fbpx

کرپشن کے چودھری،کارناموں کی داستان،پرویز الہیٰ اور مونس الہیٰ کے بڑے کھابے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ چوہدری مونس الہی اور چوہدری پرویز الہی کا اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے مالی فوائد اٹھانے کا الزام سامنے آیا ہے

مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مونس الٰہی نے گاؤں سمہ، ڈھیر کے، شادیوال، ساروکی سے ڈنگہ تک زرعی زمین اپنے فرنٹ مین فرحان، رہائشی لاہور کے ذریعے مقامی لوگوں کو دھمکیاں دے کر خریدی ۔ زمین کی قیمت بڑھانے کے لیے اس نے گاؤں سمہ سے ڈنگہ تک سڑک کے منصوبے کا افتتاح کیا۔ منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اب تک شائد مکمل بھی ہو چکا ہو۔گجرات کی مقامی انتظامیہ کے ذریعے صنعتی فیز ٹو(400 ایکڑ) کے نام پر زرعی اراضی خریدی گئی اور کچھ دیہاتیوں کی زمین کو یا تو معمولی رقم دے کر یا انہیں ڈرا دھمکا کر ہتھیا لیا۔انڈسٹریل فیز ٹو پروجیکٹ کے ساتھ ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے مقامی لوگوں کو ڈرا کر اور زمینوں پر قبضے کے زریعہ زمین خریدی گئی ۔ ریٹ بڑھانے کے لیے یہ افواہیں پھیلائی گئیں کہ اس سڑک پر موٹروے کا لنک قائم ہو جائے گا۔منڈی بہاو الدین میں جی ٹی روڈ ضیغم گوندل پر ایک ٹیوٹا شوروم ہے۔ گجرات میں سیوریج کے تمام منصوبوں میں بیس فیصد کمیشن لینے کا الزام ہے۔گزشتہ چند سالوں میں پانچ سو سے سات سو ایکڑ زمین حاصل کی گئی۔ جس میں سے بیشتر ڈرا دھمکا کر سودے کیئے گئے۔انڈسٹریل فیز ٹو چیمبر آف کامرس کا پراجیکٹ تھا لیکن اس پراجیکٹ میں چیمبر کی شمولیت صفر ہے لاہور کے مسٹر فرحان مبینہ طور پر مونس الہی کے فرنٹ مین ہیں جو ان کی جائیداد کے تمام معاملات دیکھ رہے ہیں۔

 

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مونس الہی پر الزام ہے کہ وہ ماہانہ دس لاکھ روپے سابق سب رجسٹرار ارشاد اللہ سے رشوت لیتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ڈی ایس پی ٹریفک سے ماہانہ دس لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام بھی ہے ۔ جو کرپشن کیسز پر ملازمت سے برطرف ہو گیا تھا سابق ڈی سی گجرات سے ماہانہ دس لاکھ روپے رشوت لینے کا بھی الزام ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ ڈی پی او گجرات عمر سلامت لاڑ سے بھی ماہانہ رشوت لیتا رہا ہے۔ 2010 میں مونس الٰہی پر این آئی سی ایل میں کرپشن کا الزام تھا۔ان کے والد چوہدری پرویز الہی کے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب کے دور میں این آئی سی ایل سکینڈل میں 320 ملین روپے کی کرپشن ہوئی تاہم انہوں نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی۔ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہونے پر انہیں اشتہاری قرار دیا گیا جس کے نتیجے میں انہیں نیب نے گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں انہیں 2011 میں غیر حتمی شواہد کی بنا پر بری کر دیا گیا اور 2012 میں اس حوالے سے تمام الزامات کو خارج کر دیا گیا۔ 2 جنوری 2020 میں، احتساب عدالت نے مشاہدہ کیا کہ استغاثہ اس کے خلاف کوئی ریکارڈ/شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہا اور این آئی سی ایل اسکینڈل میں تمام ملزمان کو بری کر دیا۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ مونس الٰہی نے دوہزار سات میں اپنے اثاثوں کی مالیت پانچ لاکھ روپے سے زیادہ ظاہر نہیں کی تھی۔ تاہم دوہزار نو میں ان کے اثاثوں میں حیرت انگیز طور پر 700 ملین روپے کا اضافہ ہوا۔

