fbpx

وزیراعظم صاحب جو کام گذشتہ چھ دہائیوں سے نہ ہوسکا آج وہ آپ نے کر دیا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

وزیراعظم صاحب جو کام گذشتہ چھ دہائیوں سے نہ ہوسکا آج وہ آپ نے کر دیا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کی عمارت کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ میں اپنی اور عدلیہ کی جانب سے وزیر اعظم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ 60 سالوں میں پہلی بار کسی وزیر اعظم نے عوام اور سائلین کو عزت دیتے ہوئے ان کے حقوق کو تسلیم کیا

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ کا کہنا تھا کہ سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کیلئے ریاست کے تمام ستونوں کو یکجا ہونے سے ہی ممکن ہے اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے عوام اور سائلین کیلئے سستے اور فوری انصاف کیلئے اپنا کردار ادا کرے مگر یہ جدوجہد محض عدلیہ تک محدود نہیں رہ سکتی عدالت نظام عدل میں صرف ایک اکائی ہے ،جس معاشرے میں سچی گواہی دینا نا پید ہو جائے اور جرم کا ارتکاب دیکھ کر منہ پھیر لے تو عدالتی نظام بے بس ہو جاتا ہے تحقیقاتی ادارے اپنے فرائض پیشہ ورانہ طور پر نبھانے میں ناکام رہے تو مجرموں کا احتساب ممکن نہیں

باقی یہ رہ گیا تھا کہ وکلا آئیں اور مجھے قتل کر دیں میں اسکے لیے تیار تھا،چیف جسٹس اطہر من اللہ

بے لگام وکلا نے مجھے زبردستی "کہاں” لے جانے کی کوشش کی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس، وکلاء مشکل میں پھنس گئے

ہم سب ٹرائل پرہیں، اللہ بھی ہمیں دیکھ رہا ہوں،چیف جسٹس اطہرمن اللہ

ستر سال سے کچھ نہیں ہوا،موجودہ حکومت نے بہت کچھ کیا،چیف جسٹس اطہرمن اللہ

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ کہ ججز بحالی تحریک کے قائدین نے عوام کو سنہرا خواب دکھایا تھا کہ ریاست ماں جیسی ہو گی اور ماں کی طرح اپنے عوام کے مفادات اور حقوق کا تحفظ کرے گی اس تحریک میں ججز صاحبان تو بحال ہو گئی مگر تحریک کے مقاصد پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے آج بھی لمبا سفر باقی ہے ہمیں عوام کو ثابت کرنا ہوگا کہ ریاست عوام جیسا تحفظ کرتی ہے ریاست کی جانب سے وزیراعظم نے ادھوری تاریخ کو مکمل کرنے کا ذمہ لیا ہے میں بھی وزیر اعظم کو اسلام آباد ہائیکورٹ اور عدلیہ کی جانب سے یقین دہانی کراتا ہوں کہ ہم انشا اللہ کسی بھی شہری کو سستے اور فوری انساف کے حق سے محروم نہیں ہونے دیں گے وزیراعظم اس تحریک اور سفر میں ہمیں کسی صورت پیچھے نہیں پائیں گے

پی ٹی وی میں اچھے لوگوں کو پیچھے اور کچرے کو آگے کر دیا جاتا ہے، ایسا کیوں؟ قائمہ کمیٹی

بسکٹ آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے اس کے اشتہار میں ڈانس کیوں؟ اراکین پارلیمنٹ نے کیا سوال

میرے پاس کوئی اختیار نہیں، قائمہ کمیٹی اجلاس میں چیئرمین پیمرا نے کیا بے بسی کا اظہار

میڈیا کو حکومت نے اشتہارات کی کتنی ادائیگیاں کر دیں اور بقایا جات کتنے ہیں؟ قائمہ کمیٹی میں رپورٹ پیش

نعیم بخاری و دیگر ڈائریکٹرز کی تعیناتی کے خلاف درخواست،وفاقی حکومت نے مہلت مانگ لی

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکورٹی سخت،رینجرزتعینات،حملہ وکلاء کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے کہا ہے کہ ہم نے مشکل سے آزادی حاصل کی،سستا اور فوری انصاف ہرشہری کا بنیادی حق ہے،ڈسٹرکٹ کورٹس کا قیام انتہائی اہم تھا، جب سچی گواہی ناپید ہوجائے توانصاف کی فراہمی میں مشکل پیش آتی ہے قانون کی بالادستی ہوگی تو کمزور طبقوں کو انصاف فراہم ہوسکے گا ڈسٹرکٹ کورٹس کے بغیر ججز اوروکلا کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا،کسی بھی شہری کوسستے اور فوری انصاف سے محروم نہیں ہونے دیں گے وزیراعظم صاحب یقیناً آپ اس بات کے مستحق ہیں کہ جو کام گذشتہ چھ دہائیوں سے نہ ہوسکا آج وہ آپ کے ہاتھوں سرانجام پارہا ہے ۔جناب وزیراعظم صاحب 2007 کی وکلاء تحریک میں آپ کا کردار نہایت اہم اور کلیدی تھا۔

مشرف کا سب سے بڑا جرم کونسا؟ وزیراعظم عمران خان بھی بول پڑے

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!