پی ایم ڈی سی کی بحالی، سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ سنا دیا

پی ایم ڈی سی کی بحالی، سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ سنا دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے پی ایم ڈی سی رجسٹرار کی بحالی کے خلاف حکومتی اپیل پر مختصر فیصلہ سنادیا، مختصر فیصلہ جسٹس اعجاز الاحسن نے پڑھ کر سنایا، سپریم کورٹ نے پی ایم ڈی سی کو چلانے کے لیے نو رکنی ایڈ ہاک کونسل قائم کردی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایڈہاک کونسل کی سربراہی جسٹس ریٹائرڈ اعجازافضل خان کریں گے، ممبران میں اٹارنی جنرل، سرجن جنرل آفس پاکستان شامل وائس چانسلر نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، وی سی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، وی سی سندھ جناح میڈیکل یونیورسٹی بھی شامل ہوں گے۔

اس کے علاوہ وائس چانسلر خیبر میڈیکل یونیورسٹی بھی ایڈ ہاک کونسل کے ممبر ہوں گے، وی سی شہید ذوالفقارعلی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اور وی سی بولان میڈیکل یونیورسٹی، پرنسپل مونٹ مورینسی کالج آف ڈینٹسٹری لاہور بھی ایڈ ہاک کونسل میں شامل ہیں۔

میٹنگ میٹنگ ہو رہی ہے، کام نہیں ، ہسپتالوں کی اوپی ڈیز بند، مجھے اہلیہ کو چیک کروانے کیلئے کیا کرنا پڑا؟ چیف جسٹس برہم

ڈاکٹر ظفر مرزا کی کیا اہلیت، قابلیت ہے؟ عوام کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ، چیف جسٹس

قیدیوں کی رہائی کیخلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا، بڑا حکم دے دیا

کابینہ کے 49 ارکان کا مطلب،وزیراعظم کچھ جانتا ہی نہیں،حکومت یہ کام نہیں کر سکتی تو سرینڈر کر دے، سپریم کورٹ

کرونا سے نمٹنے کیلیے ناکافی اقدامات، چیف جسٹس نے لیا پہلا از خود نوٹس

مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

علاوہ ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرسماعت توہین عدالت درخواست بھی خارج کر دی گئی

دو روز قبل سپریم کورٹ میں پی ایم ڈی سی کے حوالہ سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومتی اپیل پر سماعت ہوئی تھی،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ نے سماعت کی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ رجسٹرار پی ایم ڈی سی تالے توڑ کر عمارت میں داخل ہوئے، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ رجسٹرار پی ایم ڈی سی فیصلے تک بلڈنگ میں داخل نہ ہوں،رجسٹرار اگر اپنے دفتر میں ہیں تو پی ایم ڈی سی سے نکل جائیں،

اٹارنی جنرل نے کہا کہ رجسٹرار پی ایم ڈی سی کی تعیناتی 2019 کے آرڈیننس کے تحت ہوئی، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ہائی کورٹ نے پی ایم سی آرڈیننس ہی کالعدم قرار دیدیا، قانون ختم ہوگیا تو اس کے تحت ہونے والی تعیناتی کیسے بحال ہو سکتی؟توہین عدالت کی درخواست پر ہائی کورٹ اس نوعیت کا حکم نہیں دے سکتی

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہائی کورٹ نے پی ایم سی ملازمین کو بحال کیا پی ایم ڈی سی کے نہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کو رجسٹرار اور ملازمین کے متعلق فیصلے کا اختیار ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہزاروں ڈاکٹرز کی رجسٹریشن کا عمل رکا ہوا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کسی سابق جج کو پی ایم ڈی سی کا صدر تعینات کرے،قانون کے مطابق ریٹائرڈ جج ہی کونسل کا سربراہ ہو سکتا ہے،عدالت کی صوابدید ہے جسٹس ریٹائرڈ شاکر اللہ جان کو ہی دوبارہ تعینات کرے یا کسی اور جج کو، کونسل اپنے سربراہ کی تعیناتی ہوتے ہی فعال ہو جائے گی،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.