پارٹی کے خلاف ووٹ دینے پر سزا ہے یا نہیں؟ اٹارنی جنرل کا عدالت میں بڑا بیان

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سےکرانے کے صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے سینیٹ ووٹرز کے لئے ہدایت نامہ تیار کیا،الیکشن کمیشن کے وکیل کویہاں ہوناچاہیے ہمیں الیکشن کمیشن کی جانب سے ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی،ووٹرز کےلئے ہدایت نامہ تیار کیا ہے تو دکھائیں،تمام ججز اورفریقین کے لئے ہدایت نامے کی کاپی منگوائیں،سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم نےہدایت نامہ تیارکیاہے،

الیکشن کمیشن نے ہدایت نامےکی کاپیاں عدالت میں جمع کرا دیں ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی سینیٹ الیکشن 2018کی دستاویزات ہمیں ملی ہیں،ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ہدایت نامہ میں متناسب نمائندگی اورخفیہ ووٹنگ کا ذکر ہے،ووٹ ڈالنے کا عمل خفیہ ہونا چاہیے ،پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے،پارلیمنٹ کے وقارکا تحفظ ضروری ہے،اسی وجہ سے اراکین اسمبلی پرکچھ پابندیاں بھی عائد کی گئیں ،جمہوریت کا تسلسل پارلیمنٹ کی وجہ سے ہے ،ووٹنگ کے میکانزم میں سیکریسی بھی اس وجہ سے رکھی گئی،اراکین اسمبلی کوپابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے ڈسپلن کی پیروی کریں،الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے شفاف مطابق انتخابات کرائے،

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ رکن اسمبلی کیخلاف کیاکارروائی ہوسکتی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کا اطلاق سینیٹ انتحابات پرنہیں ہوتا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی کے خلاف ووٹ دینے پر کوئی سزا نہیں،جس کوپارٹی کے خلاف ووٹ دینا ہے کھل کردے،سزا صرف ووٹوں کی خریدوفروخت پرہوسکتی ہے،

ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ قانون ہمیشہ معاشرے کے تجربات سے بنتا ہے،کوئی براواقعہ ہوتواس حوالے سے قانون سازی ہوتی ہے،موجودہ حالات میں شخصیات کونہیں اداروں کومضبوط کرنا ہو گا، اراکین اسمبلی کوسیاسی جماعتیں لیکرآتی ہیں جنہیں مزید مضبوط کرنا ہو گا ،چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل59میں خفیہ ووٹنگ کا کوئی ذکرنہیں،آئین کا آرٹیکل59 سینیٹ کے حوالے سے ہے،ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ شفافیت کیلئےہرچیزخفیہ رکھنالازمی نہیں،

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیا یہ کہنا درست ہوگا ووٹ ہمیشہ کیلئے خفیہ نہیں رہ سکتا، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ماضی میں بھی غیرقانونی طریقے سے مینڈیٹ چوری ہوا،آصف زرداری نے اب بھی کہا کہ تمام 10نشستیں جیتیں گے،آصف زرداری کا بیان سیاسی لیکن مینڈیٹ کے برعکس ہے،الیکشن کمیشن کا کام کرپشن ہونے سے پہلے روکناہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عمومی گفتگوتوہوتی رہے گی اب قانون کی بات کریں،آرٹیکل226پڑھ کراسی پردلائل دیں،

ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ وزیراعظم،وزرائےاعلیٰ کے علاوہ ہر الیکشن خفیہ رائے شماری سے ہو گا،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.