fbpx

پی ڈی ایم کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟ تحریر: میاں مجیب الرحمٰن

قیام پاکستان کے بعد جب سے جمہوری حکومتیں قائم ہوتی رہی ہیں تو وہاں پر اس جمہوری حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ پلیٹ فارم بھی قائم ہوتا آ رہا ہے جو منتخب جمہوری حکومتوں کو دفاعی پوزیشن لینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کی ضرورت اس وقت محسوس ہوتی ہے جب حکومت اپنے ملک کی عوام کی آواز کو ترجیح نہ دیتی ہو، انکے مسائل حل نہ کرتی ہو، بیروزگاری حد سے زیادہ بڑھ رہی ہو، پاکستانی عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہو تو اس لمحے پاکستانی عوام ایک ایسی سیاسی جماعت کی طرف دیکھنا شروع ہو جاتی ہے جو اپنی آواز کو عوام کی آواز کے ساتھ ملا کر حکمرانوں کے ایوانوں تک پہنچانے میں کامیاب ہوسکے تو وہاں پر سیاسی خلاء کو پورا کرنے کے لیے اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہوکر ایک پلیٹ فارم بناتی ہیں جس کا مقصد صرف عوام کے مسائل کو میڈیا کے ذریعے حکمرانوں تک پہنچانا ہوتا ہے۔ پاکستان میں سب سے پہلا اپوزیشن کا اتحاد 1954ء میں "آزاد پاکستان پارٹی” کے نام سے بنا جس کی قیادت میاں افتخار الدین نے کی تھی۔ یہ جماعت 1956میں مشرقی پاکستان کی مضبوط بنگالی تحریک سے جڑ کر نیشنل عوامی پارٹی کی صورت میں پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ کے مقابل ایک بڑے محاذ کی صورت میں کھڑی ہوئی تھی اور اس پارٹی کے بارے میں تصور کیا گیا تھا کہ اگر 1956ء کے آئین کے تحت وطنِ عزیز میں پہلے آزادانہ انتخابات ہو جاتے تو پاکستانی حکومت مسلم لیگ کی بجائے نیشنل عوامی پارٹی کے ہاتھوں میں ہوتی۔ ابھی یہ چپقلش سیاسی جماعتوں کے درمیان جاری ہی تھی کہ اکتوبر 1958ء میں ایوب خان نے پاکستان کے اندر مارشل لاء نافذ کر دیا اب سیاسی جماعتوں نے مارشل لاء کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے ایک بار پھر اکٹھا ہونا شروع کیا اور ایوب خان کی حکومت گرانے کے لیے یقیناً نوابزادہ نصر اللّٰہ کی قیادت میں ایک متحدہ محاذ بنا اور پھر اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی صورت میں ایک بڑے عوامی اُبھار نے ایوبی آمریت کے خاتمے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس آمریت کے خاتمے کے ساتھ ہی ذوالفقار علی بھٹو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے اور پاکستان نیشنل الائنس کا قیام وطنِ عزیز میں وہ پہلا اپوزیشن اتحاد تھا جو بھٹو صاحب کی سویلین حکومت ختم کرنے کے لیے وجود میں آیا اور جس میں جماعتِ اسلامی جیسی دائیں بازو کی جماعت بھی تھی اور ترقی پسند سیکولر جماعت نیشنل عوامی پارٹی بھی، مگر زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پی این اے کو شورش زدہ اسٹریٹ پاور بنانے میں براہِ راست امریکا بہادر کا ہاتھ تھا جو مقبول عوامی لیڈر کو پہلا اسلامی بم بنانے کی پاداش میں مثالی سزا دینا چاہتا تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے کے بعد جنرل ضیاء کی طاقتور حکومت کے خلاف بننے والا اتحاد یعنی تحریک بحالی جمہوریت یا ایم آر ڈی کا قیام 1981ء میں عمل میں آیا۔ اس تحریک کی ناکامی کا ایک بڑا سبب سب سے بڑے صوبے پنجاب میں عوام کا بڑے پیمانے پر متحرک اور مزاحمت نہ کرنا اور اس کا سندھ تک محدود ہونا تھا۔ ایم آر ڈی کی تحریک کے دم توڑنے کے بعد اگلے 5 سال ضیاء الحق کی فوجی حکومت کے خلاف کوئی بڑی مزاحمتی تحریک نہ چل سکی حتیٰ کہ خود ایک پُراسرار سانحے کی صورت میں فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق اس جہان سے کوچ کرگئے۔ اس کے بعد 80ء اور پھر 90ء کی دہائی میں جس اپوزیشن کے اتحاد نے شہرت حاصل کی وہ اسلامی جمہوری اتحاد یعنی آئی جے آئی تھا۔ جس کی بنیاد ڈالنے میں اس وقت کے پرائم ایجنسی کے ایک میجر اور بریگیڈیئر بڑے کریڈٹ لے کرگئے، جس میں ریٹائرڈ میجر عامر اور بریگیڈیئر امتیاز پیش پیش تھے۔ اس کے بعد پاکستان میں تیسرے مارشل لاء کے داعی جنرل پرویز مشرف کے خلاف کوئی بڑا اپوزیشن اتحاد وجود میں نہیں آیا۔ تاہم کالے کوٹوں کی قیادت میں جو تحریک چلی اس میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) سمیت ساری ہی اپوزیشن جماعتیں شامل تھیں۔ جس نے پرویز مشرف کے خلاف سڑکوں پر نکل کر جدوجہد کی۔ پرویز مشرف کے مارشل لاء کے خاتمے کے بعد ملک میں دو بڑی سیاسی جماعتوں کا وجود رہ گیا تھا جو پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی شکل میں اس ملک پر حکومت کرتا رہا۔ اب جب 2018ء کے الیکشن میں تحریک انصاف جنرل الیکشن جیتنے میں کامیاب نظر آئی تو شروع شروع میں اپوزیشن عمران خان کے خلاف اکٹھی نہ ہوسکی لیکن پھر مولانا فضل الرحمٰن نے تمام اپوزیشن جماعتوں کو "پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ” کے نام سے ایک چھتری تلے اکٹھا کیا جس کا واحد مقصد اس حکومت کو گھر بھیجنا تھا۔ پی ڈی ایم نے اپنے ابتدائی مراحل بڑی کامیابی کے ساتھ مکمل کیے جس میں ملک کے چاروں صوبوں میں بڑے بڑے جلسے منعقد کرنا اور ریلیاں نکالنا تھا، پی ڈی ایم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھ کر حکومت دفاعی پوزیشن لینے پر مجبور ہوئی اور عوام بھی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کے لیے پی ڈی ایم کا ساتھ دینے لگی لیکن اس پی ڈی ایم میں ٹوٹ اس وقت پڑی جب دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان استعفوں کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار تھا، مسلم لیگ ن چاہتی تھی کہ صوبوں اور قومی اسمبلی کی نشستوں سے استعفے دیے جائیں جبکہ پیپلز پارٹی کا موقف تھا کہ استعفوں کی بجائے پارلیمنٹ کے اندر رہتے ہوئے اس سیلیکٹڈ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے اور یوں اس حکومت کا خاتمہ کر دیا جائے کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت مضبوط کندھوں پر نہیں کھڑی ہوئی بلکہ اپوزیشن جماعتوں کے ایک جھٹکے سے یہ حکومت ختم ہوسکتی تھی۔ یہاں پر اگر میں اپنی رائے بیان کروں تو میرے نزدیک پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف سب سے مضبوط موقف تھا کیونکہ اگر آپ نے اسمبلیوں سے استعفے ہی دینے تھے تو آپ حلف ہی نہ اٹھاتے جس کا اقرار مسلم لیگ ن کے قائدین وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں لیکن اگر آپ نے حلف اٹھا لیا ہے تو آپ کو استعفے دینے کی بجائے عدم اعتماد کی طرف بڑھنا چاہئیے کیونکہ اگر اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہوکر بغیر کسی خلائی دباؤ کے یوسف رضا گیلانی کو سینٹ کا ممبر منتخب کروا سکتی ہیں تو وہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کو کامیاب بھی کر سکتی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے بکھرنے کی وجہ سے تحریک انصاف کی حکومت کے سینکڑوں کرپشن کیسز کی معلومات عوام تک پہنچنے میں ناکام رہیں، مثال کے طور پر ادویات اسکینڈل، آٹا اسکینڈل، چینی اسکینڈل، بلین ٹری سونامی اسکینڈل، راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل۔۔ یہ وہ بڑے اسکینڈلز ہیں جن کو اپوزیشن عوامی سطح پر اٹھانے میں بالکل ناکام نظر آئی۔ اگر انہی کیسز کے خلاف کاروائی کرنے اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے پی ڈی ایم کا مشترکہ پلیٹ فارم استعمال کیا جاتا تو اپوزیشن کی طرف سے حکومت کے اوپر مزید دباؤ بڑھ جانا تھا۔
اس لیے پی ڈی ایم کے سربراہ کو چاہئیے کہ وہ پیپلز پارٹی اور اے این پی کو دیے گئے شوکاز نوٹس واپس لیں اور اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی حکمت عملی پر عمل درآمد کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک بار پھر اکٹھا کریں اور حکومت کے خلاف مضبوط موقف اختیار کرکے اس سیلیکٹڈ حکومت کو گھر چلتا کریں تاکہ اپوزیشن جماعتوں کا یہ گرینڈ الائنس کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!