ن لیگ کا نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے تین ناموں پر غور شروع

0
43

لاہور: نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے مسلم لیگ (ن) نے تین ناموں پر غور شروع کردیا ہے-

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد اب نگراں وزیراعلٰی کے تقرر کے لیے ن لیگ نے مختلف ناموں پر غور شروع کردیا۔

مسلم لیگ ن کا پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھرپور الیکشن لڑنے کا فیصلہ

پارٹی ذرائع کے مطابق پارٹی کی جانب سے جسٹس (ر) خلیل الرحمان رمدے، سابق بیورو کریٹ ناصر مسعود کھوسہ اور جسٹس جواد ایس خواجہ کے ناموں پر غور ہوگا جبکہ قیادت نے سینئر رہنماؤں سے نگراں وزیراعلی کے لیے مزید نام بھی طلب کئے ہیں-

واضح رہے کہ گورنر پنجاب نے قائم مقام وزیراعلی چوہدری پرویز الہی اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو نگراں وزیراعلی کی تقرری کے لیے خط لکھ رکھا ہے، حمزہ شہباز اس وقت بیرون ملک موجود ہیں۔

واضح رہے کہ گورنر پنجاب نے صوبائی اسمبلی کی تحلیل پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا ، سمری کے 48 گھنٹے پورے ہونے پر اسمبلی اور کابینہ خود بخود تحلیل ہوگئی تھی اب حکومت اور اپوزیشن مل کر 7 روز میں نگراں وزیراعلیٰ کا مقرر کریں گے۔

گورنرپنجاب کا اسمبلی تحلیل کرنےسےانکار:اسمبلی پھربھی تحلیل ہوگئی

گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے صوبائی اسمبلی کی تحلیل کی سمری پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا ۔گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے عمل کا حصہ نہیں بنوں گا، سمری پر دستخط نہ کرنے سے آئینی عمل میں رکاوٹ کا اندیشہ نہیں، آئین و قانون میں آگے بڑھنے کا راستہ موجود ہے۔

قبل ازیں واضح رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب اسملبی کی تحلیل کی دستخط شدہ سمری 12 جنوری کو گورنر پنجاب کو بھجوائی تھی۔اس سے قبل انہوں نے عدالتی حکم کی روشنی میں پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تھا، اعتماد کے ووٹ کی قرار داد کے حق میں 186 اراکین نے ووٹ دیا تھا تاہم اپوزیشن نے اس عمل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

ایم کیو ایم نے الیکشن کمیشن کے خلاف چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

وزیراعظم شہباز شریف نے پنجاب اسمبلی کی تحلیل میں رکاوٹ نہ بننے کا اعلان کیا تھا جبکہ مسلم لیگ ن نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے صوبائی انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف پنجاب اسمبلی کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی بھی تحلیل کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔

Leave a reply