fbpx

وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب تحریر: احسان الحق

گزشتہ رات وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس سے خطاب کیا. یہ خطاب ورچوئل یا فاصلاتی خطاب تھا. وزیراعظم نے ایک مسلمان عالمی رہنما کے طور پر خطاب کرتے ہوئے عالمی اور خطے کے مسائل پر مختصر مگر جامع خطاب کیا. عالمی مسائل بشمول عالمی وبا، کووڈ۱۹ ویکسین کی یکساں دستیابی اور فراہمی، منی لانڈرنگ، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی، مسئلہ کشمیر، اسلامو فوبیا، ہندوستان میں مسلمانوں پر مظالم، مسئلہ افغانستان اور طالبان حکومت سازی جیسے اہم ترین امور پر بات کرتے ہوئے خود کو عالمی رہنما ثابت کیا. وزیراعظم نے اپنے خطاب کا آغاز اقوام متحدہ کے صدر کو 76ویں اجلاس کی صدارت سنبھالنے پر مبارک دینے سے کیا.

وزیراعظم عمران خان نے عالمی رہنما کے تقاضوں کے عین مطابق سب سے پہلے عالمی مسائل پر بات کی. اس وقت اقوام عالم کو سب سے بڑا مسئلہ عالمی وبا کووڈ۱۹ کا درپیش ہے. مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ پوری دینا کو کووڈ ۱۹ کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی کا بھی سامنا ہے. کووڈ ۱۹ کی ویکسین کی یکساں فراہمی پر بات کی کہ غریب اور ترقی پذیر ممالک کو ویکسین کی یکساں دستیابی اور فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ان ممالک کی فنانسنگ کی جائے تا کہ اس موذی مرض کا مقابلہ کیا جائے. ماحولیاتی آلودگی میں مضر گیسوں کے اخراج کے حوالے سے پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے مگر پھر بھی ہم سب سے زیادہ متاثر دس ممالک میں سے ایک ہیں. موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے عالمی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے بلین ٹری منصوبے کا آغاز کیا. اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں کروڑوں نئے درخت لگائے جا چکے ہیں اور کئی نئے جنگل بھی لگائے گئے ہیں. پاکستان نئی آماج گاہوں کو تیار کر رہا ہے اور پہلے سے موجود قدرتی آماجگاہوں کو محفوظ بنا رہا ہے. آلودگی سے بچنے کے لئے جدید اور قابل تجدید توانائی کے طریقوں کو اپنایا جا رہا ہے.

وزیراعظم نے کووڈ۱۹ کے حوالے سے  پاکستان کی کاوشیں دنیا کے سامنے رکھیں. اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے پاکستان نے عالمی وبا پر قابو پانے میں کامیاب رہا. ہم نے سمارٹ لاک ڈاؤن متعارف کروایا جس کو دنیا نے نہ صرف سراہا بلکہ اپنایا بھی. وسائل اور بجٹ کی عدم دستیابی کے باوجود پاکستان نے انتہائی خوبصورتی اور چابکدستی سے اس موذی مرض پر قابو پایا اور اللہ تعالیٰ نے پاکستان اور قوم کو بڑے نقصان سے بچا لیا. ہم کووڈ ۱۹ کی یکساں ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنائے ہوئے ہیں اور ہر شہری کو ویکسین لگانے پر بھی پابند کر رہے ہیں. موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی آلودگی سے نپٹنے کے لئے بلین تری سونامی کا بھی ذکر کیا کہ اس پروگرام کے تحت پاکستان میں 1 ارب نئے درخت لگائے جا رہے ہیں. پچھلے تین سالوں میں کروڑوں نئے درختوں اور جنگلات کو اگانے سے مثبت نتائج ملنا شروع ہو چکے ہیں.

 

مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے بھارتی مظالم اور ناجائز قبضے پر کھلے الفاظ اور شدید انداز میں مذمت کی. بھارتی مکرہ چہرے کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے رکھا. واضح انداز اور کھلے الفاظ میں فاشسٹ آر ایس ایس اور ہندوتوا کے نظریات پر بات کی کہ کس طرح پورے ہندوستان میں 20 کروڑ مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی ہو رہی ہے اور بھارت مسلمانوں کی نسل کشی کرنے میں مصروف ہے. شہریت کے امتیازی قانون کے ذریعے آر ایس ایس اور ہندوتوا ہندوستان سے مسلمانوں کا صفایا کرنا چاہتے ہیں. مقبوضہ جموں وکشمیر میں اکثریتی مسلمان آبادی کو ہندو آبادی سے تبدیل کیا جا رہا ہے. بھارت کی ذمہ داری ہے کہ حالات کو سازگار بناتے ہوئے پاکستان کے ساتھ پرامن مزاکرات کرے اور 5 اگست 2019 والے یک طرفہ اور غیر قانونی اقدامات واپس لے. بھارت کی طرف سے فوجی تیاری، اسلحے کی دوڑ میں شمولیت، جدید اور مہلک ہتھیاروں کی خریداری پر حالات مزید خرابی کی طرف جا سکتے ہیں. ان حالات اور مستقبل میں ممکنہ جنگ کو روکنے کے لئے اقوام متحدہ کو اپنا فرض ادا کرنا ہوگا.

