fbpx

پولیس لائن مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنیوالوں پر مقدمہ درج

پولیس لائن مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنیوالوں پر مقدمہ درج کر لیا گیا،پولیس نے نمازیوں کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارنا شروع کر دیئے ہیں.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست اترپر دیش کے ضلع پرتاپ گڑھ کی تھانہ سٹی کوتوالی پولس نے پولیس لائن میں موجود مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے پر مقدمہ درج کر لیا،بھارتی پولیس نے تین نامزد نمازیوں سمیت متعدد نامعلوم افراد پر مقدمہ درج کرتے ہوئے سنگین دفعات لگا لیں،بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی پولیس نے جمعہ کی نماز ادا کرنیوالوں پر دفعہ بی 147، 149، 332، 153 و 504 لگائیں اور مذہبی منافرت کی بھی دفعات لگائیں.

پرتاپ گڑھ کی پولیس لائن مسجد میں جب نمازی جمعہ پڑھنے کے لئے جانے لگے تو انہیں روکا گیا لیکن نمازیوں نے جس میں وکلاء بھی شامل تھے مسجد میں گئے اور نماز جمعہ ادا کی اس موقع پر انکی پولیس کے ساتھ جھڑپ بھی ہوئی.نمازیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس مسجد میں انگریز دور سے نماز پڑھتے آ رہے ہیں تو اب انہیں کیوں روکا جا رہا ہے۔ واقعہ کے دوسرے روز پولیس نے نمازیوں پر مقدمہ درج کر لیا ہے.

ایڈیشنل پولس سپرنٹنڈنٹ مشرقی سریندر دیویدی کا کہنا ہے کہ پولس لائن مسجد میں بغیر اجازت کے کسی باہر سے آنیوالے شخص کے نماز پڑھنے پرپابندی ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈر اسرار احمد، شجاعت اللہ ایڈوکیٹ اور ظفر الحسن ایڈوکیٹ اپنے کارکیان کے ہمراہ پولیس لائن مسجد میں آئے اور نماز جمعہ ادا کی۔ تھانہ سٹی کوتوالی پولس نے پولس لائن آر آئی شیلیندر سنگھ کی شکایت پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنماؤں سمیت دیگر نمازیوں پر مقدمہ درج کیا ہے.

پولیس لائن مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے والے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما ظفرالحسن ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ پولس لائن مسجد میں انگریز کے زمانہ سے نماز پڑھی جا رہی ہے۔ موجودہ پولس سپرنٹنڈنٹ ابھشیک نے جمعہ کو مسجد میں نماز پڑھنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ لوگوں کو روکا گیا جس پر مذاحمت کی گئی.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.