fbpx

 پردیسیوں کے مسائل . تحریر : تظخر شہزاد

لفظ پردیسی پردیس سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں اپنے آبائی وطن گاؤں شہر یا علاقے کو چھوڑ کر دوسرے شہر یا ملک میں بسنے والا. آج کے ترقّی یافتہ دور میں لاکھوں پاکستانی اپنے وطن سے دور بہتر مستقبل اور خوشحالی کےلیے دنیا کے مختلف ممالک جن  میں مشرق وسطیٰ، جنوبی افریقہ، یورپ،  امریکہ اور کینیڈا  سر فہرست ہیں میں روزگار کماتے ہیں جس کی بڑی وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد تقریباً 9 ملین ہے جن میں سب سے زیادہ تعداد  تقریباً 2.6 ملین سعودی عرب میں ہے. بظاہرتو پردیسی خوشحال لگتے ہیں مگر ان کے مسائل بھی بے شمارہیں. کبھی ان کی آنکھوں میں جھانک کردیکھیں تو وہ کرب نظرآتا ہے

جو سالوں سے اپنے دل میں چھپائے ہوتے ہیں اپنوں سے دور رہ کر دیارِغیر میں جو کرب وہ محسوس کرتے ہیں الفاظ میں  بیان کرنا مشکل ہے  پاکستان میں خاندان کے کسی فرد کو کوئی تکلیف ہو یا کوئی وفات ہو تو ہزاروں میل دور پردیسی کے شب و روز کس قدر تکلیف میں گزرتے ہیں یہ وہی جانتے ہیں. اپنے اہل و عیال کی فرمائشیں پوری کرنے کےلیے وہ عرب کے تپتے صحراؤں میں یورپ اور امریکہ کی ٹھٹھرتی سردی میں دن رات محنت کرتے ہیں کون جانے کہ وہ اپنوں کے لیے چھپ چھپ کر روتے ہے مگر اس کے لیے بولے گئے الفاظ کہ آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے  سینے میں تیر کی طرح پیوست ہو جاتے ہیں اوورسیز پاکستانیوں کا ایک بڑا مسئلہ جائیداد پر غیر قانونی قبضہ بھی ہے دیار غیر میں خون پسینے کی کمائی سے خریدی جانے والی جائیداد پر قبضہ کر لیا جاتا ہے اور بعض اوقات تو اس میں رشتہ دار بھی ملوث ہوتے ہیں بیچارہ پردیسی کچھ ماہ کی چھٹی لے کر گھر جاتا ہے تو جائیداد کے تنازع میں الجھا دیا جاتا ہے اور کبھی کبھار توجائیداد سے ہاتھ دھونا پڑ جاتے ہیں.

اس کے علاوہ پردیسیوں کے جہاں عرب ممالک میں ویزہ مسائل ہیں تو یورپ میں امیگریشن کاغذات کے مسائل جن کو حل ہونے میں کئی بار تو سالوں لگ جاتے ہیں عرب ممالک میں سب سے زیادہ مسئلہ اجرت کا ہے کئی کئی ماہ کی تنخواہیں روک لی جاتی ہیں کفالہ نظام کی وجہ سے دوسری جگہ  نوکری ڈھونڈنا محال ہو جاتا ہے.

پردیسیوں کے مسائل حل کرنے میں مختلف ممالک میں پاکستانی ایمبیسیوں نے بھی کوتاہی برتی ہے اور اب بھی جاری ہے جہاں  کوئی غریب الوطن اگر چلا جائے تو اسے دھتکار دیا جاتا ہے گزشتہ ماہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے  ریاض میں  پاکستانی ایمبیسی کے عملے کے 6 ارکان کو واپس بلا لیا  اور انکوائری کا حکم دیا. ماضی میں اورسیز پاکستانیوں کے مسائل کی طرف توجہ نہ دی گئی مگر موجودہ حکومت کوشش تو کر رہی ہے مگر مسائل کا انبار ہے حل کرنے کے لیے  جہاں سفارتی عملے کی اخلاقی تربیت ضروری ہےوہاں وقت بھی درکار ہے. گزشتہ ڈیڑھ سال سے کورونا کی وجہ سے جو صورتحال ہے اس کا سب سے زیادہ اثر پردیسیوں پر پڑا ہے سفری مسائل اور ملازمتوں کا بحران شروع ہو گیا ہے مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والوں کے ویزے ختم ہونے کی وجہ سے ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں یورپ امریکہ اور دیگر ممالک میں بے روز گاری بڑھ گئی ہے.

  جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کے حالیہ ہنگاموں کی وجہ سے وہاں روزگار کمانے والے پاکستانی مشکلات کا شکار ہیں بنے بنائے کاروبار اور دکانیں  لوٹ لی گئیں ہیں ان کو ریسکیو کرنے کے لیے ایمبیسی کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ پاکستانیوں کی فوری مدد کی جائے آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک پاکستان کو نعمتوں سے نوازے تاکہ کوئی پردیسی وطن چھوڑنے کے کرب سے نہ گزرے.

@tazher55