افغانستان میں مستقل قیام امن پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل

0
71

افغانستان میں سالہا سال سے جاری خانہ جنگی کے باعث جب بھی افغانستان کا ذکر ہوتا ہے تو عام آدمی کے ذہن میں خونریزی،فوجی دستوں کی موجودگی،افغان طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں، کئی سالوں سے جاری جنگ کے باعث تباہ کن بنیادی ڈھانچے، تعلیم و صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی جیسے خیالات جنم لیتے ہیں۔ پڑوسی ملک ہونے کے ناطے افغانستان میں امن وامان کی صورتحال اور عدم استحکام کے سنگین اثرات پاکستان پر مرتب ہونا فطری عمل ہے۔ ایک ہمسایہ ملک ہونے کی حیثیت سے پاکستان ہمیشہ سے ہی نا صرف افغانستان میں امن عمل کا سب سے بڑا حامی رہا ہے بلکہ پاکستان نے ہمیشہ افغان امن عمل میں کلیدی کردار بھی ادا کیا ہے کیونکہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پرامن افغانستان کا مطلب پرامن پاکستان ہے۔ ایک ہمسایہ ملک کی حیثیت سے پاکستان نے افغانستان میں خانہ جنگی کے نتیجے میں بے گھر ہو کر نقل مکانی کرنے والے 30 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے جو کہ یقینی طور پر ایک قابل تحسین عمل ہےجبکہ افغانستان میں مستقل قیام امن کے لئے گذشتہ برسوں کے دوران پاکستان نے افغان حکومت اور دیگر فریقین کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے طالبان کو قائل کرنے کا انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق حکومت پاکستان کی مکمل حمایت اور کوشش کے بغیر افغان امن مذاکرات کبھی ممکن نہ ہو پاتے۔ دسمبر 2018 میں پاکستان نےامریکا اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کا عمل شروع کرنے میں مدد کی جس کے نتیجے میں دوحہ میں امریکا اور افغانستان کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پایا۔ اس سے قبل پاکستان کی مدد سے جولائی 2015 میں افغان حکومت اور طالبان کے مابین پہلی بار براہ راست مذاکرات اسلام آباد میں ہوئے مگر یہ امن عمل اس وقت رک گیا جب طالبان نے اپنے رہنما ملا عمر کی موت کا اعلان کیا۔
افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کے مثبت اور کلیدی کردار کو عالمی سطح پر ہمیشہ سراہا جاتا رہا ہے کئی موقعوں پر امریکی حکام نے بھی افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔
دوسری طرف بھارت خطے کے امن کو سبوتاز کرنے کے لئے ناصرف افغانستان میں خانہ جنگی کو فروغ دے رہا ہے بلکہ افغانستان کی سرزمین کو استعمال میں لاتے ہوئے سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کے پر امن ماحول کو تباہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا پاکستان کی طرف سے پاک افغان بارڈر پر باڑ لگا کر دہشتگردوں کی نقل وحمل روک کر سرحدی علاقوں میں دہشتگردی کی کاروائیوں کو روکنے کے اقدامات کو عالمی سطح پر بھی خاصی پذیرائی ملی، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی شب وروز محنتوں کے نتیجے میں پاک افغان بارڈر پر باڑ کی تنصیب کا80 فیصد کامکمل کر لیا گیا ہے جبکہ حکام باقی ماندہ کام کی جلد از جلد تکمیل کے لئے پرعزم ہیں۔افغان امن عمل کی اہمیت کے پیش نظر پاکستانی حکام کی کوشش ہے کہ چار دہائیوں سے خانہ جنگی کے شکار ملک افغانستان میں مستقل امن کے لئے جاری کوششوں کو برقرار رکھا جائے اور مزید کامیابیاں حاصل کی جائیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’پاکستان نے بارہا کہا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام ہمارے مفاد میں ہے۔ ہم افغانستان میں امن اور استحکام قائم کرنے کے لئے بین الاقوامی برداری کے ساتھ کام جاری رکھیں گے تاہم تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کے کچھ خدشات بھی ضرور ہیں اور پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ سمیت بین الاقوامی برادری ان خدشات پر غور کرے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ خطے میں قیام امن کے لئے بھارت کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی ضرورت ہے اور پاکستان میں چار دہائیوں سے موجود افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے مسئلے کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

Leave a reply