fbpx

وزیراعظم ہاؤس میں کفایت شعاری،تحریر:ام سلمیٰ

کبھی سنا کسی کو فکر ہوئی ہو کے وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات کتنے ہیں عجیب سا سوال ہے ؟
کوئی وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات کی بھی فکر کر رہا ہے قائد اعظم کے بعد.

عمران خان کی قیادت والی حکومت نے اپنے ڈھائی سالہ دور حکومت میں کفایت شعاری کے ذریعے وزیراعظم ہاؤس کے 49 فیصد اور وزیراعظم آفس کے 29 فیصد اخراجات کو کم کیا ہے اب تک. سابقہ ​​حکومتوں کے ساتھ اخراجات کا موازنہ کرتے ہوئے دستاویز پر اگر روشنی ڈالی جائے تو آپکو وزیر اعظم اور صدر بلکے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے علاوہ کیمپ آفس بھی ملیں گے ان سابقہ حکومتوں کے اخراجات میں یہ تمام کیمپ آفس بھی شامل ہیں پیپلز پارٹی کی حکومت میں سابق صدر آصف علی زرداری کے دو کیمپ دفاتر تھے جن کی قیمت تقریبا 3.6 ارب روپے تھی.

دوسری طرف ، مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران ، سابق وزیر اعظم نواز شریف کے لیے رائے ونڈ کیمپ آفس پر حکومت کو 4.3 ارب روپے خرچ ہوئے. جبکہ سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اپنے دو کیمپ دفاتر کے لیے 572 ملین روپے استعمال کیے.

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے پانچ کیمپ دفاتر پر 570 ملین روپے خرچ کیے جبکہ موجودہ وزیراعظم عمران خان کے پاس کوئی کیمپ آفس نہیں ہے یہ بھی انہونی رہی جب حکومت ان کیمپ آفس کے بغیر چل سکتی ہے تو کیوں عوام کا پیسہ اس طرح کے اخراجات میں استعمال ہو؟ سرکاری دستاویزات یہ بھی بتاتی ہیں کہ آصف علی زرداری نے اپنے دو کیمپ دفاتر پر 3.6 ارب روپے خرچ کیے ، جبکہ 245 سرکاری گاڑیاں اور 656 سیکیورٹی اہلکار بھی ان کے ساتھ تعینات تھے۔

دستاویزات کے مطابق نواز شریف نے رائے ونڈ کو اپنا کیمپ آفس بنایا اور سیکیورٹی کے لیے 2،717 پولیس اہلکار تعینات کیے ، جس سے قومی خزانے کو 4.3 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

2018 میں 590 ملین روپے سے 2020 میں 280 ملین روپے دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات 2018 میں 590 ملین روپے تھے جو 2019 میں 339 ملین روپے اور 2020 میں 280 ملین روپے رہ گئے۔ پی ایم او کے اخراجات جو 2018 میں 514 ملین روپے تھے ، 2019 میں 305 ملین روپے اور 2020 میں 334 ملین روپے رہ گئے۔

دستاویزات کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کا سالانہ اخراجات 180 ملین روپے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس سے کوئی صوابدیدی گرانٹ ، گفٹ اور کیش ایوارڈ نہیں دیا۔سب کو سرکاری کھاتے میں جمع کروا دیا جو کے وہ بہت کم قیمت ادا کر کے اپنے پاس رکھ سکتے تھے سب کو نیلامی پے لگوا دیا.

سرکاری دورے اورعمران خان کی کفایت شعاری
پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے 48 سرکاری دورے کیے جن پر سرکاری خرچہ 572 ملین روپے آیا جبکہ ان کے جانشین راجہ پرویز اشرف نے 9 سرکاری دورے کیے جن کی مالیت 107 ملین روپے تھی۔ جب کے نواز شریف نے 92 سرکاری دورے کیے جن پر قومی خزانے کو 1.8 ارب روپے لاگت آئی جبکہ ان کے جانشین شاہد خاقان عباسی نے 19 سرکاری دورے کیے جن پر 260 ملین روپے خرچ ہوئے۔

دوسری طرف ، وزیر اعظم عمران خان نے 26 سرکاری دورے کیے پی ٹی آئی حکومت کی کفایت شعاری مہم میں پی ایم او کے اخراجات 46 ملین روپے رہ گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پچھلے حکومتوں کے اخراجات کو دیکھتے ہوئے گزشتہ مالی سال میں 218 ملین روپے مختص کیے گئے تھے ، تاہم صرف 46 ملین روپے استعمال کیے گئے.سب سے اچھی بات یہ ہے کہ عمران خان صاحب نے اس پے توجہ دی پاکستان تحریک انصاف کی زیرقیادت وفاقی حکومت کی کفایت شعاری مہم نے قومی خزانے کو لاکھوں روپے بچانے میں مدد کی ہے۔

ایک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وزیراعظم ہاؤس اور وزیراعظم آفس کے اخراجات میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ خرچ آدھے سے بھی کم کر دیا اخراجات کو پورا کرنے کے لیے گزشتہ مالی سال میں 218 ملین روپے مختص کیے گئے تھے ، تاہم ، صرف 46 ملین روپے استعمال ہوئے۔ اسی طرح سرکاری دوروں کی مدد میں خرچ ہونے والے قومی خزانے کو بھی مختص بجٹ میں سے 10 ملین روپے کی کافی رقم بچائے گئے.

اس کے علاوہ ، تفریح ​​اور تحائف کے عنوان کے تحت بجٹ میں واضح کمی دیکھی جا سکتی ہے جو کہ 1.5 ملین روپے سے صرف 1000 تک ہے۔ وزیر اعظم کے دورے کے اخراجات میں ایک اور بڑے پیمانے پر کمی دیکھی گئی۔ ایک نا قابل یقین کمی 20 ملین روپے کے مختص بجٹ کے مقابلے میں صرف 1.2 ملین روپے خرچ کیے گئے۔

عمران خان نے ثابت کیا سوچ آجائے تو سب کیا جا سکتا ہے اور انہوں نے ثابت کیا کے قومی خزانے کا غلط استعمال نہں ہونے دیں گے اس کے ثبوت آپ کے سامنے ہیں.

@aworrior888