پی سی بی کی جانب سے جواب مسترد ہونے پر سابق کپتان سلیم ملک سامنے آگئے

سلیم ملک نے کرکٹ بورڈ کی جانب سے اعتراف کا لیٹر منظر عام پر لانے کو مضحکہ خیز قراردے دیا.

کرکٹ بورڈنےمجھے ای میل کرکے ٹرانسکرپٹ کہا جواب درست نہیں دیا۔ ای میل میں کہا گیا کہ جواب میں یہ غلطیاں ہیں درست کریں۔ میں تو ٹرانسکرپٹ کے دوسرے جواب کی تیاری کررہا تھا کہ یہ 2014 کا معاملہ سامنے لے آئے۔ میں 2014 نہیں 2013 کے آخر میں کرکٹ بورڈ کے پاس گیا تھا۔ نجم سیٹھی ، سبحان احمد اور تفضل رضوی سے ملاقات میں اپنا مسئلہ اٹھایا۔ میرا موقف تھا کہ میرے ساتھ غلط کیا جارہا ہے۔ چیئرمین نجم سیٹھی نے معاملہ حل کرنے کا کہا ۔ سبحان احمد اور تفضل رضوی نے کہا کہ ایک طریقہ ہے اس معاملے کو حل کرنے کےلئے لیٹر لکھا جائے۔ دونوں کاکہنا تھا کہ لیٹر آئی سی سی کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے لکھنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیٹر لکھنے کے ایک دو ہفتے میں معاملہ ختم ہوجائے گا۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ معاملہ ختم ہونا چاہئے ۔ سلیم ملک

ان دونوں کے کہنے پر ہی میں نے لیٹر پر دستخط کئے تھے۔ ایک طرف کرکٹ بورڈ مجھ سے جواب مانگ رہا ہے اور دوسری جانب نئی کہانی سامنے لے آئے۔ کرکٹ بورڈ میں کالی بھیڑیں بیٹھی ہیں جو معاملے کو خراب کررہی ہیں ۔ میں 20 سال پاکستان کے لئے کھیلا ہوں اور تن تنہا کئی میچز پاکستان کو جتوائے ہیں ۔ چیئرمین پی سی بی انکوائری کرکے معاملہ خراب کرنے والے لوگوں کو سامنے لائیں ۔ پی سی بی کو ہر حال میں معاملہ خراب کرنے والوں کا پتا لگانا چاہئے۔ آئی سی سی کو بھجوانے کے لئے لکھوایا جانے والا لیٹر میرے خلاف استعمال کرنا مضحکہ خیز ہے۔ بورڈ نے جواب کسی چیز مانگا اور پریس ریلیز کوئی کچھ اور جاری کی گئی ۔ بورڈکومعاملہ حل کرنے کے ساتھ معاملات خراب کرنے والے لوگوں کو سامنے لانا چاہیے ۔ سلیم ملک

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.