fbpx

وزیر اعظم کی زیر صدارت نیشنل اکنامک کونسل کا اجلاس، آئندہ سال شرح نمو کا ہدف کیا ہوگا

وزیر اعظم کی زیر صدارت نیشنل اکنامک کونسل کا اجلاس، آئندہ سال شرح نمو کا ہدف کیا ہوگا

باغی ٹی وی :وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل اکنامک کونسل کا اجلاس ہوا اجلاس میں تمام وزرائے اعلیٰ اور دیگر این ای سی ممبران شریک ہوئے . اجلاس میں مالی سال 2021-22 کے لئے میکرواکنامک فریم ورک کی منظوری گئی . آئندہ مالی سال کے لئے شرح نمو کا ہدف 4.8 فیصد مقرر کرنے کی منظوری ہوئی .

آئندہ مالی سال میں زراعت میں اضافے کا ہدف 3.5 فیصد، انڈسٹریئل سیکٹر 6.5 فیصد جبکہ سروسز سیکٹر میں 4.8 فیصد ہوگاوزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے مالی سال 2021-22 کا پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام پیش کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے لئے ترقیاتی بجٹ نظر ثانی تخمینوں کے مطابق 1527 ارب روپے رہے گا.

مالی سال 2021-22 کا ترقیاتی بجٹ 2100 ارب روپے مقرر کرنے کی منظوری دی گئی . پی ایس ڈی پی کا حجم 900 ارب روپے ہوگا.ان میں سے 244 ارب ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن، 118 ارب روپے توانائی، 91 ارب روپے آبی وسائل، 113 ارب روپے سوشل سیکٹر، 100 ارب روپے علاقائی مساوات ، 31 ارب روپے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سیکٹر۔ 68 ارب روپے ایس ڈی جیز جبکہ 17 ارب روپے پروڈوکشن سیکٹر پر خرچ کیے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پی ایس ڈی پی کا محور انفراسٹرکچر کی بہتری، آبی وسائل کی ڈویلپمنٹ، سوشل سیکٹر کی بہتری، علاقائی مساوات، اسکل ڈویلپمنٹ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کا فروغ اور ماحولیات کے حوالے سے اقدامات ہوں گے.

اجلاس کو بتایا گیا کہ پی ایس ڈی پی میں حکومتی پالیسی کے مطابق ان علاقوں کی ضروریات کو پورا کیا جائے گا جو پیچھے رہ گئے ہیں۔ اس ضمن میں جنوبی بلوچستان، سندھ کے بعض اضلاع، گلگت بلتستان کے لئے مناسب فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے اضلاع میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے لئے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح انضمام شدہ علاقوں کے لئے 54 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ سوشل سیکٹرز میں ہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لئے 42 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں.

اجلاس کو بتایا گیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے قیام کے بعد متعدد منصوبوں کی تکمیل کے لئے کام جاری ہے۔ ان منصوبوں میں سکھر حیدرآباد موٹر وے، سیالکوٹ کھاریاں موٹروے کے منصوبے ایڈوانس سٹیج پر ہیں۔ جبکہ دیگر منصوبے جن میں کراچی سرکلر ریلوے، کے پی ٹی پپری فریٹ کاریریڈور، کھاریاں راولپنڈی موٹروے، بلکسر میانوالی روڈ، کوئٹہ کراچی چمن ہائی وے منصوبوں کا اجرا اسی سال کر دیا جائے گا۔

حکومت نے پہلی دفعہ پی ایس ڈی پی میں وی جی ایف (وائیبیلٹی گیپ فنڈ) کے لئے 61 ارب روپے مختص کیے ہیں تاکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت منصوبوں کی کامیابی سے تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار میں تیزی لائی جائے تاکہ معاشی استحکام کے ثمرات شرح نمو اور نتیجتاً پاکستان کے عوام کی بہتری و فلاح کی صورت میں لانے کو یقینی بنایا جا سکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.