پیمرامیں افسران کی لاکھوں روپے تنخواہ کا معاملہ، خفیہ حقیت سامنے آگئی

پیمرا میں خفیہ طور پر افسران کی لاکھوں روپے تنخواہ بڑھانے کا انکشاف-

باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں مسٹر سہیل آصف ڈی جی ایچ آر پمرا نے چیئرمین پیمرا کی تنخواہ دوبارہ متعین کرنے یعنی گیارہ لاکھ اسی ہزار روپے (1,180,000) کرنے کے لئے ایک ورکنگ پیپر بنایااور اس میں انفارمیشن منسٹری کے لیٹر نمبر M/o I&BU.O. No. 4(6)/2013-PEMRA (Vol.II), dated 17th October, 2018 کا حوالہ بھی دیا تاکہ اسے جسٹیفائی کیا جا سکے –

اس لیٹر میں چیئرمین پیمرا اور ایگزیکیٹیو ممبر پیمرا کی تنخواہ کے معاملات پیمرا ایمپلائیز ریگولیشنز کے مطابق دیکھنے کی غیر قانونی بات لکھی گئی حقیقت میں یہ دونوں عہدے فیڈرل گورنمنٹ کی ثواب دید پر ہیں اور ان کی تنخواہ منسٹری آف انفارمیشن سے مشورہ کے بعد صدر پاکستان ہی مقرر کرنے کے مجاز ہیں – چیئرمین پمرا اور ایگزیکٹیو ممبر پمرا کا PEMRA Service Regulations سے کچھ لینا دینا نہیں –

اس لئے کہ ان دونوں عہدیداروں کا شمار پیمرا ملازمین میں کسی صورت نہیں ہوتا فیڈرل گورنمنٹ ہی انہیں ایم پی ون یا ٹو میں اپوائینٹ کرتی اور انکا ماہانہ مشاہرہ مقرر کرتی ہے –

اس سلسلے میں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پیمرا کے گزشتہ دو چیئرمین یعنی ابصار عالم اور پرویز راٹھور کی تنخواہ خود منسٹری آف انفارمیشن ہی نے فکس کی تھی اور قانون کے مطابق اس وقت کے صدر پاکستان سے اس کی باقائدہ منظوری بھی لی گئ –

یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ حال ہی میں وفاقی حکومت نے جون 2020 سے ایم پی ون اور ایم پی ٹو سکیل پالیسی متعارف کروائ ہے – جون دو ہزار بیس کے بعد ایم پی ون اور ایم پی ٹو سکیل کے معاملات کو اسی پالیسی کے تحت ڈیل کیا جاتا ہے –

اس پالیسی کے پہلے صفحے پر ہی واضع طور پر لکھا ہے کہ ایم پی ون اور ایم پی ٹو سکیل کی تنخواہ اور دوسرے مالی معاملات منسٹری آف فنانس طے کرے گی اور اس کی منظوری باقائدہ طور پر وزیراعظم پاکستان سے لی جایا کرے گی –

اب جس کسی کو بھی ایم ون یا ایم پی ٹو کے تحت تنخواہ دی جاتی ہے اس کی فائل منسٹری آف فنانس کے تھرو وزیراعظم سیکریٹیریٹ جاتی ہے آج کل یہی پالیسی چل رہی ہے اور پی ون اور ایم پی ٹو سکیل کے پہلے سے اپوائینٹڈ لوگ بھی اسی پالیسی کے دائرہ کار میں آتے ہیں-

لہذا ڈی جی ایچ آر سہیل آصف صاحب کا چیئرمین پمرا اور ایگزیکٹیو ممبر پمرا کی تنخواہ بڑھانے کے معاملے کو پیمرا اتھارٹی کے پاس ورکنگ پیپر کی صورت لیجانا مکمل طور پر غیر قانونی اور غیر ضروری عمل ہے – اس لئے کہ اتھارٹی چیئرمین پمرا یا ایگزیکٹیو ممبر پمرا کی تنخواہ بڑھانے کی مجاز ہی نہیں –

