ورلڈ ہیڈر ایڈ

وزیراعظم کی مشاورت سے کام ہو رہا ہے،ایک سال میں میرے اوپر کوئی سیکنڈل نہیں، وزیراعلیٰ پنجاب

وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ پولیس کا قبلہ درست کر رہے ہیں۔ اس سال کے آخر تک لاہور میں اورنج ٹرین چلا کر دکھائیں گے۔ نیک نیت افسران کو نیب سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب آفس سے جاری ہینڈ آؤٹ میں کہا گیا ہے کہ آج ایک نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب کی سوچ یہی تھی کہ ایک محروم اور پسماندہ علاقے کے آدمی کو چیف منسٹر بنایا جائے تاکہ محروم طبقے کی نمائندگی ہو سکے۔وزیر اعلی بننے کیلئے میں نے کوئی لابی نہیں کی۔مجھ پر وزیر اعظم کی خود نظر پڑی ہے۔اللہ تعالیٰ کے بعد یہ ان کی مہربانی ہے۔اور ان کی مہربانی کی وجہ سے میں آج اس عہدے پر ہوں۔وزاعلی نے بتایا کہ جس دن انہیں nominateکرنا تھاوزیر اعظم سے اسی دن بنی گالا میں ملاقات ہوئی جس کے بعد میں لاہور آ گیا۔وزیر اعظم کا فوکس غریب لوگوں پر ہے اور جو پنجاب کا سب سے زیادہ پسماندہ تر ین حلقہ ہے وہ میرا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کوایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والاایسا ایماندار آدمی چاہیے تھا جس کے اوپر سکینڈلز نہ ہوں۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعلی نے استفسار کیا کہ کیا یہ criteriaہے کہ کوئی شریف آدمی چیف منسٹر نہیں بن سکتا؟انہوں نے کہا کہ ہماری ایک سال کی پرفارمنس سب کے سامنے ہے۔اس کارکردگی کو دیکھیں اور پھر ہم کو بتائیں کہ ہماری کارکردگی کس طرح کی ہے۔ ہمارے کون کون سے سکینڈلز آئے ہیں۔ ہم نے کون سا غلط کام کیا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعلی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان جتنا اعتماد مجھ پر کرتے ہیں شاید کوئی اپنے بھائی پر بھی نہ کرتا ہو۔وہ ہمارے لیڈر ہیں۔ جب وہ لاہور آتے ہیں تو ہمیں guidenceدیتے ہیں۔ ہم ان سے مشورہ کرتے ہیں۔ ہم تو کہتے ہیں کہ most welcome وہ روز آئیں۔ہمیں تو اس کی خوشی ہوتی ہے۔لاہور بھی ان کا گھر ہے۔ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔وزیر اعظم یہاں آتے ہیں تویہاں ان کو فیڈرل ایشو بھی ڈسکس کرنے ہوتے ہیں۔صوبائی ایشوز بھی ڈسکس کرنے ہوتے ہیں۔ کابینہ کی میٹنگ ہوتی ہے۔تمام معاملات بالکل ان کی مشاورت اور مرضی کے ساتھ چلا رہے ہیں۔الحمدللہ کسی جگہ بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔سردار عثمان بزدار نے کہا کہ جتنا اعتماد انہوں نے مجھے دیا ہے۔ الحمدللہ میں کہہ سکتا ہوں کہ ان کی گائیڈنس کے ساتھ جو بھی فیصلہ ہوتا ہے وہ میں کرتا ہوں۔ مجھے کوئی پرابلم نہیں ہوتی۔

