fbpx

پیاری ن لیگ آج جمعہ ہے! سینئر پی پی رہنما کا طنزیہ وار

پیاری ن لیگ آج جمعہ ہے! تفصیلات کے مطابق سینئر پی پی رہنما ناصر حسین شاہ کی جانب سے مسلم لیگ ن پر طنزیہ وار کیا گیا ہے۔ این اے 249 کی فتح کے بعد کی گئی ٹوئٹس میں ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پیاری ن لیگ
آج جمعہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک دفعہ پھر اور یاد دلادیتا ہوں کہ ، جنگل میں شیر صرف تیر سے ہی ڈرتا ہے۔
الیکشن نتائج پر اعتراضات کے حوالے سے ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ نون لیگ نے ڈسکہ میں بھی یہ ہی کیا تھا اور یہاں بھی کہ جس جس پولنگ اسٹیشن سے ہاررہے ہو وہاں سے اُن کا پولنگ ایجنٹ بغیر نتیجہ لیے غائب ہوجاۓ اور سارا الزام الیکشن کمیشن پر ڈال دے۔
شاید یہ بھول گۓ اس دفعہ ان کا مقابلہ حقیقی جمہوری پارٹی سے ہے ۔ دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ، پہلے دوسرے سلیکٹڈ سمیت سب سے لڑنے کو تیار ہیں، پیپلزپارٹی کو پیچھے دھکیلنے کیلئے ایک جماعت نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر سازش کی، مسلم لیگ ن کو پیپلزپارٹی سے لڑنے کا شوق ہے تو لڑو اور ہارو، بشیر میمن کے بیانات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

انہوں نے پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ این اے249 میں پیپلزپارٹی کی تاریخی کامیابی نے ثابت کردیا کہ عوام حکومت کے ساتھ نہیں۔ پاکستان کی سیاست جمہوری قوتوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کراچی کے عوام نے سلیکٹڈ حکومت کو ریجیکٹ کردیا ہے۔ عوام نے پھر سے پی ٹی آئی کو عبرتناک شکست دی ہے۔ مشکل وقت میں عوام کے ساتھ رہنے والوں کی جیت ہوتی ہے۔
ملیر اور بلدیہ کے الیکشن میں ثابت ہوا عوام پیپلزپارٹی کیساتھ ہے۔ ہم محدود وسائل کے باوجود کراچی کے عوام کے مسائل حل کریں گے۔ کراچی کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ عوام نے ضمنی الیکشن میں تاریخی کامیابی دلائی۔ پیپلزپارٹی نے کئی دفعہ اس نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ہم سے یہ کامیابی چھینی گئی تھی۔ ہم جانتے تھے اس علاقے میں بھٹو اور بی بی کے چاہنے والے بستے ہیں۔
ملیرکا پیسا ملیرکے لوگوں پر خرچ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی الیکشن پر الزامات لگا رہا ہے تو ثابت کرے۔ شاہد خاقان عباسی آراو آفس میں موجود تھے اور اپنی ہار دیکھ رہے تھے۔ پتا نہیں تھا کہ اپنی ہار کو دیکھ کر ن لیگ دھاندلی کا الزام لگائے گی؟پاکستان کی تاریخ دیکھ لیں کون سی جماعت مقامی جماعت ہے، کس نے زیادہ دھاندلی کی ہے، کل این اے 249 میں بہت سنا کہ ڈسکہ ٹو اور ڈسکہ ٹو، ان کا شوق ہے اپوزیشن سے اپوزیشن کرنا، مسلم لیگ ن اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کی بجائے ہم سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں، ان کا شوق پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرنا چاہتے ہو تو کرو، مگر آپ ہار جاؤ گے۔
انہوں نے کہا کہ کون سی جماعت مکمل سلیکٹڈ ہے؟ اور وہ اب ہمیں لیکچر دے گی؟ مسلم لیگ ن کے لوگوں کو ہار ماننا سیکھنا چاہیے۔ اگراس الیکشن میں ن لیگ کامیاب ہوتی توخود شہبازشریف کو فون کرکے مبارکباد دیتا۔ اپوزیشن کی تمام جماعتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے حکومت کا مقابلہ کرنا۔ شکست پر ن لیگ کا ردعمل انتہائی بچگانہ ہے اور اس کا نقصان انہی کو ہوگا۔
ہم اپنے نظریے اور منشورکے تحت جدو جہد کرتے رہیں گے۔ پیپلزپارٹی کو سوچی سمجھی سازش کے تحت پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی گئی۔ ایک جماعت نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف سازش کی۔ پہلے سلیکٹڈ، دوسرے سلیکٹڈ اور اسٹیبلشمنٹ سب سے لڑنے کو تیار ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بشیرمیمن بتائیں کہ کس کے کہنے پر اصغر خان کیس کا پیچھا چھوڑا اور میرے پیچھا کرنا شروع کیا۔ بشیر میمن کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.