fbpx

دو سالوں میں کے پی کے پولیس کو جاری فنڈز سے متعلق سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہلال الرحمان کی زیرصدارت پارلیمنٹ لاجز میں ہوا-

سینیٹرز بہرہ مندخان تنگی، ثانیہ نشتر، شمیم آفریدی، حاجی ہدایت اللّہ خان، ہدایت اللّہ، دوست محمد خان، لیاقت خان ترکئی، گردیپ سنگھ اور سید محمد صابر شاہ نے اجلاس میں شرکت کی۔سیکریٹری سیفران، ڈی سی اپر دیر، سیکریٹری خیبر پختونخواہ، حکام پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے پی کے، ایڈیشنل سیکریٹری فنانس خیبرپختونخواہ کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔کمیٹی اجلاس کے آغاز میں محکمہ آبپاشی کی جانب سے بروقت ورکنگ پیپر مہیا نہ کرنے پر چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگلی میٹنگ سے پہلے تمام ریکارڈ سے متعلق ورکنگ پیپر کمیٹی میں پیش کریں۔

قبائلی اضلاع میں تمام اسکیموں کیلئے جی آئی ایس سسٹم، پروکیورمنٹ پراسس کے حوالے سیکیپی-پی پی آراے رولز کا مشاہدہ کرنے، اور ای ٹینڈرنگ کے ذریعے ورک آرڈر جاری کرنے کے حوالے سے سیفران کی ذیلی کمیٹی کی تجاویز پر عمل درآمد نا کرنے پر کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا-سیفران کی قائمہ کمیٹی نے ذیلی کمیٹی کی تجاویز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی سختی سے ہدایت کی۔کمیٹی نے قبائلی اضلاع میں تمام اسکیموں کی جی آئی ایس میپنگ موثر بنانے کے احکامات جاری کردئیے-متعلقہ حکام کو اگلی میٹنگ میں پیش رفت رپورٹ کمیٹی میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی،

چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کو خیبرپختونخواہ میں ضم کرنے کا مقصد ان اضلاع کو کے پی کے برابر لے کر آنا تھا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو رہا-قبائلی اضلاع کیلئے جاری فنڈز میں بھی انصاف نہیں ہورہا-ایڈیشنل سیکریٹری فنانس کے پی کے نے کہا کہ قبائلی اضلاع کو خیبرپختونخواہ میں ضم کرتے وقت تمام صوبوں نے اپنے بجٹ کا تین تین فیصد جو 24 ارب روپے بنتے ہیں، قبائلی اضلاع کو دینا تھے جو کہ ابھی تک نہیں دئے گئے- چیئرمین کمیٹی نے کہا قبائلی اضلاع کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہئے- سینیٹر بہرہ مند خان تنگی نے کہا کہ سابقہ فاٹا نے قربانی دے کر خیبرپختونخواہ کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا لیکن ان کا کوئی مداوا نہیں ہورہا-وہاں کے لوگوں کو صاف پانی تک مہیا نہیں کیا جارہا۔ایڈیشنل سیکریٹری فنانس خیبرپختونخواہ نے گزشتہ دو سالوں میں کے پی کے پولیس کو جاری فنڈز سے متعلق کمیٹی کو بریفنگ دی-سینیٹر دوست محمد خان نے کہا کچھ خسادار اور لیویز کو 18 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی جس پر متعلقہ حکام نے کہا کہ 30 ہزار پولیس میں سے اگر نو سو اہلکاروں کو تنخواہیں نہیں مل رہی تو کوئی مسئلہ ہو سکتا ہے جس کی جانچ پڑتال کرلیں گے-کے پی کے پولیس کے سینئیر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے کچھ گھوسٹ اہلکار ہوسکتے ہیں -انہوں نے کہا کہ پولیس کو فنڈز کا مسئلہ نہیں ہے-سینیٹر ہدایت اللّہ نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے پولیس فرنٹ لائن پر ہیں ان اہلکاروں کو گاڑیوں اور اسلحے کے مسائل ہیں ان کو زیادہ فنڈز کی ضرورت ہے- چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ فاٹا کے فنڈز کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے وفاق فنڈز دیتی ہے لیکن کے پی کے خرچ نہیں کرتا- انہوں نے کہا کہ سابقہ فاٹا کے عوام کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہئے۔

سینیٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ سسٹم کو ٹھیک کرنا ہوگا تب ہی چیزیں ٹھیک ہوں گی-ان کا کہنا تھا کہ بائیو میٹرک پر تنخواہیں دینی چاہئے، ای ٹینڈرنگ، ای بلنگ جیسے اقدامات سے گورننس بہتر ہوسکتی ہے ہم مدد کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن صوبائی حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے-فنڈز بہت ہیں لیکن گراونڈ پر کچھ بھی نہیں -چیف سیکریٹری خیبرپختونخواہ کے نمائندے نے تجاویز دیتے ہوئے بتایا کہ ایک ہی محکمے کے بجائے کام ہر متعلقہ محکمے کو دینا چاہئے، زمہ داریاں بانٹنی چاہئے، ہر محکمہ اپنے ہی حدود میں رہ کر کام کرے تو تب ہی صورتحال بہتر ہوگی جس کو کمیٹی نے سراہا-چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کے طرز کردار کو تقسیم کرنے کی ضرورت ہے جس کیلئے چیف سیکریٹری خیبرپختونخواہ کو خط لکھیں گے- اپر دیر میں نواب محمد شاہ خسرو خان کے گھر کو خالی کرانے سے متعلق معاملہ اگلے اجلاس تک موخر کردیا گیا-چیئرمین کمیٹی نے سیکریٹری سیفران سے کہا کہ وہ کمشنر اپر دیر سے کہیں کہ ان لوگوں کیلئے مشکلات پیدا نہ کریں -بصورت دیگر کمیٹی، چیف کمشنر اپر دیر اور چیف سیکریٹری خیبرپختونخواہ کو کمیٹی میں پیش ہونے کے احکامات جاری کرے گی۔ اور ان کی موجودگی میں معاملے پر بحث کے بعد کمیٹی ہدایات دے گی۔قبائلی اضلاع کے مسائل کی جانچ پڑتال کرنے کیلئے کمیٹی نے اگلی میٹنگ چیف سیکریٹری خیبرپختونخواہ کے دفتر میں کرنے کا فیصلہ کیا-کمیٹی گراونڈ پر اسکیموں کا جائزہ بھی لے گی

جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

سینیٹر اعظم سواتی نے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائرکر دی