پی آئی اے طیارے کا حادثہ کیسے ہوا؟ ابتدائی رپورٹ آ گئی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق جہاز کا لینڈنگ گیئر نہیں کھل سکا،

وزیر ہوابازی غلام سرورنے پی آئی اے طیارہ حادثے پر اظہار افسوس کیا ہے اور کہا ہے کہ بہت ہی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جلد از جلد حادثے کی انکوائری کی جائے گی،ابتدائی تحقیقات کے مطابق جہاز کا لینڈنگ گیئر نہیں کھل سکا،

دوسری جانب حکام کی طرف سے حادثے کی وجہ واضح نہیں کی گئی تاہم سوشل میڈیا پر پائلٹ کی ایک مبینہ آخری کال وائرل ہورہی ہے جو اس گفتگو پر مبنی ہے جو انہوں نے کنٹرول ٹاور سے کی اور پھر ریڈار سے غائب ہوگیا۔

آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ کنٹرول ٹاور پر موجود اہلکار استفسار کرتا ہے کہ "8303” جس پر پائلٹ کی جانب سے "جی سر” کا جواب ملتا ہے ۔ کنٹرول ٹاور سے بتایا جاتا ہے کہ ایسا لگ رہاہے کہ آپ بائیں طرف جارہے ہیں، پائلٹ بتاتا ہے کہ ہم براہ راست لینڈنگ کیلئے جارہے ہیں، ہمارا انجن جواب دے چکا ہے ۔

کنٹرول ٹاور کی طرف سے بتایا جاتاہے کہ ” 25 پر لینڈنگ کے لیے رن وے دستیاب ہے ، پائلٹ کی طرف سے جواب میں راجر کی آواز آٹی ہے اور ساتھ ہی چار دفعہ مے ڈے ، مے ڈے بولتا ہے اور پھر پاکستان 8303 بتانے کے بعد رابطہ ختم ہوجاتاہے ۔ کنٹرول ٹاور کی طرف سے بتایا جاتا ہے کہ 8303 راجر دونوں ہی رن ویز لینڈکرنے کے لیے دستیاب ہیں لیکن رابطہ ختم ہوچکا ہوتا ہے ۔

پی آئی اے طیارہ حادثے میں اب تک کتنی اموات ہوئیں اور کتنے افراد زخمی ہیں اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا۔ البتہ جناح اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسپتال میں لائی گئی لاشوں کی تعداد12 ہوگئی ہے۔ متعدد زخمی افراد بھی جناح اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

 

پی آئی اے طیارہ حادثہ، 5 لاشیں نکال لی گئیں،پاک فوج بھی امدادی کاموں میں ًمصروف

پی آئی اے طیارہ حادثہ،سی ای او پی آئی اے ارشد ملک کا اظہار افسوس، فوری کراچی روانہ

کراچی ایئر پورٹ کے قریب پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کا طیارہ گر گیا، جہاز میں عملے سمیت 107 لوگ سوار تھے، سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

پپی آئی اے کی لاہور سے کراچی جانے والی پرواز 8303 کو حادثہ ماڈل کالونی کے علاقے میں پیش آیا، سول ایوی ایشن کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، کورونا کے باعث مسافروں کی تعداد زیادہ نہیں تھی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.