وزیراعظم نے سید علی گیلانی کو خراج عقیدت بھی پیش کیا. وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارتی بربریت اور دہشتگردی کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ سید علی گیلانی کی میت کو چھین لیا گیا. سید علی گیلانی کی میت پر دھاوا بول کر قبضہ کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ بھارتی دہشت گردی سے سید علی گیلانی کے اہل خانہ مذہبی اور اسلامی طریقہ سے تدفین کرنے سے قاصر رہے. میں جنرل اسمبلی سے کہتا ہوں کہ وہ بھارت سے مطالبہ کرے تا کہ سید علی گیلانی کے ورثا اپنی خواہش اور اسلامی طریقے سے باقیات کو اسلامی قبرستان میں دفن کر سکیں.

وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان نے عالمی سطح پر منی لانڈرنگ پر بھی تفصیل سے بات کی. کہنا تھا کہ فیکٹ آئی سے پتہ چلا کہ 7000 ارب ڈالر کے چوری شدہ اثاثے محفوظ عالمی پناہ گاہوں میں چھپائے گئے ہیں. غریب اور ترقی پذیر ممالک سے چوری کر کے سالانہ اربوں ڈالر غیرقانونی طریقے سے محفوظ مالیاتی جگہوں منتقل کئے جاتے ہیں. ترقی پزیر اور غریب ممالک غریب سے غریب تر ہوتے جا رہے ہیں. ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک کے درمیان فرق خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے. ان ممالک کا سرمایہ ترقی یافتہ ممالک میں جمع ہو رہا ہے اور وہ امیر سے امیر تر ملک بنتے جارہے ہیں. غریب ممالک سے لوگ روزگار کے لئے ترقی یافتہ ممالک کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں. امیر ممالک لوٹی ہوئی غریب ممالک کی دولت اور پیسہ واپس نہیں کرتے کیوں ایسی کوئی مجبوری یا کشش نہیں ہوتی کہ جس بنا پر لوٹا ہوا پیسہ غریب ملکوں کی غریب عوام کو واپس کیا جائے. وزیراعظم نے اقوام متحدہ اور دنیا سے مطالبہ کیا کہ ایسے ٹھوس اقدامات کئے جائیں تاکہ منی لانڈرنگ کو روکا جائے. ورنہ ایک دن ایسا آئے گا جب روزگار کے لئے مہاجرین اور ملازمت کے لئے جانے والے لوگوں کو روکنے کے لئے ترقی یافتہ ممالک کو دیواریں کھڑی کرنی پڑیں گی.

وزیراعظم نے کہا 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا. اس جنگ میں ساتھ دینے کے بدلے میں پاکستان پر بھارت کے ذریعے دہشت گردی مسلط کی گئی. افغانستان کے راستے سے پاکستان پر دہشت گردی کے حملے ہوتے رہے اور بھارت افغانستان کی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال کرتا رہا. دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانیوں نے 80 ہزار جانوں کا نظرانہ پیش کیا اور پاکستان کی معیشت کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا. 35 لاکھ افراد بے گھر ہو کر دوسرے علاقوں کا سفر کرنے پر مجبور ہوئے. اتنی بڑی جانی اور معاشی قربانیوں کے بدلے ہماری تعریف کے بجائے امریکہ اور یورپ میں ہمارے خلاف باتیں ہوتی رہیں.

میں پہلے دن سے ہی کہتا رہا کہ افغانستان کا حل فوجی آپریشن میں بالکل نہیں، میں امریکہ آیا یہاں سینیٹر جان ریڈ، بائیڈن اور کیری سے ملا اور ان کو سمجھانے کی کوشش کی مگر میری بات کوئی بھی ماننے کے لئے تیار نہیں تھا. 20 سال بعد ہماری بات درست ثابت ہوئی اور امریکہ کو مزاکرات کے ذریعے افغانستان چھوڑنا پڑا. عمران خان نے کہا اس وقت کسی نے یہ بات نہ سمجھی اور بد قسمتی سے فوجی حل تلاش کرنے میں امریکہ نے غلطی کی. آج دنیا یہ جاننا چاہتی ہے کہ کیوں طالبان واپس اقتدار میں آ گئے ہیں تو ایک تفصیلی تجزیہ کرنے کی ضرورت ہوگی کہ کیوں 3 لاکھ افراد پر مشتمل سازو سامان سے لیس افغان فوج بھاگ کھڑی ہوئی اور طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے. یاد رکھیں کہ افغان قوم دنیا کی بہادر ترین قوموں میں سے ایک ہے. جب اس کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا تو دنیا کو معلوم ہوگا کہ طالبان اقتدار میں واپس کیوں اور کیسے آئے ہیں؟

افغانستان کی صورتحال اور طالبان کی حکومت اور حکومت سازی پر بات کی اور دنیا پر واضح کیا کہ اس وقت طالبان اور افغانستان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا. ہمیں افغان طالبان اور عوام کو ان کے حال پر نہیں چھوڑنا چاہئے. دوحہ مزاکرات میں یہی شرائط تھیں جن پر افغان طالبان عمل پیرا ہیں. امریکہ کی طرف سے عام معافی کا اعلان، مخلوط حکومت، افغان سرزمین کو کسی دوسرے کے خلاف استعمال نہ کرنے کی اجازت اور انسانی حقوق کا احترام کرنے جیسی شرائط تھیں، افغان ان شرائط پر عمل پیرا ہیں. میں اقوام عالم کو کہتا ہوں کہ اس وقت ہم سب کو طالبان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی مالی اور غذائی امداد کرنی چاہئے. اگر ان کی مدد نہ کی گئی تو اگلے سال تک غذائی قلت 90 فیصد تک بڑھ جائے گی. آخر میں میں کہتا ہوں کہ ہمیں اپنا وقت ضائع کئے بغیر افغانستان کے متعلق عملی طور کردار ادا کرنا ہوگا، آپ سب کا بہت شکریہ

@mian_ihsaan