fbpx

وزیر اعظم نے نسرین جلیل کی بطور گورنر سندھ تقرر ی کی سمری صدر مملکت کو بھجوا دی

اسلام آباد:وزیر اعظم شہباز شریف نے ایم کیو ایم رہنما نسرین جلیل کو بطور گورنر سندھ مقرر کرنے کی سمری صدر مملکت کو بھجوا دی ہے۔

گورنر سند ھ کی تقرری کا معاملہ، نسرین جلیل صدر عارف علوی سے منظوری کے بعد گورنر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گی۔وہ پہلی خاتون گورنر کا اعزاز بھی حاصل کریں گی۔ نسرین جلیل لاہور میں پیدا ہوئیں، ان کے والد ظفر الحسن برطانوی دور میں لاہور کے ڈپٹی کمشنر رہے اور بعد ازاں کئی اہم عُہدوں پر فرائض انجام دیئے۔

نامزد خاتون گورنر دو دفعہ سینیٹ کی رُکن منتخب ہوئیں اور کئی کمیٹیوں کی چیئرپرسن بھی رہیں۔ وہ ایم کیو ایم کی ڈپٹی کنوینر رہنے کے علاوہ ایک متحرک کارکن کا کردار بھی بخوبی نبھاتی رہیں۔ انہیں کچھ عرصے کیلئے جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے گورنر سندھ کے نام پر غور کیلئے ایم کیوایم رابطہ کمیٹی کا مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں مختلف ناموں پر غور کیا گیا۔اس سلسلے میں عامر خان، وسیم اختر، فروغ نسیم، نسرین جلیل کے نام پر مشاورت جاری تھی ، چاروں ناموں پر رابطہ کمیٹی کے ہر رکن سے رائی طلب کی جارہی تھی ،

ذرائع نے بتایا ہے کہ اس کے علاوہ نامور بیوروکریٹس، ریٹائرڈ جج سمیت دیگرناموں پر بھی غور ہورہا تھا ۔یاد رہے وفاقی حکومت نے ایم کیو ایم سے گورنر سندھ کے لیے نام مانگے تھے، جس پر ایم کیو ایم نے وفاقی حکومت سے وقت مانگ لیا تھا۔ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ گورنر سندھ ن لیگ سے بھی ہو سکتا ہے لیکن آج نسرین جلیل کے نام سندھ کی گورنرشپ کا قرعہ نکل آیاہے

نسرین جلیل کی سیاسی شناخت ابتدا سے آج تک ایم کیوایم ہی رہی ہے، نسرین جلیل لاہور میں پیدا ہوئیں تاہم اُن کی زندگی کا کم و بیش تمام حصّہ کراچی ہی میں گزرا ، ابتدائی زندگی بہن بھائیوں کے ساتھ لندن میں گزاری، تعلیم کی غرض سے پیرس بھی گئیں، اسی لیے انگریزی، اردو زبانوں کے علاوہ فرانسیسی زبان پر بھی مکمل عبور حاصل ہے۔

نسرین جلیل دو مرتبہ سینیٹ کی رُکن منتخب ہوئیں، 2002ء میں نسرین جلیل نے این اے 250سے عام انتخابات میں حصّہ لیا لیکن کامیابی حاصل نہ کر سکیں تاہم 2012ء میں سینیٹ کے انتخابات میں بھر پور کامیابی حاصل کی۔

نسرین جلیل پہلی مرتبہ 1994ء اور دوسری مرتبہ 2012ء میں سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی کی چیئر پرسن بنیں اور اسی حیثیت میں بالخصوص خواتین کے حقوق کے لیے پارلیمانی پلیٹ فارم سے بہت کام کیا۔

وہ ایم کیو ایم کی ڈپٹی کنوینر اور اکنامک اینڈ فنانس ریونیو اور پرائیوٹائزیشن سمیت سینیٹ کی کئی کمیٹیوں کی چیئر پرسن بھی رہیں۔

جب ایم کیو ایم کے خلاف کراچی میں آپریشن شروع ہوا تو نسرین جلیل کو بھی گرفتار کر لیا گیا، 3 سال کی سزا سنائی گئی اور جیل بھیج دیا گیا، بعد ازاں 6 ماہ کی اسیری کے بعد انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