fbpx

پی ڈی ایم کا ہنگامی اجلاس طلب، شہباز شریف کا وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ

پی ڈی ایم کا ہنگامی اجلاس طلب، شہباز شریف کا وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کا پیٹرول کی قیمت اور مہنگائی پر آج ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا

پی ڈی ایم کا ویڈیو لنک اجلاس آج سہ پہر ساڑھے 3 بجے ہوگا،ترجمان پی ڈی ایم حافظ حمد اللہ کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان ڈیرہ اسماعیل خان سے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس کی صدارت کریں  گے،اجلاس میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے متعلق حکمت عملی پر غور ہوگا پیٹرول کی قیمت اور مہنگائی کے خلاف احتجاج کی حکمت عملی پر بھی غور کیا جائے گا،حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے 18 بل پاس کروانے ہیں جن میں بیرون ملک پاکستانیوں کوووٹ کاحق دینے، ای ووٹنگ اور ای وی ایم جیسے بل بھی شامل ہیں۔

قبل ازیں پی ڈی ایم نے 11 نومبر کو اسلام آبا دمیں اجلاس طلب کر رکھا ہے، مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس 11نومبر کو طلب کر لیا گیا،مولانا فضل الرحمان نے ن لیگی قیادت سے مشاورت کے بعد ہنگامی اجلاس طلب کیا اجلاس اسلام آباد میں ہوگا،سیاسی بحران سے نمٹنے کے لیے غیرمعمولی فیصلے کیے جائیں گے،اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کے حوالے سے بھی مشاورت ہو گی، باخبر ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم کا اجلاس ن لیگ کے رہنما سابق وزیراعظم نواز شریف کی خواہش پر طلب کیا گیا ہے

دوسری جانب پی ڈی ایم سے نکالی گئی پیپلز پارٹی کی دوبارہ پی ڈی ایم میں شمولیت ہو سکتی ہے، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیاست میں مفاہمت ہو سکتی ہے پی ڈی ایم ہی پیپلز پارٹی کی شمولیت کا فیصلہ کرے گی پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا انتخابی اتحاد کا آپشن زیر غور ہے،سینیٹ اور چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے بعد پی ڈی ایم سے پی پی الگ ہوئی تھی، اب ایک بار پھر پی پی رہنما سید خورشید شاہ کی رہائی کے بعد پیپلز پارٹی کی پی ڈی ایم میں شمولیت کے لئے کوششیں شروع ہو گئی ہیں، ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب نے خورشید شاہ سے جیل میں ملاقات کی تھی جس پر پی پی نے خؤرشید شاہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا تھا

ن لیگی رہنماؤں نے پارٹی قائد کو ان ہاوس تبدیلی کے موقف پر نظر ثانی کی اپیل کر دی،ن لیگی مفاہمتی گروپ نے حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے ان ہاوس تبدیلی ناگزیر قرار دیدی،مفاہمتی گروپ نے رائے دی کہ مرکز اور پنجاب میں ان ہاوس تبدیلی وقت کی ضرورت ہے اپوزیشن کے تمام جماعتیں ان ہاوس تبدیلی کے لیے تیار ہیں، نجی ٹی وی کے مطابق حکومتی اتحادی ان ہاوس تبدیلی کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرا رہے ہیں ان ہاؤس تبدیلی کے لیے خورشید شاہ کا فارمولا بہترین آپشن ہے،ن لیگ کے قائد نے چند روز قبل مرکز اور پنجاب میں ان ہاوس تبدیلی کے آپشن کی مخالفت کی تھی ن لیگی قائد نے پارٹی کو ان ہاؤس تبدیلی کے لیے حکومت مخالف تحریک کو تیز کرنے پر زور دیا تھا، ن لیگ کےقائد ان ہاوس تبدیلی کے موقف پر نظر ثانی کرتے ہیں یا نہیں فیصلہ ایک 2 روز میں ہونے کا امکان ہے .

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری بھی کئی بار ان ہاؤس تبدیلی کی بات کر چکے ہیں اور اس امر کا اظہار کر چکے ہیں کہ پنجاب سے بزدار جائے گا اور تبدیلی آئے گی، صرف وزیراعلیٰ نہیں جائے گا بلکہ اس سے ابتدا ہو گی اور پھر ہر طرف تبدیلی آئے گی، پی پی رہنما خورشید شاہ اور حمزہ شہباز کے مابین رابطہ ہوا ہے، احسن اقبال کی خورشید شاہ سے ملاقات ہوئی ہے، خورشید شاہ اسلام آباد یا لاہور میں ن لیگی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے، اور اس دوران پی پی کی پی ڈی ایم میں دوبارہ شمولیت ، ان ہاؤس تبدیلی اور حکومت کے خلاف احتجاج کے حوالہ سے اہم مشترکہ فیصلے ہوں گے

اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز ان ہاوس تبدیلی کے لیے متحرک ہوگئے ہیں حمزہ شہباز شریف نے اراکین اسمبلی کو خصوصی ٹاسک سونپ دیا۔اپوزیشن لیڈر نے مذکورہ ارکان اسمبلی کو پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی کا جائزہ لینے کی ہدایت کر دی۔حمزہ شہباز نے ہدایت کی کہ اگر ہم پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی لاتے ہیں تو ہمارا کیا سکور ہوگا۔ان ہاؤس تبدیلی کے لیے پی ٹی آئی کے کتنے ارکان ن لیگ کا ساتھ دیں گے اس کا لیگی رہنما جائزہ لیں گے

دوسری جانب نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ‏خود کو ایماندار، دوسروں کو چور کہنے والے پٹرول پر فی لیٹر 21 روپے اور ڈیزل پر فی لیٹر 28 روپے حاصل کر رہے،
حکومت پیٹرولیم لیوی 10 روپے فی لیٹر لے رہی جو 15 روپے تک لے جائے گے، تباہی سرکار آئی ایم ایف کی شرائط پر لیوی کے ذریعے 250 سے 300 ارب حاصل کرنا چاہتی، ‏صرف پیٹرولیم لیوی کی محصولات کا ہدف 120 ارب کے رلیف پیکج سے بھی زیادہ ہے،آئی ایم ایف کا قرضہ حاصل کرنے کے لئے حکومت پیٹرول، بجلی اور گیس کے نرخوں میں مزید اضافہ کرے گی، ملک میں مزید بحران اور مہنگائی کی سونامی آئے گی،عوام کو ریلیف تب ملے کا جب یہ نااہل حکومت گھر جائے گی،

قبل ازیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مہنگائی پر قابو پانے میں عمران خان کا بس نہیں چل رہا تو استعفیٰ دیں،آٹا، چینی، گھی، دوائی، بجلی، گیس اورپیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ افسوسناک ہے،یہ عوام پر مہنگائی کی بمباری ہے ظلم کی حکومت نہیں چل سکتی

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!