fbpx

ملک بھر میں بجلی بریک ڈاؤن، وزیراعظم شہباز شریف کی قوم سے معذرت

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن پرمعذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو پہنچنے والی زحمت پر افسوس ہے-

باغی ٹی وی: ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ روز کے پاوربریک ڈاؤن پر شہریوں کوپہنچنےوالی تکلیف پر حکومت کی طرف سے معذرت خواہ ہوں، میرے حکم پر پاور بریک ڈاؤن کی تحقیقات جاری ہیں اور اس سلسلے میں ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔

بجلی بریک ڈاون، وزیر توانائی کی ٹویٹ، استعفی کی بجائے ڈھٹائی

قبل ازیں وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں وزیر توانائی خرم دستگیر نے بجلی بریک ڈاؤن پر ارکان کو بریفنگ بھی دی۔ بجلی بریک ڈاؤن پر وفاقی کابینہ نے سخت اظہار برہمی کیا جس پر وزیراعظم نے کہا کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

قبل ازیں اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا تھا کہ ملک میں این ٹی ڈی سی کے 1112 گرڈ اسٹیشنز ہیں جن کو بحال کردیا ہے جس کے بعد ملک بھر میں بجلی کا نظام مکمل بحال کر دیا ہے گزشتہ روز صبح ساڑھے سات بجے تکنیکی خرابی ہوئی جس کا ابھی پتا نہیں چل سکا ہے۔

بجلی کا تاریخی بریک ڈاؤن، 24 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی بجلی مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی

خرم دستگیر نے کہا تھا کہ جوہری پلانٹ کو دوبارہ شروع ہونے میں 24 سے 48 گھنٹے چاہئیں جب کہ کوئلے کے پلانٹ کو بھی 48 گھنٹے چلانے کیلئے درکار ہوتے ہیں اس لیے اگلے 48 گھنٹوں میں ملک میں بجلی کی کمی رہے گی جس وجہ سے اگلے 48 گھنٹوں میں ملک میں لوڈشیڈنگ رہے گی، پرسوں تک سب کچھ بحال ہوجائے گا ملک کا ترسیلی نظام محفوظ رہا ہے، بجلی کے کارخانے چلانے کے لئے وافر مقدار میں تیل موجود ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ خدشہ ہے اور تفتیش کرنی ہے کیا ہمارے سسٹم میں ہیکنگ کے ذریعےبیرونی مداخلت تو نہیں ہوئی، اس بات کی بھی تحقیقات کی جائیں گے البتہ انٹرنیٹ سے بیرونی مداخلت کے امکان کم ہیں، وزیراعظم نے تین رکنی انکوائری کمیٹی بنائی ہے جس کی سربراہی مصدق ملک کریں گے۔

اگلے 48 گھنٹوں میں ملک میں بجلی کی کمی رہے گی،خرم دستگیر