پیسرز کے ہاتھ باندھنے کے لیے مزید قوانین کی تیاری

پیسرز کے ہاتھ باندھنے کے لیے مزید قوانین کی تیاری

باغی ٹی وی : فاسٹ باؤلرز اور امپائرز کے گرد پھر سے گھیرا تنگ کیا جانے لگا ہے . ایک زمانہ تھا،فاسٹ بائولرز کا طوطی بولتا تھا،دنیائے کرکٹ میں ہر ٹیم کے پاس خطرناک اور کچھ کے پاس دہشت ناک بائولرز تھے،پھر ان کے خلاف قوانین بننے لگے،ریورس سوئنگ کو بال ٹیمپرنگ کہا جانے لگا اور پھر ان کا زوال شروع ہوگیا جو اب بھی جاری ہے،یہی وجہ ہے کہ انٹر نیشنل کرکٹ کے ٹاپ تھری وکٹ ٹیکرز اسپنرز بن گئے.مرلی دھرن،شین وارن اور انیل کامبلے کی جگہ کورٹنی والش،کپیل دیو اوراین بوتھم کا نام ہوتا تھا،وہ نام کیا دور ہوئے،اب پیسرز کا وہاں تک پہنچنا ہی ناممکن ہوگیا ہے ،ابھی یہ مشکلات کم تھیں کہ ایک اور بڑے فیصلے کی تیاری کی جارہی ہے.
دنیائے کرکٹ کے قوانین میں تبدیلیاں آرہی ہیں،اہم قانون کے حوالہ سے بحث و مباحثہ شروع ہوچکا ہے ان میں کووڈ-19کے حوالہ سے بھی ایک اہم بات شامل ہے جبکہ امپائرز کے فیصلوں کو معطل کئےجانے کی مزید شقیں ہیں اور اسی طرح فاسٹ بائولرز کے پر مستقل طور پر کترنے کی حتمی تیاریاں ہیں۔

انٹر نیشنل کرکٹ کونسل کے ایما پر اس کی ورلڈ کرکٹ اور ایم سی سی کرکٹ کمیٹیز ان پر کام شروع کرچکی ہیں،جلد ہی حتمی سفارشات تیار ہوجائیں گی۔
کووڈ-19کے بعد شروع ہونے والی کرکٹ کافی تبدیل ہے،بائیو سیکیور ببل کے ساتھ گیم کے حوالہ سے متعدد تبدیلیاں کی جاچکی ہیں اور بائولرز یا فیلڈرز کی جانب سے فی الحال بال پر تھوک لگانے کی پابندی ہے،اب اس عارضی پابندی کو مستقل کیا جارہا ہے ۔کرک سین کے مطابق کرکٹ کمیٹی اور ورلڈ کرکٹ کمیٹی اس سمیت کچھ اور نئی باتیں بھی طے کی جارہی ہیں،ان کو تیار کرکے منظوری کے لئے 2اہم محاذ پر پیش کیا جائے گا۔کرکٹ کمیٹی اور ایم سی سی کمیٹی ان سب کا جائزہ لے گی۔دوسری جانب فاسٹ بائولرز کے پر کترنے کے لئے حتمی پلان اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔آئی سی سی کمیٹی سروے کروائے گی،اس سروے کی روشنی میں دیکھاجائےگاکہ فاسٹ بائولرز پر بائونسرز مارنے کی پابندی لگائے جائے یا نہیں،کیونکہ کرکٹ میں بیٹسمینوں کے لئے خطرات بڑھ رہے ہیں۔اب تک متعدد واقعات ایسے ہوئے ہیں کہ بلے بازوں کی جان خطرے میں رہتی ہے۔کرکٹ میں بائونسرز سے زخمی ہونے والے کی جگہ اگرچہ متبادل کی اجازت دی جاچکی ہے،اس کے باوجود بیٹسمین کی زندگی کامسئلہ رہتا ہے اس لئے اب اس کے مستقل حل کی کوشش کی جارہی ہے،فیصلہ سروے رپورٹ کی بنیاد پر ہوگا۔
دوسری جانب کرکٹ میں ڈی آر ایس کے حوالہ سے بھی مسلسل شکایات چل رہی تھیں کہ کچھ چیزوں میں ریویو درست لیئے جانے کے باوجود بھی اس لئے کارآمد نہیں رہتاہکہ امپائر کا فیصلہ برقرار رہتا ہے۔آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ امپائر کے فیصلے کے خلاف ری پلے ہوتا ہے لیکن تینیکی قواعد کی بنیاد پر امپائر کا فیصلہ برقرار رہتا ہے،جسے یوں کہا جاتا ہے کہ امپائر کال برقرار ہے،تو اسے بھی اب تبدیل کئے جانے کا منصوبہ ہے۔

کرک سین کا ماننا ہے کہ بائولرز پر پہلے ہی 2 بائونسرز کی پابندی یا نو بال کے پہرے نے انہیں اپاہج کردیا ہے۔بیٹسمینوں کی حفاظت کے لئے مزید کچھ حفاظتی چیزیں دیکھی جائیں لیکن شاٹ پچ بالز پر پابندی نہ لگائی جائے کیونکہ پابندی کی صورت میں بائولرزکے ہاتھ پائوں مزید کٹ جائیں گےاور وہ صرف بالیں آگے کرنے کے پابند ہوجائیں گے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.