مجوزہ ورکنگ پیپر فراڈ کی ایک اعلی مثال ہے اس لئے کہ ورکنگ پیپر کا موضوع یا عنوان کچھ اور ہے جبکہ اسی ورکنگ پیپر کے آخر میں کمال ہوشیاری کے ساتھ چیئرمین پمرا اور ایگزیکٹیو ممبر پمرا کی تنخواہ بڑھانے کی استدعا بھی کر دی گئ ہے –

یعنی ورکنگ پیپر میں بات ہو رہی ہے کہ پیمرا کے عہدوں کے نام تبدیل کر دیئے جائیں یعنی AGM سے اسسٹنٹ ڈائیریکٹر، DGM سے ڈپٹی ڈائیریکٹر اور اسی طرح GM سے ڈائیریکٹر – جبکہ ورکنگ پیپر کے آخری پیراگراف میں چیئرمین کی تنخواہ بڑھانے کا ذکر بھی گول مول الفاظ میں کر دیا گیا ہے تاکہ کوئی ممبر نوٹس نہ لے اور مطلوبہ مقاصد حاصل کر لئے جائیں تاکہ بعد میں اگر آڈٹ آبجیکشن ہو بھی تو ملبہ اتھارٹی کے سر ڈال کر اپنے اپ کو اس سے بری الذمہ ٹھہرایا جا سکے –

دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈی جی فنانس موجودہ چیئرمین کو گزشتہ کچھ ماہ سے گیارہ لاکھ اسی ہزار کے حساب سے باقائدہ تنخواہ ادا کرتے رہے ہیں اور یہ بھی خبریں ہیں کہ بات کھل جانے پر اب ان سے ماہانہ کٹوتی ہو رہی ہے خدانخواستہ اگر اتھارٹی اس کی منظوری دے دیتی تو ہر دو افسران کو کروڑوں کے بقایاجات ادا کرنے کا بھی پروگرام تھا-


ریفرنس کے طور پر منسٹری آف انفارمیشن کا مذکورہ لیٹر اور موجودہ گورنمنٹ کی ایم پی ون اور ایم پی ٹو سکیل کی پالیسی بھی ساتھ لف ہے تاکہ کیس سمجھنے میں آسانی ہو –

یہاں سے امر قابل ذکر ہے کہ اگست 2014 میں نیشنل اسمبلی آف پاکستان میں سابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان مسٹر بلند اختر رانا کے خلاف سرکاری خزانے سے اپنی مجوزہ تنخواہ سے زائد پیسے وصول کرنے پر تحقیقات کے لئے ایک سب کمیٹی بنائی گئی-

تاہم مئی 2015 میں قومی اسمبلی کی سب کمیٹی نے آرٹیکل 2009 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں اپنی رپورٹ کی روشنی میں بلند اختر رانا کے خلاف ایک ریفرنس دائر کیا –

سپریم جوڈیشل کونسل کی پروسیڈنگز کے دوران ثابت ہوا کہ مسٹر رانا مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں اور انہوں نے مجموعی طور پر سرکاری خزانے کو 46 لاکھ سے زائد رقم کا نقصان پہنچایا ہے مسٹر بلند اختر رانا نے اپنے طور پر اپنی تنخواہ بڑھاتے ہوئے اپنی مجوزہ تنخواہ سے 31 لاکھ روپیہ زیادہ وصول کیا تھا جو تحقیقات میں ثابت ہو گیا –

سپریم جوڈیشل کونسل نے مسٹر رانا کے خلاف اپنی ریکمنڈیشن صدر پاکستان کو بھجوائ جنہوں نے آئین پاکستان کے آرٹیکل (5)168 ریڈ ود آرٹیکل (6) 209 کے تحت بلند اختر کو نوکری سے برطرف کر دیا –

اتنی بڑی مثال کے بعد پیمرا اتھارٹی کو اندھیرے میں رکھ کر چیئرمین پمرا کی تنخواہ بڑھانے اور پھر بقایاجات وصول کرانے کا یہ مبینہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام اتھارٹی ممبران کے لئے بہت پریشانی کا باعث بن سکتا ہے –

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.