پی ایم ڈی سی کی گاڑیاں غائب، عدالت نے کیا حکم دے دیا؟

پی ایم ڈی سی کی گاڑیاں غائب، عدالت نے کیا حکم دے دیا؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ایم ڈی سی توہین عدالت کیس میں وزارت صحت کے جوائنٹ سیکریٹری اور سیکشن افسر کو طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے رجسٹرارپی ایم ڈی سی کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ میں درخواست زیر التوا ہے۔ جسٹس محسن اخترکیانی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرلیتے ہیں۔

میٹنگ میٹنگ ہو رہی ہے، کام نہیں ، ہسپتالوں کی اوپی ڈیز بند، مجھے اہلیہ کو چیک کروانے کیلئے کیا کرنا پڑا؟ چیف جسٹس برہم

ڈاکٹر ظفر مرزا کی کیا اہلیت، قابلیت ہے؟ عوام کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ، چیف جسٹس

قیدیوں کی رہائی کیخلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا، بڑا حکم دے دیا

کابینہ کے 49 ارکان کا مطلب،وزیراعظم کچھ جانتا ہی نہیں،حکومت یہ کام نہیں کر سکتی تو سرینڈر کر دے، سپریم کورٹ

کرونا سے نمٹنے کیلیے ناکافی اقدامات، چیف جسٹس نے لیا پہلا از خود نوٹس

مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

دوران سماعت جسٹس محسن اخترکیانی نے استفسار کیا کہ پی ایم ڈی سی کے مکمل اثاثے مل گئے ہیں؟ پی ایم ڈی سی کے رجسٹرار حفیظ الدین نے عدالت کو بتایا کہ پی ایم ڈی سی کی 5 گاڑیاں غائب ہیں۔ پاکستان میڈیکل کمیشن کے چیئرمین کو گاڑیوں سے متعلق خط لکھا گیا لیکن جواب نہیں آیا۔ جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ پی ایم ڈی سی کے ذمہ دار ہیں۔ چوری کا پرچہ کرا دیں۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کے ملازمین کو تنخواہیں بھی جاری نہیں کی گئیں، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کے پاس اپنا فنڈ ہے تو تنخواہیں ادا کریں، وکیل نے کہا کہ جوائنٹ سیکرٹری نے کل پھر رجسٹرارکا آفس بند کرکے گھر جانے کا کہا،مجھے کل کہا گیا کہ آپ کام نہیں کرسکتے،میرے نائب قاصد کو کہا گیا کہ آفس کو لاک کردیں،

عدالت نے توہین عدالت کیس میں وزارت صحت کے جوائنٹ سیکرٹری سعید اللہ نیازی اور سیکشن افسر علی رضا کوآئندہ سماعت پرطلب کرلیا۔ عدالت نے کیس پر مزید سماعت 21 اپریل تک ملتوی کردی

پی ایم ڈی سی بحالی فیصلے کیخلاف حکومتی اپیل پر فیصلہ محفوظ، چیف جسٹس کا بڑا حکم

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.