fbpx

پیٹرول پمپوں پر لوٹ مار کی انتہاہ،کم پیٹرول ڈالنا وطیرہ

قصور
پیٹرول پمپ مالکان کی ملی بھگت سے پیٹرول پمپ عملہ کی بدمعاشی ،ناپ تول میں انتہائی کمی،ضلعی انتظامیہ قصور خواب خرگوش کے مزے لینے میں مصروف

تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں پیٹرول پمپ مالکان کی ملی بھگت سے عملہ پیٹرول پمپ نے ناپ تول میں کمی کی انتہاہ کرتے ہوئے کم پیٹرول ڈالنا شروع کر دیا ہے
أج صبح ب8 بجے کے قریب ھٹی ہسپتال قصور بائی پاس پر واقع ٹوٹل پیٹرول پمپ سے مقامی صحافی غنی محمود قصوری نے 450 روپیہ کا پیٹرول اپنی بائیک 70 سی سی ماڈل 21 میں ڈلوایا اور اوکاڑہ کی طرف براستہ رائیونڈ ،چھانگا مانگا سفر کا آغاز کیا جب 94 کلومیٹر سفر کرکے رینالہ خورد سے پیچھے پہنچے تو پیٹرول ختم ہو گیا
دیئے گئے پیسوں سے 3 لیٹر سے زائد پیٹرول آنا تھا اور کم سے کم ایوریج لگاتے بھی تو مطلوبہ پیٹرول 150 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا تاہم ٹوٹل پمپ کا 450 روپیہ یعنی 3 لیٹر سے زائد پیٹرول محض 94 کلومیٹر سے بھی کم سفر طے کر پایا حالانکہ بائیک میں پہلے سے ہی پیٹرول موجود تھا
تصدیق کیلئے صحافی نے قریبی پی ایس او پیٹرول پمپ رینالہ خورد کچھ فاصلہ پیچھے ایک لیٹر پیٹرول ڈلوایا جو کہ 62 کلومیٹر بائیک چلانے کے بعد ختم ہوا
ضلعی انتظامیہ کی ڈیل یا ڈھیل کے باعث پیٹرول پمپ مالکان لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں جن کو کوئی پوچھنے والا نہیں

مقامی صحافی نے ڈپٹی کمشنر قصور سے کارؤائی کا مطالبہ کیا ہے