دوہزار سولہ میں پاکستان سے باہر آف شور بینک اکاؤنٹس رکھنے پر ان کا نام پاناما پیپرز میں آیا تھا۔ تاہم ان کے والد نے دعویٰ کیا کہ مونس الٰہی کا آف شور اکاؤنٹس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ 2017 میں، قومی احتساب بیورو نے مونس الٰہی کے خلاف نئی تحقیقات کا آغاز کیا جو کہ ابھی تک تفتیش میں ہے۔ لاہور رنگ روڈ پراجیکٹ میں کرپشن کا تصور ابتدائی طور پر پرویز الٰہی کے بطور وزیراعلیٰ پنجاب کے دور میں ہوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ مونس الٰہی کو تمام ماسٹر پلان کا علم تھا۔ اس لیے اس نے زیادہ سے زیادہ زمین انتہائی سستے نرخوں پر خریدی اور بعد میں اسے بہت زیادہ قیمت پر حکومت کو فروخت کر دیا۔رنگ روڈ اور دیگر منصوبوں کے ذریعے کمائی گئی تمام رقم مختلف یورپی ممالک میں لانڈرنگ کی گئی اور مختلف ممالک میں پراپرٹیز اور پلازوں کا سلسلہ کھڑا کیا گیا۔اس نے یورپ کے ایک یا دو شہروں میں بجلی کے منصوبے لگائے۔ جنوبی کوریا میں اپنے فرنٹ مین رانا گلزار جو چوہدری برادران کا کلاس فیلو بھی تھا کہ زریعہ جنوبی کوریا میں بھی سرمایہ کاری کی۔ رانا گلزار کا شمار جنوبی کوریا کے چند بڑے سرمایہ کاروں میں ہوتا ہے اور اطلاعات کے مطابق مونسی الٰہی کی زیادہ تر سرمایہ کاری بھی رانا گلزار نے کی ہے۔ اور اس سے خاندانی رشتہ داری بھی بنائی گئی۔جنرل الیکشن 2018این او سی کے کے بعد، ضلع گجرات کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس چوہدریوں کے کے بعد تعینات کی جاتی تھی ۔ایک موقع پر ضلع کونسل گجرات کے ٹینڈرنگ کے دوران سعادت نواز ایم پی اے مسلم لیگ (ق) چوہدری پرویز الٰہی کے فرنٹ مین شجاعت نواز ڈی سی آفس گجرات میں گھس گئے اور ڈی سی گجرات ڈاکٹر خرم شہزاد کے ساتھ بدتمیزی کی۔ لیکن بعد میں، سزا کے بجائے، ڈی سی کو معافی مانگنی پڑی اور مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے معاملات طے کر لیے۔

ندیم ملہی چیف ایگزیکٹو ملہی گروپکا چوہدری برادران گجرات کے ساتھ مل کر کرپشن میں ملوث ہونے کا انکشاف۔

ندیم اختر ملہی ضلع گجرات کا ایک امیر تاجر ہے۔ وہ ریت کی کھدائی، انٹرنیشنل امیگریشن، اور پراپرٹی بشمول بھاری مشینری کے کاروبار کا مالک ہے۔ چوہدری خاندان سے ان کے بہت گہرے روابط ہیں۔ ندیم مبینہ طور پر چوہدری برادران کا اہم فرنٹ مین تصور کیا جاتا ہے ۔ اس نے اپنے نام پر بھاری مقدار میں جائیداد رکھی ہے جو دراصل مونس الٰہی،حسین الٰہی کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ان کی ڈکلیئرڈپراپرٹی اسلام آباد، لاہور، گوجرانوالہ اور گجرات میں واقع ہے