پنجا ب حکومت کے ترجمانوں کے بارے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلی نے کہ کہ ان ترجمانوں پر نہ کوئی خرچ آتا ہے اور نہ وہ پروٹوکول لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز گل اور منسٹر انفارمیشن ان کے ترجمان ہیں۔ہر منسٹر کا اپنا کام ہے۔ فیاض چوہان جس ڈیپارٹمنٹ کے منسٹر ہیں اس کو represent کرتے ہیں۔جب وہ انفارمیشن کے منسٹر تھے تب وہ میری ترجمانی کرتے تھے۔ اب بھی وہ لوگوں سے پیار محبت کرتے ہیں۔
پنجاب پولیس کے بارے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلی نے کہاکہ پولیس میں definately ایشوز ہیں۔ میں نہیں کہتا کہ سو فیصد سب ٹھیک ہے۔ پہلی بات تو جو افسر لگائیں وہ میرٹ پر لگائیں۔ الحمد اللہ پنجاب میں ہم نے میرٹ پر تمام پوسٹنگز کی ہیں۔ آپ دیکھیں، ڈی پی اوز یا آر پی اوز لگے ہیں وہ سب میرٹ پر لگے ہیں۔ جب ہم feed back لیتے ہیں وہاں سے تو کافی اطمینان والی چیزیں ملتی ہیں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ ڈی آئی جی آپریشنزبہت اچھے آدمی ہیں۔دیگر افسران بھی اچھے ہیں۔ آپ کہہ رہے ہیں کے کیس بہت زیادہ رپورٹ ہور ہے ہیں۔ ہم نے پالیسی رکھی ہے فری رجسٹریش آف کیسز کی۔ جب رجسٹریشن آف کیس فری ہو گی تو آپ کو لگے گا جرائم کی سطح اوپر جا رہی ہے۔ اصل میرٹ یہ نہیں ہونا چاہیے۔بلکہ ملزموں کی سزا اور ریکوری ہونا چاہیے۔وزیر اعلی نے کہا کہ ہم پولیس میں automation لانا چاہتے ہیں۔ جب تک ہمtechnology base کام نہیں کریں گے تب تک یہ چیزیں چلتی رہیں گی۔۔ میڈیکل ڈاکٹ کا پرابلم تھا۔ وہ ہم نے computerized کر دیا ہے۔ اس کے بعد خدمت مرکز ہو گئے پولیس کے۔ پھر مانیٹرنگ ہوتی ہے ان کی تمام تھانوں کی آئی جی آفس کے ساتھ۔۔ موبائل وین ہے۔ سیف سٹی سے تمام ڈیٹا ملتا ہے۔

وزیر اعلی نے کہا کہ پولیس کے بارے میں جو بنیادی مسئلہ ہے وہ یہ کہ attitude میں تبدیلی ہو۔ آپ تھانے میں جائیں۔ آپ کو عزت کے ساتھ ملیں۔ آپکوproper گائیڈ کریں۔آپ کے ایشوز کو حل کریں۔ ہم نے پولیس کو SOPs دے دیے ہیں۔ انشاء اللہ کچھ عرصے میں آپ behavior میں تبدیلی دیکھیں گے۔ پھر ہم DRC رول اسمبلی میں لے کر آئے ہیں۔ اس سے ہو گا کہ ہم ایشوز کو resolve کریں گے۔ تھور ا سا ٹائم لگے گا۔ لیکن امید ہے چیزیں بہتر ہو جائیں گی۔ ایم پی ایز کی بیوروکریسی کے تبادلوں میں مداخلت کے بارے سوال کے جواب میں وزیر اعلی نے کہا کہ جو قانون کو ہاتھ میں لیتا ہے اس کو spare نہیں کیا جاسکتا۔ بہت سارے اس طرح کے واقعات ہوئے بھی ہیں۔ایسے معاملات پر قانون خود ایکشن لیتا ہے۔ جو میرٹ پر ہوتا ہے وہی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو جتنا ہمdepoliticise کر رہے ہیں میرا نہیں خیال اس سے پہلے ہو اہو۔ ان کو صرف میرٹ پر کام کرنے کی instructions ہیں۔
ایم پی ایز اوراپنے لیے مراعات کے بل اور اس پر پرائم منسٹر کی ناراضگی کے بارے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلی نے کہا کہ آپ خود جا کر دیکھ لیں۔ کس کو کیا مراعات ہیں۔ چیف منسٹر اور کیبنٹ کو جو اصل تنخواہ ملتی تھی ہم نے پندرہ فیصد کٹ کر کے اس سے بھی نیچے لے آئے ہیں۔ نیب سے ڈر کر بیورو کریسی کے کام نہ کرنے کے بارے سوال پر وزیر اعلی نے کہا کہ نیب رولز پر کام ہو رہا ہے۔کسی نہ کسی لیول پر لوگوں کی reservation ہوں گی کچھ لوگوں کی۔ اچھی نیت سے آپ جو بھی کام کریں اس پر قانون ایکشن نہیں کرتا۔ دیکھا جاتا ہے آپ کی نیت ٹھیک نہیں ہے پھر قانون حرکت کرے گا۔اورنج ٹرین کے بارے سوال پر سردار عثمان بزدار نے کہا کہ اورنج ٹرین پر میں کوئیcomment نہیں کرتا۔ کہ 27 کلومیٹر پر آپ اربوں لگا دیں۔ any how یہ سرکار کا پیسہ تھا اب یہ سرکار کاasset بن گیا ہے۔ ہم اس کو بالکل ختم نہیں کر رہے۔سال کے آخر تک یہ ٹرین چلا کر دکھائیں گے۔ اس کی اونر شپ ہم نے لی ہے۔ میں خودsite پر جاتا ہوں continously اس کاvisit بھی کرتا ہوں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.