fbpx

کراچی والو!سب باتیں کرتےہیں لیکن ہم کراچی کوسنوارکردکھائیں گے:مصطفیٰ کمال کا پیغام

کراچی :کراچی والو!سب باتیں کرتے ہیں لیکن ہم کراچی کوسنوارکردکھائیں گے،اطلاعات کے مطابق پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ بڑے بڑے آکر بڑے دعوے کررہےہیں کہ وہ کراچی کوخوشحال بنائیں گے مگرصورت حال پہلے سے ابترہی ہوئی ، لیکن میں کراچی والوں سے کہہ رہا ہوں کہ ہم دعوے نہیں عملی کرکے دکھاتے ہیں،کراچی کو خوشحال اور سنوارکردکھائیں گے ،

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کیلئے الیکشن میں ڈاکو ٹھپے لگاتے ہیں، انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کراچی کے مسائل صرف پی ایس پی ہی حل کرسکتی ہے۔

سندھ کے سیکنڈ فیز میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی دھواں دھار تقاریر اور دعوؤں اور الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

کراچی میں بروز بدھ 20 جولائی کو پریس کانفرنس سے خطاب میں پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کسی نے کراچی کی بہتری پر توجہ نہیں دی ہے، مگر ہم کراچی کے مسائل آسانی سے حل کرسکتے ہیں، ہم کراچی کو دوبارہ بنا سکتے ہیں۔

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے چیئرمین پی ایس پی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی دو سیٹوں پر حکمرانی ہے، صوبے میں ن لیگ کا کوئی ووٹ بینک نہیں۔ ایم کیو ایم کے بغیر شہباز شریف وزیراعظم نہیں رہ سکتے اور انہوں نے 2 وزارتیں لے کر اپنے حصے کی رشوت لے لی ہے۔

 

پی پی پر الزام عائد کرتے ہوئے سابق میئر کراچی نے کہا کہ سندھ پولیس صوبے کی نہیں پیپلزپارٹی کی پولیس ہے، اندرون سندھ سے پولیس اہلکار بلائے جانے کی اطلاعات ملی ہیں، پیپلز پارٹی الیکشن میں ریاستی مشینری استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پی پی انتخابات میں ڈاکوؤں سے ٹھپے لگواتی ہے۔

 

مصطفیٰ کمال کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی غنڈہ گردی کے باعث آج ہم جہنم میں ہیں،آج جوطاقت ایم کیوایم کی سات سیٹوں میں ہے وہ چالیس سال میں کسی کے پاس نہیں تھی، اس کے باوجود گٹرمیں گرنے والوں کے لواحقین کوکوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

 

 

 یاد رہے کہ اس پریس کانفرنس سے پہلے سربراہ تنظیم (ایم کیو ایم) پاکستان بحالی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار کی مصطفیٰ کمال سے ملاقات ہوئی ،جس کے بعد فاروق ستار نے کہا ہے کہ بہادرآباد والوں نے میری واپسی کو ویلکم نہیں کیا، سندھ کے شہریوں کو لاوارثی کا احساس ہے، ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہے۔

 

  انہوں نے یہ بات پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی دفتر میں سربراہ پی ایس پی سید مصطفیٰ کمال سمیت دیگر مرکزی رہنماؤں سے ملاقات اور بات چیت کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

کراچی کے سابق میئر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ یہ میرا پاکستان ہاؤس کا پہلا دورہ ہے، یہاں بڑے کھلے دل کے ساتھ آئے ہیں، سیاسی مخالفین کو پیغام دینا ہے کہ مسائل سے ہم گزر رہے ہیں، ہمارے درمیان مفاہمت کا آغاز ہو گیا ہے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بہادر آباد والوں نے میری واپسی کو ویلکم نہیں کیا، 30 جون سے 17 جولائی تک انتظار کیا لیکن کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔

 

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ضمنی انتخاب نے موقع دیا کہ میں پاکستان ہاؤس سمیت جگہ جگہ جاؤں، ہمیں کسی کا راستہ نہیں روکنا ہے، اس شہر کی گلیوں کو اور لوگوں کو جانتے ہیں۔

 

پی ایس پی کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال نے اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ  ہمارے لیے فاروق بھائی کا الیکشن میں کھڑا ہونا خود حیران کن تھا، فاروق بھائی تو ایم کیو ایم میں جا رہے تھے، یہ سب کچھ سرپرائز ہے۔

کراچی کے سابق ناظم سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ فاروق بھائی نے جو بات کی ہے وہ سینٹرل کیبنٹ میں رکھیں گے، جو بھی فیصلہ ہوگا وہ سب کے سامنے کریں گے، ہمارا نظریہ سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو ویلکم کرنے میں ہمیں کوئی مجبوری نہیں ہے، اچھی بات ہے ملتے جلتے رہنا چاہیے، چھ سال سے پی ایس پی کی جدوجہد میں ذات کی قربانی دی ہے۔ایک سوال کے جواب میں سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آج ہماری پختونوں، سندھیوں اور پنجابیوں سب سے دوستی ہے، ماضی کی باتیں ماضی کے تناظر میں ہوئی ہوں گی۔

 

واضح رہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے- 245 پہ ہونے والے ضمنی انتخاب میں آزاد حیثیت سے حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا انتخابی نشان تالا ہے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے – 245 کی نشست پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کے انتقال کر جانے کی وجہ سے خالی ہوئی ہے۔