شاعرہ اور افسانہ نگار نیر رانی شفق

مری خستگی کو جمال دے مری بندگی کو کمال دے
0
164
poet

چاٹ گئی ہیں عمر کا سونا
آنکھ میں ٹھہری گہری راتیں

نیر رانی شفق

06 مارچ 1967ء کو ڈیرہ غازی خان، پنجاب میں پیدا ہونے والی نیر رانی شفقؔ شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔ آباء و اجداد کا تعلق شہر انبالہ ہندوستان سے ہے، نیر رانی شفق نے اردو میں ایم اور بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ درس و تدریس سے منسلک ہیں۔ کچھ عرصے سے روزنامہ جنگ سے وابستہ رہیں، بچوں کے لیے لکھی گئی کہانیوں کی کتابیں:۔ ” وطن کی خوشبو“ اور””ضیائے وطن“ پر صدارتی ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔ ان کے طویل افسانوں (کہانیوں اور ایک ناولٹ ) پر مشتمل کتاب ”شفق رنگ تقاریر“ پر ہند وپاک میں کئی ایوارڈ ملے ہیں۔ شعری مجموعہ ”شنگرفی شام“ کے نام سے شائع ہوا ہے۔

غزل
۔۔۔۔۔۔
مری خستگی کو جمال دے
مری بندگی کو کمال دے
مرے دل کو نور میں ڈھال کر
مرے فکر و فن کو اجال دے
تو عروج دے مرے صبر کو
مری خواہشوں کو زوال دے
جو نکھار دے مری روح کو
مرے دل کو ایسا ملال دے
کوئی چاند بخش کے رات کو
مری ہر سیاہی کو ٹال دے
مری چشم گریہ کو حسن بخش
دل ریزہ ریزہ سنبھال دے
مجھے دائمی ہو شفقؔ عطا
یہ مرض بدن سے نکال دے

غزل
۔۔۔۔۔۔
ہجر کی اندھی بہری راتیں
تن من پیاسا بھیگی راتیں
چاٹ گئی ہیں عمر کا سونا
آنکھ میں ٹھہری گہری راتیں
مجھ سے خوب لپٹ کر روئیں
سونی شام اندھیری راتیں
صندل باتیں خوشبو لہجہ
کہاں گئیں وہ مہکی راتیں
ہم تم جھیل کنارے جاگے
گاؤں کی شب اور شہری راتیں
تارا تارا بکھر گئی تھیں
وصل میں ڈوبی چاندنی راتیں
بن کے پاگل پروا ڈھونڈوں
لہریں ساحل بھیگی راتیں
جنوری فروری اور دسمبر
ٹھنڈ میں جاگی ٹھٹھری راتیں
شفقؔ کے سوچ نگر میں ٹھہریں
دھند میں لپٹی کیسی راتیں

غزل
۔۔۔۔۔۔
پیماں وفا کے باندھ کے جانے کدھر گیا
صحرائے ہجر میرے لیے بن بھنور گیا
میری نگاہ شرمگیں جھکتی چلی گئی
اس کا بھی شوق مہر و وفا پر اثر گیا
اک شوخ سی نگاہ جو رخ پہ جمی رہی
عارض پہ اک حسین سا غازہ اتر گیا
اس کی کتاب شوق کا سادہ ورق تھی میں
میرا بھی عشق دیکھ کے اس کو سنور گیا
منزل کی چاہتوں میں قدم رقص میں رہے
بے کار عمر رائیگاں کا یہ سفر گیا
چھایا تھا مہربان سا بادل جو دھوپ میں
موج صبا جدھر گئی وہ بھی ادھر گیا
کچھ شام سے لپٹ کے شفقؔ یوں جدا ہوئی
لگتا تھا اب کے ہاتھ سے دل کا نگر گیا

Leave a reply