fbpx

سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ 24 گھنٹے میں ادا کرنے کا حکم

ریلیف کیمپوں میں کھانا نہ ملنے کی شکایت پروزیراعظم کا ایکشن کا حکم

وزیر اعظم شہباز شریف کی کوئٹہ آمد ہوئی ہے

کوئٹہ پہنچنے پر چیئرمیں این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو بریفنگ دی وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین این ڈی ایم کو امدادی کاموں سے متعلق ہدایات دیں اور کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو فوری ریسکیو کریں،سیلابی پانی اترنے کے بعد فوری طور پر تعمیر نو کا عمل شروع کیا جائے، چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ریسکیو کے فیز میں 70 فیصد کام مکمل کیا جاچکا ہے، بارشوں اور سیلاب سے 1100لوگ معمولی زخمی ہوئے بارش اور سیلاب سے بلوچستان میں 136اموات ہوئیں اور 70افراد زخمی ہوئے

وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی اور بلوچستان حکومت قومی جذبے سے بحالی اور آبادکاری کے لیے پرعزم ہیںغیر معمولی بارشوں سے وسیع پیمانے پر نقصان ہوئے بحالی اور امداد کے لیے این ایچ اے کی کوششیں لائق تحسین ہیں، 13جون کو بارش کا سلسلہ شروع ہوا،رواں برس500 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں بارش کا 30سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ,بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے اموات ہوئیں اور مواصلاتی نظام متاثر ہوا چیلنج بڑا ہے ملکر مقابلہ کریں گے جب تک آخری گھرآباد نہیں ہوتا چین سے نہیں بیٹھیں گے ،

وزیراعظم شہباز شریف نے بارش اور سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ 24 گھنٹے میں ادا کرنے کا حکم دے دیا وزیراعظم شہباز شریف نے جزوی یا مکمل تباہ مکانوں کا معاوضہ بھی بڑھا کر 5لاکھ روپے کردیا

وزیراعظم شہباز شریف کی بلوچستان آمد،وزیراعلیٰ قدوس بزنجو ،مولانا واسع ہمراہ ہیں،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بعض کمزوریاں بھی سامنے آئی ہیں، ہم فی الفور ایکشن لیں گے، میڈیکل کیمپس میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا،سارا عملہ موجود ہے ریکارڈ موجود نہ ہونے پر دکھ ضرور ہوا، لوگ دور دراز علاقوں سے آئے ہیں،بچوں اور لوگوں سے ملا، یہاں اموات بھی ہوئیں میرے ساتھ وزیر اعلی ٰموجود تھے، کسی کیمپ میں کھانے ملنے کی توثیق نہیں ملی انہوں نے خود کہا ہمیں کھانا نہیں ملا،ایک چھوٹے بچے سے ملا اس کی باتیں 20 سال کے نوجوان جیسی تھیں، بچہ سب بتا رہا تھا، میں نے اس کی تعلیم کے بارے میں بھی کہا ہے آج سے کھانا ملنا چاہیے، صبح اور رات کا کھانا دیا جائے،آج ہی ایکشن لیں گے، تمام کمزوریاں ختم کریں گے،امید ہے وزیراعلیٰ بلوچستان کمزوریوں کا سدباب کریں گے، امدادی کیمپوں میں کھانے کی فراہمی نہ ہونا افسوسناک ہے، وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کو کہا ہے کیمپوں میں کھانا ملنا چاہیے،

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ ایک ماہ کا راشن دیا گیا ہے جو کہ نہیں دیا،چیف سیکریٹری تمام متعلقہ افراد کو معطل کریں اور انکوائری کی جائے، راشن اور کھانا فراہم کرنے کیلئے کہا تھا جسے کیوں نظر انداز کیا گیا،

