fbpx

مونس الہیٰ کے بعد پرویز الہیٰ کا بھی عمران پر وار، نئے انتخابات کا اعلان

بچپن اور جوانی میں جب بچے غلطیاں کریں تو ماں باپ کے ساتھ ساتھ محلے دار اور رشتے دار بھی اسے درگزر کر کہ آگے بڑھ جاتے ہیں مگر جب ایک ستر سال بوڑھا بزرگ اور خود کو دانا کہنے والا دنیا بھر کے کلچر ، ثقافت ، تہذیب اور تاریخ کو جاننے کا دعوی کرنے والا خود کو لیڈر کہنے والا شخص غلطی کرے اور پھر غلطی پر غلطی کرتا ہی جائے اور اس کی غلطیوں سے نقصان کسی فرد کا نہیں بلکہ قوم اور ملک کا ہو رہا ہو تو اس شخص کو یہی کہا جائے گا کہ ۔۔۔بھائی آخر کب تک تماری غلطیوں کا ٹوکرا یہ قوم اپنے سر پر اٹھا کر اس کی سزا بھگتے

خود کو مہاتما ثابت کرنے والے عمران خان کے یوٹرن لینے کی مدت کم سے کم ہی ہوتی جا رہی ہے پہلے مہینوں میں یو ٹرن لیتے تھے پھر ہفتوں پر آئے ،مگر اب تو چند گھنٹو میں بیان بدل لیتے ہیں اور جاہل فولورز اور تحریک انصاف کے خوشامدی اس کو ڈیفینڈ کرنے لگتے ہیں

حال ہی کہ انٹرویو میں ایک بار پھر جناب قبلہ مہاتما عمران خان صاحب نے اپنی غلطیوں کا تذکرہ فرمایا ہےاور ساتھ ساتھ حکومت وقت سے ترلے اور منتیں بھی کیں کہ حضور کچھ تو میری سیاست کا پاس رکھیں مجھے کہیں تو منہ دکھانے کے قابل چھوڑیں۔۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مارچ کے آخر تک الیکشن کرانے پر تیار ہے تو ہم ابھی اسمبلیاں نہیں توڑتے۔
حالانکہ عمران خان اس سے قبل اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر چکے ہیں اور انتخابات اس سے قبل وہ نومبر سے بھی پہلے چاہتے تھے مگر جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے بیان بدل رہا ہے اور ہاتھ جوڑے گزارشات بھی بڑھ رہی ہیں