قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر اعظم کا اپوزیشن لیڈر سے مصافحہ

عمران خان کو جیل میں مشکلات ہیں تو آئیں بیٹھ کر بات کریں.وزیراعظم
0
113
pm

اسلام آباد: قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر سے مصافحہ کیا-

وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کے اراکین سے ملاقات کرکے سیاسی ہم آہنگی کا آغاز کیا۔

وزیر اعظم نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ایس آئی سی ممبران سے ملاقات کے لیے ان کی نشستوں پر رابطہ کیا،وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان اور علی محمد خان، اسد قیصر اور زین قریشی سمیت اپوزیشن جماعت کے دیگر اراکین اسمبلی سے بھی مصافحہ کیا،مزید برآں، وزیراعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو اسمبلی میں اپنی نشست پر گلے لگا کر سیاسی کشیدگی میں کمی کا اشارہ دیا۔

بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 247 میگا واٹ تک پہنچ گیا

علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ میں نے پہلی تقریر میں میثاق معیشت کی پیش کش کی تھی، لیکن میری تجویز کو حقارت سے ٹھکرایا گیا،عمران خان کو جیل میں مشکلات ہیں تو آئیں بیٹھ کر بات کریں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلی تقریر میں میثاق معیشت کی پیش کش کی تھی، لیکن میری تجویز کو حقارت سے ٹھکرایا گیا، ایوان میں ایسی نعرے بازی کی گئی جو سیاہ باب بن گئی، بجٹ کے حوالے سے بھی دوبارہ بیٹھ کر بات کرنے کی پیش کش کی، آج تلخیاں جہاں پر پہنچی ہیں اسکا ذمہ دار کون ہے، ہم اس نہج پر پہنچ چکے کہ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا گوارہ نہیں۔

حنا ربانی کھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ کی چیئرپرسن منتخب

شہباز شریف نے کہا کہ میں جیل میں تھا جب والدہ کا انتقال ہوا تو سپریٹینڈنٹ جیل سے چھٹی مانگی لیکن انہوں نے انکار کردیا، میں ذاتی تکالیف کا رونا نہیں رونا چاہتا، میری کمر میں تکلیف تھی لیکن خطرناک قیدیوں والی گاڑی میں بٹھایا گیا تاکہ مجھے تکلیف ہو، میں نے کینسر سے متاثر ہونے کے باوجود کبھی جیل میں اس کا رونا نہیں رویا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اگر بانی پی ٹی آئی عمران خانکو مشکلات و مصائب کا سامنا ہے تو آئیں بیٹھ کر بات کریں اور معاملات کو طے کریں، انڈر ٹرائل قیدی اور سزا یافتہ قیدی کے حقوق میں فرق ہوتا ہے، خواجہ آصف، رانا ثنا ہم انڈر ٹرائل تھے لیکن ہمیں زمینوں پر لٹایا گیا دوائیاں بند کی گئیں، ہم نہیں چاہتے ان کے ساتھ اسی طرح کی زیادتی ہو جو ہمارے ساتھ ہوئی تھی، آئیں بیٹھیں ملک کو آگے لے کر جانے کے لیے بات کریں اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔

کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث پیسکو افسر گرفتار

Leave a reply