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ادویات کی فراہمی کے لیے انتظامات کیے جارہے ہیں ،این ڈی ایم اے کو کہا ہے کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کورقم ادا کی جائے جاں بحق افرادکے لواحقین کو رقوم پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے ،متاثرین خود کوئی لفظ کہیں اس کی نوبت نہیں آنی چاہیے، چیئرمین این ڈی ایم اے آج قلعہ سیف اللہ میں چیکس دے کر آئے ہیں کچے اور پکے گھروں کی تمیز ہم نے ختم کرنی ہے، یہ جائنٹ وینچر ہوگی، جائنٹ وینچر میں کسی بھی بحث کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے،

وزیراعظم شہباز شریف کی چمن آمد ہوئی، چمن آمد پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بلوچستان سیلاب کی زد میں ہے بلوچستان میں بارشوں کی تباہ کاری اتنی ہوئی جو ناقابل بیان ہے،بلوچستان میں تباہ کاریاں ہوئیں ،اموات ہوئیں اورلوگ زخمی ہوئے قلعہ سیف اللہ، لسبیلہ، جھل مگسی اورکوئٹہ میں بارشوں سے 142لوگ جاں بحق ہوئے سیلاب اوربارشوں سے مکمل اور جزوی مکانات تباہ ہوئے ،سیلاب اور بارشوں سے کھڑی فصلوں کا نقصان ہوا، سڑکیں متاثر ہوئیں ،مصیبت کے وقت میں وفاقی حکومت اور ادارے حاضر ہیں خوراک، ادارے، کیمپس اور ٹینٹ لگائے جارہے ہیں مویشیوں کے علاج معالجے کے لیے بھی ٹینٹس لگائے گئے ہیں،خامیاں بھی ہیں، انہیں دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے غفلت پر عملے کو معطل کیا گیا تاکہ بلوچستان بھر میں امدادی کام میں لاپرواہی نہ ہو،سب کے کان اب کھڑے ہوجائیں گے، ہوش کے ناخن لیں گے،اچھا کام کرنے والوں کو میری اور وزیر اعلیٰ کی جانب سے شاباش ملے گی،اگلے 24 گھنٹے میں سب چیکس تقسیم کرنے کا حکم دیا اور کہاہے شفافیت برقرار رہے،10لاکھ اور 20 لاکھ روپےکے چیکس ان کے آنسو کبھی بھی نہیں پونچھ پائیں گے،جو زخمی ہوئے ہیں انہیں 2،2 لاکھ یا اس سے بھی زیادہ رقم دی جائے گی،

دوسری جانب محکمہ تعلیم بلوچستان نے گرم علاقوں میں اسکولوں کی تعطیلات میں14اگست تک اضافہ کردیا تعطیلات میں اضافہ طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث کیا گیا،

قبل ازیں بلوچستان میں بارش اور سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کردی گئی۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق سیلابی ریلوں کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 136 اموات ہوچکی ہیں جن میں 56 مرد، 47 بچے اور 33 خواتین شامل ہیں جب کہ بارشوں کے دوران مختلف واقعات میں 70 افرادزخمی ہوئے۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق بارشوں سے 13 پزار 5 سو 35 مکانات کو نقصان پہنچا اور 3 ہزار 4 سو 6 مکانات مکمل تباہ ہوگئے، مختلف اضلاع میں 16 پُلوں اور 640 کلو میٹر سڑکوں کو نقصان پہنچا۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلابی ریلوں میں بہہ کر 23 ہزار13مویشی ہلاک ہوئے، سیلابی ریلوں سے 8 ڈیم اورکئی حفاظتی بند متاثرہوئے جب کہ بارشوں سے ایک لاکھ 98 ہزار ایکڑ پر کاشت فصلوں کو نقصان پہنچا۔

ملک بھر میں سیلاب کے باعث سیکڑوں دیہات ڈوب گئے، بستیاں اجڑ گئیں، لاکھوں افراد بے یار و مددگار ہو گئے ہزاروں جانور سیلابی ریلوں میں بہہ گئےلاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی زیر آب آ گئیں۔ خیبر پختونخوا میں ایک روز میں 10 افراد دم توڑ گئےسندھ میں ٹھٹھہ، خیرپور سمیت دیگر علاقوں میں سیلابی پانی سب بہا لے گیا۔