پی ایم سی کی پالیسی غلط، سب میڈیکل کالجز کا ایک ہی پیمانہ ہونا چاہئے، سنیٹر عثمان

قبائلی اضلاع اور بلوچستان کے میڈیکل کے طالبعلموں کا پی ایم سی کے باہر احتجاج۔
پی ایم سی نے قبائلی اضلاع اور بلوچستان میں میڈیکل کی نشستیں 265 سے کم کرکے 29 کردیں. ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اسلام آباد کے صدر ڈاکٹر فیض اچکزئی کی بھی مظاہرے میں شرکت. ینگ ڈاکٹرز کا طالبعلموں کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا ۔
پی ایم سی کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے، میڈٰیکل کی نشستیں کم کرنے سے میڈیکل کے شعبے کو دھچکا لگے گا،
دور دراز کے علاقوں میں پہلے کی میڈٰیکل سہولیات ناپید ہیں،
سنیٹر عثمان بھی طلبہ سے اظہار یکجہتی کے لیے پہنچ گئے انکا کہنا ہے کہ پی ایم سی کےباہر احتجاج ہورہا ہے 265 طلباء کو بحال کیا جائے، ریاست اور اس کے اداروں کی پالیسی ہے کہ غریب والدین کے بچے ڈاکٹر نہ بنیں، پی ایم سی کی ناروا پالیسی ہے فاٹا کے ساتھ نا انصافی کی جارہی ہے، فاٹا میں مسلسل دھشتگردوں کے مسلط کیا جارہا ہے اور علاقہ مکینوں کے ساتھ زیادتی کی گئی
،ہزاروں لوگ شھید ہوئے پیپلز پارٹی کے دور میں لاکھوں لوگ گم ہوئ۔فاٹا میں 2 لاکھ 22 ہزار گھروں کو گرایا گیا، آج بھی دو لاکھ لوگ کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جو وعدے کیے پورے نہیں ہوئے، فاٹا کے عوام کو 150 میڈیکل کہ سیٹس بھی نہیں دی جارہی ہیں فاٹا میں گزشتہ 19 سال میں 100 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، فاٹا کے طلباء کو اسکالر شپ ڈی جائے معدنیات سے بھرے علاقے کو نظر انداز کیا جارہا ہے ،سنیٹ میں یہ اس مسئلے کو اٹھائینگے میڈیکل کی سیٹس ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،
پی ایم سی کی پالیسی غلط ہے سب میڈیکل کالجز کا ایک ہی پیمانہ ہونا چاہئے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.