fbpx

پاکستان کی عوام اپنی مسلح افواج سےمحبت کرتے ہیں:ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی :پاکستان کی عوام اپنی مسلح افواج سے محبت کرتے ہیں ، مسلح افواج کا کردارعوام کے لیے ہمیشہ اچھا رہے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھرعزم کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج اورعوام کے کردارمیں کسی قسم کی دراڑنہیں آسکتی

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پچھلے چند دنوں میں تمام سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ نے مسلح افواج کی لیڈرشپ کے خلاف بیانات دیئے،بارباردرخواست کی ہےمسلح افواج کوسیاسی گفتگوسے باہررکھیں،ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سیکیورٹی چیلنجزاتنے بڑے ہیں کہ ہم ملک کی سیاست میں شامل نہیں ہوسکتے،

ڈی جی آئی ایس پی آرکا کہنا تھا کہ اگرملک کی حفاظت کے اندرکوئی بھول،چونک ہوئی تومعافی کی گنجائش نہیں،اگرکوئی سمجھتا ہے کہ فوج کے اندرتقسیم ہوسکتی ہے تواس کوفوج کے بارے پتا ہی نہیں،پوری فوج ایک لڑی میں پروئی ہوئی ہے،

فوج اپنے آرمی چیف کی طرف دیکھتی ہے،کسی کوکوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی فوج کے اندرتقسیم پیدا کرسکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ واضح کردوں جائزتنقید سے پرابلم نہیں ہے، خاص طورپرسوشل میڈیا پرتنقید نہیں پروپگنڈا کیا جاتا ہے،

واضح کردوں فوج کے اندرکسی بھی رینک میں کمانڈ کا عہدہ اہم ہوتا ہے،کسی بھی کورکی کمانڈ آرمی چیف کے بعد اہم عہدہ ہوتا ہے،ہماری سترفیصد فوج ڈپلائمنمنٹ ہے،مختلف جہگوں پرکاؤنٹرٹیررازم آپریشن کررہے ہیں،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں،جلد الیکشن کا فیصلہ سیاست دانوں نے کرنا ہے،فوج کا کوئی کردارنہیں،سیاست دان اس قابل ہیں وہ بیٹھ کربہترطریقے سے فیصلہ کرسکتے ہیں،

ڈی جی آئی ایس پی آرکا کہنا تھا کہ جب بھی فوج کوکسی سیاسی معاملے میں بلایا گیا تومعاملہ متنازع ہوجاتا ہے، سیاست دان الیکشن کا فیصلہ بیٹھ کرہی کرسکتے ہیں،الیکشن کے دوران سیاست دان فوج کوازاے سیکیورٹی بلائیں گے تواپنی خدمات پیش کریں گے،فوج کبھی بھی سیاست دانوں کوملاقات کے لیے نہیں بلاتی،

ڈی جی آئی ایس پی آرکا کہنا تھا کہ جب فوج کودرخواست کی جاتی ہیں توپھرآرمی چیف کوملنا پڑتا ہے،اس حوالے سے ساری کی ساری ذمہ داری سیاست دانوں پرہوتی ہےڈی جی آئی ایس آئی کے دوروں کواوپن نہیں کیا جاتا،
ڈی جی آئی ایس آئی کے دورے بیک گراؤنڈ چلتے رہتے ہیں،تمام ممالک کے انٹیلی اجنس چیف کے ساتھ ملاقات اورانٹیلی انجس شیئرنگ ہوتی ہے،ایسے معاملات میں کوئی ابہام پیدا نہیں کرنا چاہیے،ہمارے آفیسر،جوان سوسائٹی سے کٹ ہوکرجب افواہیں اورادارے کے بارے غلط بات چیت ہوتوان تک بھی پہنچتی ہے،اس طرح کے بیانات سے ادارے کا مورال متاثرہوتا ہے،آفیسراورجوان ایک ہیں،ہماری لیڈرشپ کا معیاربہت اعلیٰ ہیں،

ڈی جی آئی ایس پی آرکا کہنا تھا کہ ہمارے جوانوں کواپنے آرمی چیف،کمانڈرپریقین ہوتا ہےلیڈرشپ پرتنقید کرنے سے ہرفوجی متاثرہوتا ہے،فوج کا سینٹرآف گریویٹی آرمی چیف ہوتا ہے،بلاوجہ آرمی چیف کے عہدے پرتنقید کے نیگیٹواثرات ہوتے ہیں بار،بارکہتے ہیں فوج کوسیاست سے دوررکھیں،ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فوج کوالیکشن کرانے کی دعوت دینا مناسب بات نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی ہم نے تفصیلی بیان جاری کیا ہے، پچھلے کچھ دنوں میں سیاسی لیڈرشپ کی طرف سے بیانات انتہائی نامناسب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم بارباردرخواست کررہے ہیں فوج کوسیاست میں مت گھسیٹیں، ہماری تمام لیڈرشپ کا اپنی ذمہ داریوں پرفوکس ہے، ہمارا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ آرمی چیف ایک بہت اہم عہدہ ہے، آرمی چیف کی تقرری کا طریقہ کارآئین وقانون میں وضع کردیا گیا ہے، آئین وقانون کے تحت ہی تقرری کردی جائے گی، بلاوجہ اس عہدے پربحث کرنا متنازع بنانے والی بات ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فوج کوالیکشن کرانے کی دعوت دینا مناسب بات نہیں، پاکستان کے قانون اورآئین کے مطابق فوج کوسیاست سے دوررہنے کا آرڈر ہے، کسی بھی بلدیاتی انتخابات یا ضمنی انتخابات سے اپنے آپ کو دور رکھا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ جلسوں یا تقریرکے دوران فوج کوکسی بھی مد میں دعوت دینا انتہائی غیرمناسب بات ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پشاور کور کمانڈر کے حوالے سے سیاستدانوں کے حالیہ بیانات انتہائی نامناسب ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پشاور کور پاکستان آرمی کی ایک ممتاز فارمیشن ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پشاور کور دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف قومی جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے، اس اہم کور کی قیادت ہمیشہ بہترین پروفیشنل ہاتھوں میں سونپی گئی ہے۔

پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہےکہ پشاور کور کمانڈر کے حوالے سے اہم سینئر سیاستدانوں کے حالیہ بیانات انتہائی نامناسب ہیں، ایسے بیانات سپاہ اور قیادت کے مورال اور وقار پر منفی طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ افواج پاکستان کے بہادر سپاہی اور آفیسرز ہمہ وقت وطن کی خودمختاری اور سالمیت کی حفاظت اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر رہے ہیں، اس لئے سینئر قومی سیاسی قیادت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ادارے کے خلاف ایسے متنازعہ بیانات سے اجتناب کریں۔