہ تو ہمارے دئیے ہوۓ گفٹ کی ویلیو نہ ہمارے دئیے ہوۓ پیسے کی ویلیو نہ ہی ہماری اپنی یہ کہتے ہوۓ وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا
آخر میں بس اتنا ہی کہتا چلوں کہہ خدرا جن کے فیملی ممبرز یا کوئی دوست احباب پردیس میں ہیں ان سب کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کیا کریں یقین جانیں ان کی سانسیں اپنے ملک اور آپ کی خوشیوں اور پریشانیوں کے ساتھ چلتی
اللہ پاک ارض پاک اور اس کی معشیت کو اس قدر مضبوط اور مستحکم کر دے کہہ کسی کو بھی روزگار کے لئے پردیس جیسی میٹھی جیل نہ جانا پڑے
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین ثمہ آمین

تحریر چوہدری عطا محمد

@ChAttaMuhNatt