fbpx

پیپلزپارٹی کے خلاف سندھ میں آواز اٹھانا ہی دہشتگردی بنا دی جاتی ہے،حلیم عادل شیخ

قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی جانب سے آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، سمیت دیگر پولیس افسران کے خلاف توھین عدالت کی پٹیشن دائر کر دی، سپریم کورٹ کے واضح فیصلوں کے باوجود سندھ پولیس نے حلیم عادل شیخ پر دہشتگردی کے کیسز بنائے، آئی جی سندھ مشتاق مھر، ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن، ڈی آئی جی ایسٹ نعمان صدیقی، ایس ایس پی ملیر سمیت دیگر کو جوابدہ بنایا گیا ہے، نوٹس جاری حلیم عادل شیخ کی سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت سینیٹر سیف اللہ ابڑو، آئی ایل ایف کے ایڈووکیٹ عبدلوھاب بلوچ، ایڈووکیٹ ممتاز گوپانگ، ایڈووکیٹ ضئیا الرحمان و دیگر بھی موجود ہم نے ہمیشہ سندھ کی عوام کے لئے آواز اٹھائی ہے ہم دبانے کی کوشش کی گئی، میں اپنا ووٹ کاسٹ کرنے ملیر الیکشن میں گیا تھا مجھ پر دہشتگردی کے مقدمات بنائے گئے پیپلزپارٹی کے خلاف سندھ میں آواز اٹھانا ہی دہشتگردی بنا دی جاتی ہے سندھ میں سیاسی مخالفین پر دہشتگردی کے کیسز بنائے جاتے ہیں آج ہم نے سپریم کورٹ میں توھین عدالت کی پٹیشن داخل کی ہے، سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ نے ایک فیصلا دیا تھا کہ سیاسی کیس میں دہشتگردی کے دفعات نہیں لگ سکتے، آج کل سندھ میں پولیس اور آئی جی بے اختیار ہے، سارا کنٹرول سندھ کے وزیر اعلیٰ کے پاس ہیں، آج پوری سندھ حکومت پولیس اور 7 اے ٹی اے کے ذریعے چلائی جارہی ہے، سندھ میں پولیس منشیات فروشی میں ملوث ہے، پولیس افسران کے گھروں سے اروبوں کی منشیات برآمد ہورہی ہے، آئی جی سندھ مشتاق مھر، ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن، ڈی آئی جی ایسٹ نعمان صدیقی، ایس ایس پی ملیر سمیت دیگر کو کیس میں جوابدہ بنایا ہے، سندھ میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے باوجود سیاسی مخالفین پر دہشتگردی کے جھوٹے کیسز بنائے جارہے ہیں، سندھ میں کتوں کو نیوٹل کرنے کے لئے 24 کروڑ کی گاڑیاں خریدی جارہی ہیں، پہلے بھی ٹڈی دل کو مارنے کے لئے کروڑوں کی گاڑیاں خریدی گئی جو ان کے ذاتی استعمال میں ہیں،جسٹس آفتاب گورڑ نے فیصلہ کیا تھا اور پ پ کے اراکین کو معطل کیا تھا فیصلے کے بعد پیپلزپارٹے کے لوگوں نے جسٹس کو راکیٹ لانچر سے اڑانے کی دھمکی دی .سندھ میں مریضوں کو اٹھانے کے لئے ایبولنس نہیں ملتی لیکن کتوں کو اٹھانے کے لئے کروڑوں کی گاڑیاں خریدی جارہی ہیں،ہمارے ورکروں کو سندھ میں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ٹنڈو الہیار میں پولیس نے ایک نوجوان بابر خانزادہ کو رشوت نہ دینے پر قتل کر دیا،مجھ پر جھوٹے کیسز بنائے گئے کیا میں دہشتگرد ہوں، ؟ہمیں عدالتوں پر یقین ہے عدالتوں سے انصاف کی امید ہے، میں نے وزیر اعظم کو بھی درخواست دی ہے جہاں جہاں دہشتگردی کے سیاسی کیسز بنائے گئے ہیں ان پر جی آئی ٹی بنائی جائے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.