fbpx

پرویز الٰہی کا ایک اوراحسن اقدام۔ پنجاب کی تمام تحصیلوں میں ایمرجنسی سروسز کا آغاز کر دیا

وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کا ایک اوراحسن اقدام۔ پنجاب کی تمام تحصیلوں میں آج سے ایمرجنسی سروسز کا آغاز کر دیا گیا. ایمرجنسی سروسز اکیڈمی،ٹھوکرنیاز بیگ میں 74 ایمبولینسزکی چابیاں ڈویژنل ایمرجنسی آفیسرز کے حوالے کرنے کی تقریب منعقد ہوئی۔

وزیراعلیٰ پنجاب چو دھری پرویز الٰہی نے74 ایمبولینسزکی چابیاں ڈویژنل ایمرجنسی آفیسرز کے حوالے کیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریسکیورز کا رسک الاؤنس بحال کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ ریسکیورز کے سروس رولز میں ترمیم کی سمری چیف سیکرٹری کے پاس ہے، اس پرہمدردانہ غورکریں گے۔ریسکیورز کیلئے اسمبلی میں قانون بنا دیا جسے کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ہم نے ایمرجنسی وارڈز میں تمام ادویات مفت کردی ہیں اورا یمرجنسی وارڈز میں ڈیوٹی دینے ڈاکٹروں کو 3 گنا الاؤنس دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی سروسز اکیڈمی میں تمام صوبوں کے ریسکیورزکودیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے اور خوش آئند بات ہے کہ تمام صوبے اچھے کام میں شامل ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بھارت پاکستان کا ہرجگہ مقابلہ کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن بھارت ریسکیو میں مار کھا گیا ہے۔

ایمر جنسی سروسز اکیڈمی میں تمام صوبوں کو ریسکیورز کی تربیت سے صوبوں کے درمیان محبت بڑھی ہے اورضرورت بھی اس امر کی ہے۔چاروں صوبوں کے ریسکیورز کی شرکت سے گلدستہ مکمل ہواہے اوراس کی خوشبو کبھی ختم نہیں ہوگی کیونکہ اچھے کام کی خوشبو ہمیشہ رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظمؒ اکیلے تھے لیکن انہوں نے انتھک محنت کر کے مسلمانوں کیلئے الگ وطن کا حصول یقینی بنایا۔ڈاکٹر رضوان نصیر محنت سے ریسکیو1122کے ادارے کو بلندیوں پر لے کر گئے ہیں۔میں نے ہمیشہ سب کا اچھا سوچا ہے کسی کا نقصان نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری اورآئی جی پولیس شہبازشریف نے لگائے، میں نے انہیں اپنے دل کے ساتھ لگالیا ہے۔اللہ سے ہمیشہ اچھی ٹیم ملنے کی دعا کی، میں نے شہباز شریف کی ٹیم کو نہیں چھیڑا۔اپنے ساتھی کا بہتر اورخیر خواہی کیلئے سوچناہی کامیابی ہے۔میں اپنی ٹیم کیلئے بہتر سوچتا ہوں اورانہیں ساتھ لے کر چلتاہوں۔انہوں نے کہا کہ ریسکیو1122کا آغاز میں نے کیااورآج یہ بہترین ادارہ بن چکا ہے۔ریسکیو1122نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا میں اپنانام کمایا ہے۔

ایمرجنسی سروسز اکیڈمی میں سری لنکا سمیت بیرون ملک سے بھی ریسکیورز آتے ہیں۔ ریسکیو1122 نے اپنے قیام سے آج تک ایک کروڑ لوگوں کو ایمرجنسی سروس فراہم کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسا ریسکیو سسٹم دنیا میں کہیں نہیں ہے۔ریسکیو 1122 کا رسپانس امریکہ اور انگلینڈ سے بھی بہتر اور تیز ہے۔مجھے ایمرجنسی سروسز کیلئے انگلینڈ میں 25 منٹ اورامریکہ میں 40 منٹ انتظار کرنا پڑا۔ کورونا میں ریسکیو 1122 نے جس طرح کام کیا، اس کی مثال نہیں ملتی۔جب کوئی کورونا سے جاں بحق افراد کو ہاتھ نہیں لگاتا تو ریسکیورز اس کی تدفین کرتے تھے۔ہندوستان میں کورونا سے جاں بحق افراد کی لاشوں کو اکٹھا جلایا جاتاتھا۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر رضوان نصیرکی سربراہی میں یہ سارا کام ہورہا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ خوف خدا بہت ضروری ہے۔اپنے بچوں سے کہتا ہوں کہ کسی کو تکلیف نہ دو۔ جو چیز تمہیں تکلیف دے تو اسے سوچ کردوسروں کا احساس کرنا چاہیے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ انگلی اٹھا کر کسی کا نقصان کرنا یا بدنام کرنا کوئی کام نہیں۔اصل کام لوگوں کے دل جیتنا ہے۔ انتقام ہمیشہ مہنگا پڑتا ہے اوریہ حکمرانوں کو بھی مہنگا پڑا ہے لیکن ہمارے حکمران سیکھتے نہیں۔انہوں نے کہا کہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ شادوآباد رکھے اوریہ ملک دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے۔

ڈی جی ریسکیو 1122 ڈاکٹر رضوان نصیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آ ج ایک تاریخ ساز دن ہے۔2004میں ایمرجنسی سروس شروع کرنے کا آئیڈیا پرویز الٰہی کا تھا۔آپ نے ناممکن کو ممکن کردکھایا۔ریسکیو1122سروس جنوبی ایشیاء ماڈل سروس ہے۔آج یہ سروس پنجاب کی تمام تحصیلوں تک پھیل چکی ہے۔چیف سیکرٹری کامران افضل، انسپکٹر جنرل پولیس فیصل شاہکار، سابق پارلیمنٹیرین امتیاز رانجھا، ڈی جی ریسکیو 1122 ڈاکٹر رضوان نصیر، سیکرٹری اطلاعات راجہ منصور اور ریسکیورز کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