fbpx

وزیر اعظم کے عریانیت اور ریپ کے بیان پر عوام کا ردعمل

وزیر اعظم عمران خان نے 4 اپریل کو ٹیلی فون پر براہ راست عوام کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے ملک میں بڑھتے ہوئے ریپ واقعات سے متعلق ایک خاتون کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں عریانیت یا خواتین کے بولڈ لباس کو ’ریپ‘ واقعات سے جوڑا تھا۔

باغی ٹی وی : وزیر اعظم نے کہا تھا کہ کئی سال قبل برطانیہ بھی ایسا نہیں تھا مگر جب وہاں بھی خواتین نے عریانیت کو فروغ دیا اور مختصر لباس پہننے لگیں تو ’ریپ‘ واقعات بڑھنے لگے اور پھر فحش فلموں نے باقی کسر بھی پوری کی۔

وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ’معاشرے میں جتنی فحاشی بڑھے گی، اس کے اتنے ہی اثرات ہوں گے اور یہ کہ ہر انسان میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ خود کو روک سکے‘-

وزیر اعظم کے مذکورہ بیان پر کئی سیاسی، سماجی شخصیات اور تنظیموں نے بھی مذمت کی تھی اور عمران خان کا یہ بیان میڈیا کی بھی خوب زینت بنا تھا اور سوشل میڈیا پر بھی خوب وائرل ہوا یہاں تک کہ #بےحیائی_معاشرےکی_تباہی صبح سے ٹوئٹر پینل پر فہرست میں ٹاپ ٹرینڈ پر ہے اور لوگ اپنی رائے کا اطہار کر رہے ہیں اور وزیراعظم کے اس بیان کی حمایت کر رہے ہیں-


ایک خاتون صارف نے کہا کہ عمران خان نے بالکل درست کہا جہاں معاشرے میں سسر کا بہو کے ساتھ چکر، سالی کا بہنوئی کے ساتھ، ریپ, گھر سے بھاگ جانا ، مارننگ شو میں ناچ گانا ہو گا تو بے حیائی معاشرے کی تباہی ہی پو گی-


ایک صارف نے صلاحالدین ایوبی کا قول لکھا کہ اگر کسی قوم کو بغیر جنگ کے شکست دینی ہو تو اس کے نوجوانوں میں فحاشی پھیلا دو ،صلاح الدین ایوبی


ایک صارف نے لکھا کہ پڑوسی کا بچہ بھوکا ہے یہ کسی کو نہیں معلوم مگر پڑوس کی لڑکی کہاں کہاں جاتی ہے یہ سب کو معلوم ہے کڑوا سچ


ایک صارف نے لکھا کہ اگر ریپ کی وجہ لباس نہیں ہے تو کوئی زنا اور درندگی کو ابھارنے والی بنیادی وجہ بتادے؟-


ایک صارف نے لکھا کہ وزیراعظم نے سماج میں بڑھتے ہوۓ بدکاری و ریپ کے کیسسز کی جڑ کی جو نشاندہی کی وہ اسلامی نقطہٕ نظر سے درست کی۔ کچھ لوگ جو بے ہودگی پھیلانے کے خواہاں ہیں وہ منفی پراپیگنڈہ کر رہے ہیں-


ایک صارف نے لکھا کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے نبی پاک ﷺ سے مرفوعاً ایک طویل حدیث پاک روایت کی ہے اس میں عقلمند کی ایک خصلت حضور ﷺ نے یہ بیان فرمائی ہےعقلمند کی ( ایک ) صفت یہ ہے کہ شرم و حیاء اس سے جدا نہیں ہوتی(مسند الحارث رقم ۸۴۷ ، ۲ /۸۱۵)


ایک صارف نے لکھا کہ وزیر اعظم ہمیں پارسا چاہیئےلیکن فحاشی کی بات تو بالکل نہ کرےاور ہاں عیاشی ہماری فرعون والیاں ہوں پر جانا ہمیں جنت میں ہےبیوی پارساچاہیئےلیکن ادائیں اُس کی میا خلیفہ جیسی ہوں, چال چلن کی ٹھیک ہو لیکن کپڑےسنی لیونی جیسےپہنے-


میں عمران خان کے بات سے متفق ہوں کہ معاشرہ میں بڑھتے ریپ کیسز کی وجہ میں سے ایک وجہ فحاشی بھی ہے, جو tv پر, اور سرعام بھی بہت زیادہ ہے.پر اے کاش, یہی بات وہ 126 دن بچیاں نچاتے وقت بھی سوچتا.


ایک صارف نے لکھا کہ اگر میڈیا اور اپوزیشن اسلامک ملک پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے اس بیان پر تنقید کر رہا ہے تو یقین کرے وہ صرف بغض میں اپنی آخرت خراب کر رہا اور کچھ نہیں-


ایک صارف نے لکھا کہ وزیراعظم کے بیان کے بعد یورپ میں کہرام سا برپا ہے یورپ کے اس تکلیف سے آپ لوگ پردے کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں اور یورپ کی عورت کو بے لباس کرنے کی کوشش کا بھی آپ اندازہ لگا سکتے ہیں-


ایک صارف نے لکھا کہ یورپی ممالک میں عورت پردے کے لئے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں اور ہم کپڑے اتارنے کے لیے مطلب ہم اتنے بے حس ہوچکے ہیں پردہ فرض ہے تو فرض ہے بات ختم –


ایک صارف نے لکھا کہ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ حیا ایمان کا حصہ ہے جس میں حیا نہیں پھر جو دل چاہے کرے-عمران خان نے بالکل دینی اور شرعی بات کی ہے جو لوگ مغرب کی تقلید کرکے اس پر بول رہے ہیں وہ اصل میں عمران خان کے خلاف نہیں بلکہ دین اسلام کے خلاف بول رہے ہیں افسوس-


ایک صارف نے لکھا کہ ننگے سر بازار جانے والی عورت اس مٹھائی کی سی ہوتی ہے جسے اس کے ڈبے سے نکال کر باہر سجا دیا جاتا ہےجس پر ہر قسم کا جانور اور گندی مکھیاں بیٹھتی ہے…..


ایک صارف نے لکھا کہ جس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عورت کو پردے کا حکم دیا اسی آیت میں مردوں کو بھی نظریں نیچی رکھ کر چلنے کا حکم دیا !یوں ایک کا فرض دوسرے کا حق ثابت ہوا مگر اکیلی عورت مرد کے لئے موقع بن گئیں اور تمہارے حوس کی رال کتنی معصوم کلیوں پے ٹپکی اور انھیں مسل گئی-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.