پیمرا کی کارکردگی ناقص،نوٹس دیکر خاموش ہو جاتا،عدالت نے چیئرمین پیمرا کو طلب کر لیا

پیمرا کی کارکردگی ناقص،نوٹس دیکر خاموش ہو جاتا،عدالت نے چیئرمین پیمرا کو طلب کر لیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سول جج سرگودھا اور اسسٹنٹ کمشنر سرگودھا کے درمیان تنازعہ لاہور ہائی کورٹ میں شہری کی درخواست پر سماعت ہوئی،

عدالت نے سماعت 27 جنوری تک ملتوی کر دی ،عدالت نے چیرمین پیمرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کر لیا۔ عدالت نے چیف سیکرٹری اور متعلقہ کمشنرز اور ڈی سز کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا ۔عدالت نے اس ایشو پر چلنے والی وڈیو کی نادرا سے تصدیق کروانے کی ہدایت کر دی ۔

عدالت نے ہڑتال کرنے والے افسر شاہی کی تصاویر اور ویڈیو طلب کر لیں ۔عدالت نے کیس کے متنازعہ اسسٹنٹ کمشنر کو تحریری جواب داخل کرنے کی ہدایت کر دی ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب طے ہو جائے کہ عدلیہ ازاد ہے اور ایگزیکٹو کے ماتحت نہیں ،چیرمین پیمرا کو بھی علم ہو کہ عدلیہ کے خلاف باتیں کرنے پر کیا کاروائی ہو سکتی ہے ۔عدالت کو ہڑتال کرنے والے بیورو کریٹس کے بارے اگاہ نہ کیا گیا۔نہ ریکارڈ پیش کیا گیا۔عدالت نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریکارڈ طلب کر لیا۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ کسی بیوروکریٹس نے کوئی ہرتال نہین کی۔ میڈیا نے غلط رپورٹنگ کی۔ وکیل پیمرا نے کہا کہ پیمرا نے غلط رپورٹنگ کرنے والے چینلوں کو نوٹس دیے ہیں ۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے کہا کہ پیمرا کی کارکردگی ناقص ہے پیمرا صرف شوکاز نوٹس دے کر خاموش ہو جاتا ہے ۔سیاسی لیڈر اور سکالر حضرات بے لاگ بولتے ہیں اور پیمرا کچھ نہیں کرتا۔ ایسے نالائق لوگ علیہ پر کمنٹس کر رہے ہیں جنکو قانون کا علم نہیں ۔اس سے بڑی ییلو صحافت کیا ہے ۔المیہ ہے کہ عدلیہ پریس کانفرنس نہیں کر سکتی ۔ پروگراموں میں بیٹھتے لوگوں کو قانون کی الف ب معلوم نہیں ہوتی اور وہ تبصرے کرتے ہیں ۔

عدالت میں فردوس عاشق اعوان سے انکی پریس کانفرنس کی بابت بیان حلفی پیش کر دیا گیا ۔ ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل اصف بھٹی نے بیان حلفی پیش کیا۔عدالت نے اس بیان حلفی کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا ۔عدالت نے کہا کہ اس بیان حلفی میں کس کو گھوڑا اور کس کو گاڑی قرار دیا گیا ہے ۔اس بیان حلفی میں عدلیہ کی طاقت کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔اس بیان حلفی میں فردوس عاشق اعوان کے دستخط ہیں ۔عدالتیں قانون کے مطابق کام کرتی ہیں ۔بیان حلفی میں عدلیہ اور ایگزیکٹو کو مساوی قرار دیا گیا۔ کیا بیان حلفی کی زبان ازاد عدلیہ کے مطابق ہے؟ اس بیان حلفی کے مطابق حکومتوں کی خواہش ہے کہ عدلیہ کی ایگزیکٹو کے ساتھ ہم آہنگی ہو۔ ایسا ہونے سے عدلیہ حکومت کی باندی ہو جائے گی اور ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے قرار دیا تھا کہ فردوس عاشق اعوان کی پریس کانفرنس عدلیہ کی توہین ہے ۔عدالت نے سول جج سے جھگڑا کرنے والے اسسٹنٹ کمشنر کو ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت کر رکھی ہے عدالت نے قرار دیا تھا کہ میں نے علم ہونے پر چیف سیکرٹری کو ہدایت کی تھی کہ اگر افسر شاہی نے ہرتال کی تو قانون کے مطابق کاروائی ہوگی ۔ میں نے چیف سیکرٹری پر واضح کر دیا تھا کہ اگر سول جج قصور وار ہوا تو قانون کے مطابق کاروائی ہوگی ۔ بادی النظر میں افسر شاہی نے ہرتال کی ان کے خلاف کاروائی نہ کی گئی کیا یہ افسر شاہی قانون سے بالاتر ہے ۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ فردوس عاشق اعوان کا پریس کانفرنس کے ذریعے پیغام عدلیہ کے لیے اچھا نہیں ہے ۔ اگر ثابت ہوگیا کہ افسر شاہی نے ہرتال کی تھی تو سزا دوں گا ۔ ہم عدالتوں کو تالے لگانے کی اجازت نہیں دیں گے ۔

گزشتہ سماعت پر عدالت کے روبرو حکومت پنجاب اور پی ایم ایس ایسوسی ایشن کی طرف سے سرکاری وکیل نے تحریری جواب داخل کروا دیا تھا،سرکاری وکیل نے کہا کہ حکومت اور بیوروکریٹس عدلیہ کا بہت احترام کرتے ہیں ۔

عدالت کے روبرو پیمرا کے وکیل برسٹر حارث عظمت نے حکومت پنجاب کی ترجمان فردوسی عاشق اعوان کی ہرتال کی بابت پریس کانفرنس کے ٹرانسکرپٹ پیش کر دیے تھے،عدالت نے قرار دیا تھا کہ اگر افسر شاہی کا ہڑتال کرنا ثابت ہوگیا تو توہین عدالت کی کارروائی کروں گا ۔

چیف جسٹس قاسم خان نے سرادر فرحت منظور کی مفاد عامہ کی درخواست پر سماعت کی ۔درخواست گزار نےکہا کہ سول جج سرگودھا محمد نعیم نے اسسٹنٹ کمشنر عمران حیدر کو ہتھکڑیاں گوا دیں ۔اسسٹنٹ کمشنر کی گرفتاری کے خلاف بیورو کریسی نے احتجاج کیا۔لاہور ہائی کورٹ نے دباو پر سول جج کا تبادلہ کر دیا۔ دباو پر سول جج کا تبادلہ کرنے سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہوئی ۔ بیوروکریسی کے احتجاج سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہوئی ۔عدالت بیوروکریٹس کے دباو پر سول جج کے تبادلہ کا نوٹس لے ۔بیوروکریسی کے خلاف احتجاج کرنے پر کاروائی کا حکم دے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.