fbpx

پیپلز پارٹی کی حکومت ہمیشہ عام آدمی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے : بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومتِ سندھ کی جانب سے ماں و بچے کو دوران حمل، دوران زچگی اور پیدائش کے بعد علاج و معالجے کی مفت سہولیات اور وظیفے کے اجرا کے پروگرام کو صوبے میں صحتِ عامہ کے لیئے ایک تاریخی اقدام اور انقلابی منصوبہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہمیشہ عام آدمی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔
سندھ حکومت کے سوشل پروٹیکشن اسٹریٹجی یونٹ کے تحت ماں اور بچے کو دوران حمل، دوران زچگی اور پیدائش کے بعد علاج و معالجے کی مفت سہولیات اور وظیفے کے اجرا کے حوالے سے امدادی پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ غریب عوام کی خدمت کرنا ہی پاکستان پیپلز پارٹی کا منشور ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہ وعدہ نہیں کرتے کہ اگر پی پی پی کی حکومت ہوگی تو ہمیشہ اچھا وقت ہوگا، لیکن ہم یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اگر عوام تکلیف میں ہوگی، تو ہم دن رات کام کرکے اس تکلیف کا حل نکالیں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی جماعت کی تاریخ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ عوام کی بہبود و ترقی کے لیئے کام کیا ہے۔ قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کا لینڈ ریفارم پروگرام ملک کا بہت بڑا معاشی انقلاب تھا۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے دور حکومت لیڈی ہیلتھ ورکز(ایل ایچ ڈبلیو)جیسے انقلابی پروگرام پر ملک کے اندر اور باہر سے بہت تنقید کی گئی۔
لیکن اس پروگرام کے آغاز کے بعد بنگلادیش، بھارت اور دیگر ممالک نے بھی اس کی تقلید کی اور یہ منصوبہ ان کے لیئے بھی کامیاب ثابت ہوا۔ پی پی پی کی سابقہ حکومت کے دوران جب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام(بی آئی ایس پی)کا آغاز کیا جا رہا تھا، تو اس کی بھی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ اس پروگرام کے ذریعے فقیر پیدا کیئے جارہے ہیں۔ لیکن سابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ایک عزم کے ساتھ، اِس پروگرام کو عوامی حکومت کے پہلے سال سے شروع کرنے کو یقینی بنایا۔
انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے پاکستان کی غریب خواتین کو اس وقت مالی معاونت ملی، جب پوری دنیا میں معاشی بحران تھا۔ عالمی بحران کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے تھے، لیکن ہم نے عوام کو اکیلا نہیں چھوڑا۔ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت غریب خواتین کی معاونت اس وسیع منصوبے کا ایک جز تھا۔
وسیلہ روزگار، وسیلہ صحت، اور وسیلہ تعلیم بھی اس پروگرام کے دیگر اجزا میں شامل تھے۔ یہ درحقیقت شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا منشور تھا، جسے پی پی پی کی مخالفین حکومتیں چاہتے ہوئے بھی ختم نہیں کرسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں غربت کا پہلا سروے پی پی پی کے گذشتہ دورِ حکومت میں کیا گیا تھا اور اس وقت ملک میں جو واحد سوشل سکیورٹی کا پروگرام موجود ہے، وہ پی پی پی حکومت کا بنایا ہوا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ حکومتِ سندھ کا ایک اور مثالی منصوبہ پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام ہے، جس کے تحت غریب خواتین کو کاروبار کے آغاز کے لیئے بے سود قرضے فراہم کیئے جاتے ہیں۔ اس پروگرام سے تاحال 13 لاکھ خواتین مستفید ہوچکی ہیں، اور وہ اب اپنے خاندانوں کی معاشی استحکام کو یقینی بنا رہی ہیں۔ انہوں نے نشان دہی کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ پروگرام کی رکوری کا تناسب 99 فیصد ہے، اور اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ بلاسود قرضہ حاصل کرنے والی خواتین کا کاروبار کامیابی سے چل رہا ہے۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سندھ کی خواتین ایک چھوٹی سے مدد پر پوری معیشت میں انقلاب لاسکتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ چند سال قبل نولومود اور چھوٹے بچوں کی شرح اموات کے معاملے پر بہت تنقید کی جاتی تھی، لیکن یو ایس ایڈ اور اس طرح کے دیگر اداروں کے اعداد شمار اب سندھ میں ایک بہتر صورتحال پیش کر رہے ہیں۔ سال 2013 سے سال 2018 کے دوران پنجاب میں نومولود بچوں میں شرحِ اموات 19 فیصد تھی۔
اسی عرصے کے دوران خیبر پختونخواہ میں 2 فیصد اضافہ، جبکہ سندھ میں 30 فیصد کمی ہوئی ہے۔ سال 2013ع سے 2018ع تک کے عرصے میں پنجاب میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں شرح اموات 17 فیصد کم ہوا، اور خیبر پختونخواہ میں 7 فیصد، جبکہ سندھ میں 19 فیصد کمی آئی ہے۔ ان اعداد و شمار سے واضح ہے کہ صوبہ سندھ میں پی پی پی حکومت نے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہتر کام کیا ہے، لیکن ہمارے لیئے یہ اب بھی کافی نہیں ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 2018ع کے بعد ملک میں معاشی بحران ہے، اور مہنگائی میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے۔ غربت اور مہنگائی کا سب سے زیادہ نقصان دیہی میں ہوتا ہے۔ اس بحران کی وجہ سے ماں اور بچے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ حکومت سندھ کے نئے پروگرام پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ اس پروگرام کے تحت ماں اور بچہ کی صحت پر توجہ مرکوز کیا جائے گا۔
یہ پروگرام بچے کے پہلے ایک ہزار دنوں پر فوکس کرے گا، اور پہلا دن ماں کے حاملہ ہونے سے شروع ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حاملہ ماں کو اسپتال میں معمول کے مطابق چیک اپ کرانے پر 1000 روپے، جبکہ صحت مرکز میں بچے کی پیدائش پر 4000 روپے مالی معاونت کے طور پر دیئے جائیں گے۔ اس طرح سے بچے اور ماں کی صحت کے لیئے تمام ضروری اقدام کو یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام کے تحت ہر ماں اور بچہ پر 20000 ہزار روپے خرچ ہوں گے۔ یہ پروگرام پہلے مرحلے میں دو اضلاع تھرپارکر اور عمرکوٹ میں شروع کیا جائے گا، اور آئںدہ دو سال کے دوران اس منصوبے کو سندھ بھر میں توسیع دی جائے گی۔ اس منصوبے کے تحت 10 لاکھ خواتین مائیں مستفید ہوں گی۔ اس موقع پر وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، وزیرِصحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو اور دیگر وزرا، مشیران، ارکان اسمبلی اور پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