fbpx

کورونا وائرس: فائزر کی تیار کردہ دوا 89 فیصد موثر ، کمپنی کا دعویٰ

امریکی دواساز کمپنی فائزر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تیار کردہ کورونا سے بچاؤ کی اینٹی وائرل دوا مریضوں کے اسپتال میں داخلے کی شرح اور موت کے خدشے کو 89 فیصد تک کم کر سکتی ہے.

باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطاقب فائزر کمپنی نے کہا کہ ان کی دوا استعمال کے لیے تیار ہے اور اسکے تجرباتی مراحل میں حاصل کیے گئے نتائج حوصلہ افزا ہیں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگس ایسوسی ایشن کو جلد دوا کی منظوری کے لیے کہا جائے گا۔

امریکی اور بھارتی شراکت سے تیار کردہ ویکسین کے استعمال کی ایک ملک میں منظوری

فائزر نے 775 لوگوں پر اپنی دوا کے استعمال سے متعلق ابتدائی نتائج جاری کئے ہیں ان افراد کو بیماری کی علامات ظاہر ہونے کے فوراً بعد ایک اور اینٹی وائرل کے ساتھ یہ دوا دی گئی تھی ایک مہینے کے بعد مرتب کیے جانے والے نتائج کے مطابق اس کے استعمال سے مرض کی علامتوں اور اسپتال جانے کی شرح میں 89 فی صد کمی ہوئی اور اس دوران کوئی مریض ہلاک نہیں ہوا۔

فائزر کے چیف سائنٹیفک آفیسر ڈاکٹر میکیل ڈولس ٹن نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ یہ ایک غیر معمولی دوا ہے اس کی افادیت تقریباً 90 فی صد ہے اور یہ موت سے 100 فی صد تحفظ فراہم کرتی ہے۔

دوسری جانب ایک اور دوا ساز کمپنی مرک نے سب سے پہلے کورونا کے علاج کے لیے گولیاں تیار کی ہیں جس کے نتائج بہتر رہے ہیںا س ضمن میں امریکی کمپنی مرک اینڈ کو انکارپوریشن نے بتایاتھا کہ اس کی کورونا کے علاج کے لیے تجرباتی دوا مولنیوپیراویر کے استعمال سے مریض کے اسپتال میں داخل ہونے یا موت کے خطرے کو 50 فیصد تک کم کرتی ہے۔

کورونا سے بچاؤ کے لیے کیپسول تیار

امریکہ کا فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کا ادارہ اس دوا کی منظوری سے پہلے اس کا جائزہ لے رہا ہے جب کہ جمعرات کے روز برطانیہ نے اسے استعمال کے لیے منظور کر لیا ہے۔

ماہرین نے کورونا وائرس کے علاج کے لیے گولیوں اور کیپسول کی شکل میں دوا کی تیاری کو اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دوا سے کورونا کے علاج میں بڑی پیشرفت ہو گی۔

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے زیرِ انتظام برازیل میں ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ڈپریشن کی عام اور کم خرچ دوا ’فلوووکسامائن‘ (fluvoxamine) بھی کورونا وائرس کی شدت کم کرتی ہے –

ان آزمائشوں میں 1472 ایسے مریض بطور رضاکار شریک کیے گئے تھے جن میں کووِڈ 19 کی ابتدائی مرحلے پر تشخیص ہوچکی تھی ان میں سے 739 مریضوں کو دس دن تک روزانہ اصل فلوووکسامائن کی 100 ملی گرام والی دو گولیاں، جبکہ باقی 733 کو اسی ترتیب سے کوئی دوسری بے ضرر گولی (پلاسیبو) کھلائی گئی۔

ڈپریشن کی عام اور کم خرچ دوا بھی کورونا وائرس کی شدت کم کرتی ہے ڈبلیو ایچ او

دوا شروع ہونے کے 28 دن بعد تک ہر مریض کو زیرِ مشاہدہ رکھا گیا تاکہ بیماری کی شدت بڑھنے یا نہ بڑھنے پر نظر رکھی جاسکے جن مریضوں نے اصل فلوووکسامائن استعمال کی تھی، ان میں کووِڈ 19 کے باعث اسپتال میں داخل ہونے کی شرح 30 فیصد کم دیکھی گئی جبکہ وہ مریض جو فلوووکسامائن کے ساتھ ساتھ دوسری دوائیں بھی لے رہے تھے، ان میں یہ شرح 65 فیصد تک کم رہی۔

فی الحال ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ فلوووکسامائن سے کووِڈ 19 کی شدت زیادہ نہیں ہوتی لیکن یہ معلوم کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے’دی لینسٹ گلوبل ہیلتھ‘ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کووِڈ 19 کے علاج میں فلوووکسامائن صرف ڈاکٹر کے مشورے پر ہی استعمال کی جائے۔

جبکہ برطانیہ میں کورونا وائرس سے بچانے والا اسپرے تیار کر لیا گیا ہے سائنسدانوں نے ناک میں ڈالے جانے والے اسپرے کو فوکس ویل کا نام دیا ہے جو کورونا وائرس سے آسانی سے متاثر ہونے والے افراد کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

کورونا وائرس سے بچانے والا اسپرے

بھارتی میڈیا کے مطابق اس اسپرے کو بھارت میں 600 تندرست ایسے طبی کارکنان پر آزمایا گیا ہے جو کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج میں مدد کر رہے تھے ناک کے دونوں نتھنوں میں ایک مرتبہ اسپرے کرنے کے بعد یہ 8 گھنٹے تک کسی وائرس کے حملے کو محفوظ رکھتا ہے اور اسپرے کی افادیت 66 فیصد ظاہر ہوئی یعنی 66 فیصد افراد کورونا کی وبا سے محفوظ رہے۔