پیار کیا ہے؟ والدین، اولاد، رشتے داروں سے محبت یا پھر دنیاوی عشق و معشوقی؟ بقلم: عاشق علی بخاری

آؤ پیار کریں
بقلم: عاشق علی بخاری

لفظِ پیار جتنا زیادہ میٹھا ہے اتنا ہی زیادہ اپنے اندر وسیع مفہوم بھی رکھتا ہے. جب ہم یہ لفظ بولتے ہیں تو سوچیے!
ہمارے ذہن میں کیا آتا ہے؟ والدین سے محبت، اولاد سے محبت، رشتے داروں سے محبت یا پھر دنیاوی عشق و معشوقی؟

یقیناً جو آپ سوچ رہے ہیں وہی جواب بالکل ٹھیک ہے. اس لیے کہ ہمارا ذہن فطری محبت کے بجائے منفی (Negative) سوچنے کا عادی ہوچکا ہے. ہمارے ذہن کی کیفیت اس قدر خراب ہوچکی ہے کہ مثبت (Positive) اور سنجیدہ باتیں بھی منفی محسوس ہوتی ہیں اگر آپ میری بات سے متفق نہیں تو پھر ذرا تجربہ کرکے دیکھ لیں.وجہ یہ ہے کہ ہم اس گروہ کا حصہ بن چکے ہیں جو ہمیشہ منفی سوچتا ہے.
پھر محبت ہے کیا، کس بلا کا نام ہے؟

دراصل محبت "رحم کے ان جذبات و احساسات کا نام ہے جو انسان دوسروں کے لیے اپنے دل میں محسوس کرتا ہے”
وہ احساس جو والدین، بہن بھائیوں، رشتے داروں کے لیے پیدا ہوتے ہیں. کیا ہم نے کبھی سوچا کہ کسی مظلوم، مسکین و غریب کو دیکھ کر ہمارا دل نرم کیوں ہوجاتا ہے؟ کیوں ہماری آنکھیں آنسو بہانا شروع کردیتی ہیں؟ حقیقت میں یہی محبت ہے.

پتہ ہے اللہ تعالیٰ بھی ہم سے محبت کرتا ہے؟ اسے بھی ہماری حالت پہ رحم آتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہم سے محبت کرتے ہیں. کیوں؟

وہ نہیں چاہتے کہ ہمارے ماننے والے جہنم میں جائیں، انہیں تکلیفیں پہنچیں، ہم مشکلات کا شکار ہوجائیں. وہ چاہتے ہیں کہ ہم ان سے محبت کریں، ان کی اطاعت میں زندگی کو لگادیں.

ہمارے والدین، بہن بھائی، رشتے دار، اساتذہ یہ سب لوگ ہم سے محبت کرتے ہیں، یہ سب ہمیں چاہتے ہیں، ان سب کو ہم سے پیار ہے ایسا پیار جس میں کسی قسم کی دو نمبری نہیں ہے. آپ بھی ذرا ان سے محبت کرکے دیکھیں، والدین کا ماتھا چومیں، بہن بھائیوں، رشتے داروں کے لیے اپنا جگر نرم کریں، اساتذہ کا احترام کریں، سب سے بڑھ کر خود اپنے آپ سے محبت کریں.

بقول شاعر:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تُو اگر میرا نہیں بنتا تو نہ بن اپنا تو بن

تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ہم کسی لڑکی کو اپنا دوست بنانا اس کے ساتھ، دن رات گزارنے کو حقیقی محبت سمجھتے ہیں. اس کے علاوہ کونسی محبت، کونسے تعلقات، کونسی رشتے داریاں سب بیکار اور کم تر نظر آتی ہیں. آج کل کی نوجوان نسل اور آزاد خیال لوگوں کے نزدیک محبت کا مفہوم بس یہی ہے.

لڑکا چار چار لڑکیوں سے افیئر کرے، بیوی غیر مردوں سے تعلقات جوڑے اس کی مرضی ہے، محبت کرنا اس کا بھی حق ہے. حقیقت میں یہ نوجوان بھول جاتا ہے کہ جب کوئی نہ تھا تو اللہ تعالیٰ اور اس کے والدین اس سے محبت کرنے والے موجود تھے. جب یہ لڑکی اس کی زندگی میں نہیں آئی تو اساتذہ نے سکھایا تھا، رشتے داروں نے سہارا دیا تھا لیکن اس کے ذہن پر ایسا نشہ سوار ہوتا ہے کہ اس کی زندگی میں آنے والی ایک اجنبی لڑکی اس کی کُل دنیا بن جاتی ہے.

یہ حقیقی پیار اور محبت کو بھول کر ایک ناپائیدار محبت کے لیے جان تک قربان کردیتا ہے لیکن اگر کچھ کر نہیں سکتا تو ایک گلاس پانی والدین کو نہیں دے سکتا، اپنے رب کے لیے جھک نہیں سکتا تو پھر کیسے مان لیا جائے کہ تیرے اندر بھی محبت کے جذبات موجود ہیں؟ اگر تجھے محبت ہے تو سب کے لیے ہوتی، اگر تُو پریشان ہوجاتا ہے تو سب کے لیے ہوتا، اگر تجھے نیند نہیں آتی تو سب کے لیے نہیں آنی چاہیے تھی.

محبت کوئی بچوں کا کھیل تو نہیں کہ جب دل چاہا کھیل لیا اور جب دل بھر گیا تو کہیں بھی پھینک دیا. یہ بچپن میں بنایا ریت کا گھر نہیں کہ سورج ڈھلتے ہی ٹھوکر سے گرادیا. جس لڑکی سے آپ محبت کا دم بھرتے ہو وہ تو جذبات سے بھرا ایک جیتا جاگتا انسان ہے نہ وہ کھلونا ہے اور نہ ریت کا گھر کہ جب دل کیا اٹھایا اور جب دل چاہا نیا بنالیا. محبتیں تو دائمی ہوتی ہیں جہاں گھر بنالیں تو وہ ٹھکانہ نہیں چھوڑتیں. یہ کوئی سائیبیرین پرندہ نہیں کہ جب موسم تبدیل ہونے لگے تو اپنا علاقہ ہی چھوڑ دے.

محبت کیجیے اور ضرور کیجیے لیکن ایسی محبت کہ دنیا میں بھی فائدہ دے اور آخرت میں بھی رسوائی کا سبب نہ ہو. ایسی محبت کریں جو خاندانوں کو ملانے کا سبب بنے، وہ محبت رشتوں کو جوڑدے، نفرتوں کے بیج نکال دے، جس پر آپ فخر کرسکیں.

وہ محبت ہی کیا جو اپنوں سے بیگانہ کردے، جو تنہائیوں کی وجہ بنے، جو اپنے شہر سے نکل جانے اور خون کے آنسو رلادے. محبت تو ایک ایسا درخت ہے اگر بنجر سے بنجر زمین میں بھی لگے تو وہاں بھی ہرا بھرا رہتا ہے. محبت ایک ایسا سبق ہے جسے بار بار دہرانے اور یاد کرتے رہنے کی ضرورت ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.