fbpx

پولیس افسران کے حکم پر گھر میں گھس کر شہریوں پر تشدد،مقدمہ جھوٹا ثابت،افسران کو بچانے کی کوشش

پولیس افسران کے حکم پر گھر میں گھس کر شہریوں پر تشدد،مقدمہ جھوٹا ثابت،افسران کو بچانے کی کوشش
لاہور 18 -19 اپریل 2022 کی درمیانی شب جوھِر ٹاون کے علاقہ G4 میں پرائیویٹ کمپنی مالک شوکت علی گل اور بیوی بچوں پر پولیس کے دو ایس پی حضرات کے ذاتی/ غیر قانونی حکم پر تھانہ بادامی باغ اور تھانہ جنوبی چھاؤنی سے بھیجے گئے بے وردی پولیس اہلکاروں کا گھر کی دیوار پهلانگ کر بدترین تشدد، توڑ پھوڑ ،اہم کاغذات لیپ ٹوپ بچے کا ٹیب اور موبائل فون چھین لئے ۔

۱۸-۱۹ اپریل ۲۰۲۲ کو پنجاب پولیس کے 2 ایس پی ( عیسی سکھیرا اور حفیظ بگٹی ) کے ذاتی حکم پر سادہ کپڑوں میں ملبوس بادامی باغ تھانے کے پولیس اہل کاروں اور SP کینٹ عیسی سکھیرا کے ذاتی گارڈ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے بغیر وارنٹ آدھی رات کو جوہر ٹاؤن کے علاقے G/4 میں گیٹ پھلانگ کر پرائیویٹ کمپنی کے مالک کے گھر کے تمام دروازے توڑتے ہوئے بیڈ روم کے اندر گُھس گئے، بیوی بچوں کے سامنے بیہامانہ تشدد کیا- لیپ ٹاپ ، بچے کا ٹیب، موبائلز چھین لیے، کمپنی کے مالک شوکت علی گل کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر تشدد کرتے ہوئے اور گھسیٹتے ہوئے پولیس ڈالے میں ڈال کر تھانہ جنوبی چھاؤنی میں لے گئے – جہاں جھوٹی FIR درج کی گئی،

وردا فضل نامی ایک ہائی سوسائٹی گرل نے اپنے سابقہ شوہر سجاد ہاشمی جو کہ ایک کمپنی میں اعلی عہدے پر فائز ہے، کے خلاف دھمکیاں دینے کی ایک جھوٹی شکائت کراچی سے واٹساپ میسج پر اپنے دوست SP حفیظ بگٹی کے ذریعے SP کینٹ عیسی سُکھیرا کو بھجوائی ، جنہوں نے بغیر تحقیقات کئے FIR درج کرنے کا حکم دیا اور SP حفیظ بگٹی کی بادامی باغ سے بھیجے گئے سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اھل کاروں/غنڈوں کی ٹیم کے ساتھ تھانہ جنوبی چھاؤنی کے اھل کار بھیج دئے، پولیس کی اس غنڈہ بردار ٹیم نے بغیر کسی قانونی استحقاق کے پہلے سجاد ھاشمی جو کہ خود ایک کمپنی میں چیف آپریٹنگ آفیسر ہے، اسکو مورخہ ۱۸ اپریل رات کے ۹ بجے انکے دوست کے ساتھ ان کے آفس ڈیفنس فیز 6 سے زبردستی آنکھوں پر کپڑا باندھ کر تشدد کرتے ہوئے اُٹھایا اور ان کے بھی موبائل فون ، لیپ ٹاپ چھین لئے، اور تھانہ جنوبی چھاؤنی لے گئے-

بعد ازاں بادامی باغ /جنوبی چھاؤنی تھانے اور ذاتی گارڈ کی اسی ٹیم نے رات کے ۱۲:۳۰ بجے سجاد ھاشمی کے بہنوئی شوکت علی گل جو کہ ایک پرائیویٹ کمپنی کے مالک بھی ہیں، اور جنکی کمپنی کیلئے وردا فضل HASCOL کی ملازمہ ہوتے ہوئے کام کرتی تھیں اور کروڑوں کا فراڈ کر گئیں، وردا فضل کے خلاف کمپنی کے مالک شوکت علی گل نے HASCOL کمپنی کے CEO عقیل خان کو مورخہ 7 اپریل2022 کو ایک خط بھی لکھا تھا، انھی اقدامات کی پاداش میں ہائی سوسائٹی گرل وردا فضل نے مبینہ طور پر اپنے حفیظ بگٹیSP کے ساتھ ناجائز تعلقات استعمال کرتے ہوئے SP عیسی سُکھیرا کے ساتھ اس تمام غیر قانونی آپریشن کا نہ صرف پلان کیا بلکہ کراچی سے بیٹھ کرآن لائن ویڈیوز کے زریعے ایک ایک ایکشن کو کنٹرول کیا-