امیگریشن، ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اور ریت کی کھدائی کا کاروبار۔۔۔
ناجائز کمائی گئی رقم کو قانونی شکل دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور غیر قانونی طور پر کمائِ گئی رقم مبینہ طور پر باقائدگی سے چوہدری وجاحت کو ڈلیور کی گئی ۔ چوہدری وجاہت حسین کو پہنچائی گئی رقم مزید مقامی منشیوں کے ذریعے جعلی اکاؤنٹس میں جمع کرائی گئی۔ اس بات کی بھی مصدقہ طور پر تصدیق ہوئی ہے کہ ندیم ملہی روزانہ کی بنیاد پر چوہدری وجاہت کو ڈیڑھ لاکھ پہنچاتے تھے ۔۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ندیم اختر ملہی ضلع گجرات میں نئی سڑکوں کی تعمیر میں کرپشن میں ملوث ہیں۔ ندیم ملہی کے ساتھ طارق داراجی نے نئی مجوزہ سڑکوں کے ارد گرد قیمتی زمین خریدی اور زمین کو زبردست منافع کے عوض حکومت کو فروخت کر دیا۔

ریت کی کھدائی کے معاہدے
مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ٹھیکیداروں کو ایک پروسیس کے ذریعے ریت کی کھدائی کا معاہدہ دیا گیا جس میں بولی لگانے والے، بولی لگانے کا عمل، ٹینڈرز وغیرہ شامل ہیں اور اس سارے عمل کی نگرانی ضلعی انتظامیہ کرتی ہے2018 کے دوران ADC(R) کی ملی بھگت سے ریت کی کھدائی کا ٹھیکہ غیر قانونی طور پر ندیم اختر ملیہی کو دیا گیا۔اور یہ سب کچھ چوہدری برادران کے اپنے آبائی علاقے کی ضلعی انتظامیہ اور سیاست پر اثر و رسوخ کی وجہ سے ممکن ہوا ۔ کوئی بولی نہیں لگائی گئی اور نہ ہی ٹھیکیداروں سے طریقہ کار کو مکمل کرنے کے لیے کوئی ٹینڈر طلب کیے گئے، کسی کو بھی ندیم اختر ملہی کے علاوہ کسی سے بولی نہ لی گئی ۔اے ڈی سی گجرات آکشن کمیٹی کے چیئرپرسن اور Assistant director mines auction committeeکے سیکرٹری تھے۔ اس معاملے کو کھولنے پر،ایف آئی آر نمبر 16/20 مورخہ پچیس جولائی 2020کو سیکشن 409،420 پی پی سی کے تحت اینٹی کرپشن گجرات میں درج کیا گیا۔ جس میں ندیم اختر ملہی کا نام بینیفشری کے طور پر درج کیا گیا۔اسے گرفتار کر کے تفتیش میں شامل کیا گیا۔ آپ ایف آئی آر دیکھ سکتے ہیں۔اے سی ای گجرات اور ندیم اختر ملہی دونوں ضمانت پر ہیں۔ندیم اختر ملہی اور اے ڈی سی (ر) گجرات کے خلاف ایک اور ایف آئی آر درج ہوئی 26/20مورخہ چودہ نومبر دوہزار بیس ۔۔الزامات بتاتے ہیں کہ دونوں اہم افراد نے قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا۔ ندیم اختر ملہی سپیشل جج اینٹی کرپشن گوجرانوالہ کی عدالت میں سماعت کے لیے گئے تو ندیم ملہی عدالت سے باہر نکلے تو انہیں اینٹی کرپشن نے دوبارہ گرفتار کر لیا۔ لیکن جب ان جیسے لوگوں کی پشت پناہی سرکار میں بیٹھے لوگ کر رہے ہوں تو انہیں اندر رکھنے کی جرات کون کر سکتا ہے۔ یہی ہمارے سسٹم کی بدقسمتی ہے۔