پارلیمنٹ حملہ کیس،صدر مملکت عدالت پیش،کیا بیان دیا؟ سب دنگ رہ گئے

0
40

پارلیمنٹ حملہ کیس،صدر مملکت عدالت پیش،کیا بیان دیا؟ سب دنگ رہ گئے

اے ٹی سی اسلام آباد میں پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت ہوئی

صدر عارف علوی انسداددہشت گردی عدالت میں پیش ہوئے ،عارف علوی نے پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس میں استثنیٰ ختم کرنے کی درخواست دائر کر دی صدر عارف علوی اے ٹی سی اسلام آباد میں روسٹرم پر موجود تھے ،صدر نے عدالت میں کہا کہ ہمارے یہاں امیر غریب کے لیے انصاف کا معیار یکساں نہیں کیس میں استثنیٰ نہیں لینا چاہتا ، عام آدمی کی طرح عدالت آیا ہوں،پاکستان کا قانون مجھے استثنیٰ دیتا ہے جس کو میں ختم کرتا ہوں ،یہاں کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے،مجھے پتہ چلا کہ عدالت فیصلہ لکھنے لگی ہے تو عدالت میں پیش ہوا،میرے اوپر صدر بننے کے بعد سیالکوٹ میں مقدمہ بنا،میں نے استثنٰی نہیں لیا اپنا وکیل پیش کیا اور مقدمہ جیت گیا،

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ عدالت میں جب تک سب برابر نہیں ہونگے انصاف دیر سے ملے گا، پوری عدلیہ سے درخواست ہے کہ فیصلے جلدی ہوں،فیصلے جلدی نہ ہوں تو نسلیں مقدمے لڑتی رہتی ہیں، مجھے معلوم ہے کہ عدالت کے اوپر بوجھ بہت ہے عدالت سے درخواست ہے کہ کیسز کو طویل عرصے تک نہ چلایا جائے ،طویل کیسز سے گواہان کی یادداشت کمزور پڑ جاتی ہے،اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنے کی کوشش کی استثنا کی گنجائش نہیں آئین پاکستان استثنا دیتا ہے مگر میں استثنا نہیں لینا چاہتاجتنے خلفا آئے وہ عدالتوں میں بڑے باوقار انداز سے پیش ہوئے ،آئین کا پابند ہوں، قرآن پاک اس سے بڑا آئین ہے،2016میں مجھ پر چارج لگا تھا، اسی عدالت سے ضمانت بھی لی تھی،میرے والد نے 1977 میں مقدمہ کیا تھا، وہ بھی آج تک چل رہا ہے

صدر مملکت کی عدالت پیشی کے بعد بابر اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین آرٹیکل 348 کا صدارتی استثنٰی حاصل ہے،عارف علوی نے فیصلہ کیا کہ وہ شہری کے طور پرعدالت میں پیش ہوں گے عارف علوی نے فیصلہ کیا کہ وہ صدارتی استثنیٰ نہیں لیں گے، صدر نے صدارتی استثنیٰ نہ لینے کی درخواست دائر کی ہے، صدر نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ بدلنا چاہتا ہوں صدر نے عدالت میں کہا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں،

صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ میری خواہش تھی کہ ریاست مدینہ کے انصاف کی طرف جایا جائے،مجھ پر الزام تھا کہ میں نے ہتھیار سپلائی کیے ہیں،نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ میری بیٹی بھی کوئی جرم کرے تو انصاف ہو گا، میں صدر نہیں ایک شہری کی حیثیت سے پیش ہوا تھا،جج سے کہا ہے کہ مقدمات بہت لمبے چلتے ہیں،گواہ مر جاتے ہیں، یادداشت کمزور ہو جاتی ہے، کاغذ ادھر ادھر ہو جاتے ہیں،

واضح رہے کہ اس کیس میں وزیراعظم عمران خان کو بری کر دیا گیا تھا،انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج راجا جواد عباس حسن نے فیصلہ سنایا تھا،صدارتی استثنا کے باعث صدرمملکت عارف علوی کی حد تک کیس داخل دفترہے ،اس سے قبل عدالت عمران خان کو ایس ایس پی تشدد کیس میں بری کرچکی ہے۔ صدر مملکت عارف علوی، وفاقی وزراء شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، اسد عمر، شفقت محمود، صوبائی وزیر علیم خان، جہانگیر ترین بھی مقدمہ میں ملزم نامزد ہیں

واضح رہے کہ اگست 2014 میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف دھرنا دیا تھا جس کے دوران دونوں جماعتوں کے کارکنان نے پولیس رکاوٹیں توڑ کر وزیراعظم ہاؤس میں گھسنے کی کوشش کی تھی اور مبینہ طور پر پی ٹی وی پر حملہ کیا۔ اس دوران شاہراہِ دستور پر تعینات پولیس اہلکاروں اور مظاہرین میں جھڑپ ہوئی اور پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے 50 مظاہرین نے مبینہ طور پر سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس عصمت اللہ جونیجو کو حملہ کر کے زخمی کیا تھا۔

پارلیمنٹ حملہ کیس، وزیراعظم کی بریت پر عدالت کا بڑا فیصلہ آ‌گیا

پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت کرنیوالے جج کو او ایس ڈٰی بنا دیا گیا

پی ٹی وی،پارلیمنٹ حملہ کیس،پارلیمنٹ کا جنگلہ کیوں توڑا گیا تھا؟ وکیل نے بتا دیا

اسلام آباد پولیس نے ان تمام واقعات کے مقدمات عمران خان، طاہر القادری، عارف علوی، اسد عمر، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور راجہ خرم نواز گنڈاپور کے خلاف درج کئے جن میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئیں

پی ٹی وی،پارلیمنٹ حملہ کیس کا فیصلہ محفوظ

Leave a reply