پاکستان پیٹرولیم ڈیلرزاورحکومت کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر سے ناکام

0
117

ایک طرف پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے حکومت سے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں اور ایسوسی ایشن نے 5 جولائی کی صبح 6 بجے سے ملک بھر کے پیٹرول پمپس بند کرنے تو دوسری جانب پاکستان آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے اس ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کردیا ہے۔ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ وزیرخزانہ،چیئرمین ایف بی آر،چیئرمین اوگراسےملاقاتیں ہوئیں، حکومت سےبارہامطالبہ کیاکہ ٹیکس واپس لیں لیکن مذاکرات میں کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ جس کے بعد پیٹرولیم ڈیلرز نے کل صبح 6 بجے سے پیٹرول پمپس بند کرنے کا اعلان کر دیا ۔پاکستان پیٹرولیم ڈیلرزاورحکومت کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر سے ناکام ہو گئے ہیں، پیٹرولیم ڈیلرزایسوسی ایشن کے مطابق مذاکرات میں کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔
گزشتہ روز بھی پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وفد کی وزیرخزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور چیئرمین اوگرا سے ملاقاتیں ہوئیں تھیں، لیکن مذاکرات میں کوئی نتیجہ نہیں نکلا سکا تھا۔پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالسمیع خان کا کہنا تھا کہ ہڑتال کا دورانیہ ایک دن سے زیادہ بھی ممکن ہے، 4 جولائی تک کا پیٹرول پمپس پر رکھیں، کل رات سے ملک بھر کے پمپس ڈرائی ہونا شروع ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا تھا کہ جب تک حکومت اس فیصلے کو واپس نہیں لیتی کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، ملک بھر میں 14 ہزار ڈیلرز اپنے پمپ 5 جولائی سے بند کر دیں گے۔آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شمس شاہوانی کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی جاری رہے گی، موجودہ صورت حال میں سپلائی بند کرنے کا سوچ نہیں سکتے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے صارفین کو پریشانی سے بچانے کے لئے فیصلہ کیا ہے۔

Leave a reply