کمپنی کے مالک شوکت علی گل کے گھر آدھی رات کو دھاوا بولا گیا، ان کا لیپ ٹاپ، اور اسکے بیٹے کا ٹیب اور موبائل فونز اسی لئے قبضے میں لیے گے تاکہ کمپنی کا بزنس ریکارڈ ختم کیا جا سکے- رات کے 3 بجے شوکت علی گل اور سجاد ھاشمی کے دوست سہیل ظفر کو چھوڑ دیا گیا، جبکہ سجاد ھاشمی کو دوسرے دن SP عمران کھوکھر کے تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد چھوڑ دیا گیا کہ FIR جھوٹی ہے اور FIR میں درج کوئی وقوعہ ہوا ہی نہیں ہے –

مورخہ ۲۲ اپریل ۲۰۲۲ کو ڈی آئی جی آپریشن ڈاکٹر عابد نے پولیس کی اس کھلے عام غنڈہ گردی کا نوٹس لیتے ہوئے 7 پولیس اہلکار بشمول 2 ایس ایچ او تھانہ بادامی باغ عمران نیازی اور تھانہ جنوبی چھاؤنی سید وجیہہ کو معطل کر دیا اور تحقیقات کا حکم دے دیا – جھوٹی FIR 971/22 جنوبی چھاؤنی مکمل تحقیقات کے بعد خارج ہو چکی ہے-

عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

11 سالہ لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے پر بھارتی فوجی اہلکار گرفتار

شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

مگر دوسری طرف متاثرین واقعہ کا موقف ہے کہ اس ساری واردات کے اصل کردار ایس پی حفیظ بگٹی اور ایس پی عیسی سُکھیرا کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور ان کے خلاف مکمل شہادتوں اور بیانات کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا جا رھا جبکہ اس واردات میی ملوث ایک اہم کردار جو کہ ایس پی عیسی سُکھیرا کا ذاتی گارڈ بتایا جاتا ہے، جسکے cctv فوٹیج اور تصاویر بھی موجود ہے، جو تمام تر تشدد میں پیش پیش رھا اور تشدد کی وڈیوز بنا کر SP حفیظ بگٹی اور وردا فضل کو بھیجتا رھا، اسکو بچا لیا گیا ہے، اور اسکے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ، وہ غنڈہ ابھی تک آباد ہے اور متاثرین ابھی تک حراساں ہیں -ایس پی حفیظ بگٹی جو کہ کراچی ٹرانسفر ہو چکا ہے، وہ خاندان کے دوسرے افراد خصوصی طور پر سجاد ھاشمی کے بڑے بھائی معروف سرجن ڈاکٹر پرویز محمود ھاشمی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رھا ہے – جسکے ثبوت موجود ہیں –

متاثرین وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس پاکستان، آرمی چیف اور آئی جی پنجاب سے انصاف اور تحفظ کی اپیل کرتے ہیں، اور سوال کرتے ہیں کہ کیا ریاست ایس پی حضرات کے ذاتی احکامات کی غلام ہے؟ کیا ریاست قانون کی پابند نہیں؟ جو دفعات جھوٹی FIR میں لگائی گئیں ہیں، کیا ان کے تحت ریاستی مشینری، پولیس گردی، گھر میں گھسنا، تشدد، موبائلز لیپ ٹاپ بچے کا ٹیب لینا بنتا ہے؟ جو ابھی تک واپس نہیں کیا گیا-

کیا ریاست ان ایس پی حضرات کے سامنے بے بس ہے، کیا ریاستی ادارے ان کو ٹھیکے پر دے دئے گئے ہے؟ اور ان کے ذاتی معاملات کی دیکھ بھال کیلئے کسی کو بھی بھینٹ چڑھایا جا سکتا ہے ؟ کیا طاقت کے نشے میں دھُت ان سول سروسز کے پولیس افسران کا کوئی احتساب کوئی پوچھ گُچھ نہیں ہے؟ کیا اس قسم کے افسران کو مستقبل میں ڈسٹرکٹ اور صوبے کا پولیس چیف لگایا جائے گا؟