پولیس اصلاحات کیلئے کیا اٹھایا گیا ہے بڑا قدم؟ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے بتا دیا

چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ جھوٹی گواہی انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، صحیح ثبوت کے بغیر انصاف فراہم نہیں کیا جاسکتا،

عدلیہ اور طب دونوں مقدس شعبے ہیں، وکیل کو ڈاکٹر سے زیادہ پروفیشنل ہونا چاہیے، چیف جسٹس

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صنفی تشددسے متعلق تقریب سےخطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ جھوٹی گواہی دینےوالوں کو سزا دے کرمثال قائم کرنی چاہیے، نوجوان وکلا کو قانون کی معیاری تربیت فراہم کررہےہیں، فوری انصاف کاحصول ہرشہری کا بنیادی حق ہے، انصاف کی جلدفراہمی کےلیےماڈل کورٹس کردار ادا کررہی ہیں،

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ عوام میں پولیس کی ساکھ بہتربنانےکےلیےکمیٹی بنائی، تقریب میں چیف جسٹس پاکستان آصف سعیدکھوسہ اور جسٹس منصورعلی شاہ نے شرکت کی، تقریب کے دوران خطاب میں چیف جسٹس نے بتایا کہ پولیس اصلاحات کےلیے9 سابق آئی جیزپرمشتمل کمیٹی بنائی ہے، اسیسمنٹ کمیٹی کےممبران میں سابق سیشن ججزاورنوجوان وکلاءشامل ہوں گے، ماڈل کورٹس کےقیام سےہائیکورٹس پربوجھ کم ہوا، وکلاءکےساتھ تفتیشی افسران کوبھی تربیت فراہم کررہےہیں، عوام میں پولیس کی ساکھ بہتربنانےکےلیےکمیٹی بنائی، انہوں‌نے کہاکہ ٹیکنالوجی کےاستعمال سےبہت سےفوائدحاصل کیےجاسکتےہیں،پیچیدہ کیس کافیصلہ کرنے کے لیے ججز کمپیوٹرکا سہارا لیں،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.